وقف بورڈ میں خواتین قاضی کی تقرری پر اٹھے سوال،ایک خاتون قاضی کی جگہ کیسے لے سکتی ہے
03:29PM Wed 9 May, 2018
Share:
مردوں سے بھرے ایک آڈی ٹوریم میں جب دو برقعہ نشیں خواتین پہنچتی ہیں تو سب کی نظریں ان کی طرف مڑ جاتی ہیں۔وقف بورڈ کی میٹنگ میں خواتین کا شامل ہونا عام بات نہیں ہے۔وقف کے ایک ممبر کہتے ہیں کہ ان دو خواتین پر انہیں فخر ہے۔تمل ناڈو کی رہنے والی عمات العاطفہ (36) اور فاطمہ مظفر پہلی دو خواتین ہیں جنہیں وقف بورڈ میں قاضی کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔یہ دونوں نہ صرف روایت کو توڑ رہی ہیں بلکہ ان کی حیثیت سے تقرری کو لیکر بحث جاری ہے۔
اڈیشہ وقف بورڈ کے ایک بزرگ ممبر فخر سے کہتے ہیں "تملناڈو نے یہ کرشمہ کیسے کر دکھایا?" اس پر دیگر ممبر کہتے ہیں 'إیری دعا ہے کہ دونوں اس کام میں کامیاب ہوں اور نئی ترقی و بلندیوں پائیں'۔دونوں کواتین نے وقف بورڈ میں سنی گرپ کے سربراہ قاضی محمد صلاح الدین ایوب اور شیعہ گروپ کے سربراہ قاضی غلام مہندی خان کا مقام لیا ہے۔اس سے پہلے یہ جگہ صرف قاضیوں کو دی جاتی تھی۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں جب تمل ناڈو میں خواتین وقف بورڈ میں شامل ہوئی ہیں۔2002 میں بدر سعید وقف بورڈ کی صدر رہ چکی ہیں ۔اس کے بعد کے سالوں میں بھی بورڈ میں خاتون ممبر شامل رہی ہیں۔حالانکہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب خواتین کو بورڈ میں قاضی کے مقام میں شامل کیا گیا ہو۔