پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال
12:39PM Wed 6 Jun, 2018
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شعبہ اردو اپنے ایک قدیم استاد اوراردو دنیا فکشن کے ایک ناقد سے محروم ہوگئی
شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قدیم استاد پروفیسر عظیم الشان صدیقی ۴،جو ن۲۰۱۸کو دلی کے دریا گنج میں مغرب کے وقت انتقال کرگئے ۔۵،جون کی صبح ان کی تدفین دلی کے پنچ پیران قبرستان میں ہوئی ۔مرحوم ایک عرصے سے بیمار تھے۔دلی کے ادبی جلسوں اور دیگر تقریبات میں ان کا آنا جانا تقریباً موقوف ہوگیا تھا ۔پس ماندگان میں ایک بیٹا علی ارشد اور بیوہ شامل ہیں۔
عظیم الشان صدیقی ۱۰،اکتوبر ۱۹۳۵ کو دلی میں پیدا ہوئے ۔اعلی تعلیم انھوں نے دلی یونی ورسٹی سے حاصل کی جہاں پروفیسر محمد حسن کے زیر نگرانی ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا ۔
پروفیسر عظیم الشان صدیقی نے شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اپنے ادبی زندگی کا آغاز کیا۔وہ شعبہ کے صدر بھی رہے ۔ اچھے استاد کے ساتھ ساتھ انھوں نے متعدد اہم کتابیں یادگار چھوڑیں جو اردو نصاب کا اہم حصہ ہیں۔اظہار خیال(۱۹۹۰) اور افسانوی ادب(۱۹۸۳) ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کے مجموعے ہیں ۔اس کے علاوہ مضامین سیدین(۱۹۸۸)مشاہیر کی آب بیتیاں(۲۰۰۰)افسانہ نگار پریم چند:تنقیدی وسماجی محاکمہ(۲۰۰۶)اردو ناول آغاز و ارتقا(۲۰۰۸)ان کی اہم کتابیں ہیں ۔۱۹۹۹میں وہ شعبۂ اردو سے سبکدوش ہوئے ۔
عظیم الشان صدیقی کو دلی اردو اکیڈمی نے ’’اردو کی تخلیقی نثر‘‘نامی ایوارڈ سے سرفراز کیا تھا اس کے علاوہ بھی متعدد اکیڈمیوں سے انھیں ایوارڈ ملے تھے۔وہ دہلی اردو اکیڈمی کی کورننگ کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔
ان کے انتقال سے ادبی دنیا سوگوار ہے ۔شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر اور دلی اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ عظیم الشان صدیقی ایک فرض شناس استاد اور بہترین آدمی تھے ۔یوں تو وہ زبان و ادب کی تدریس کے ماہر تھے لیکن فکشن تنقید ان کا خاص میدان تھا ۔کئی برس تک ہم دونوں ایک ہی چیمبر میں بیٹھتے تھے ۔وہ ہمیشہ مجھے سے نہایت اپنائیت سے پیش آتے تھے ۔ان کے انتقال سے ہمارا،ہمارے شعبے کا اور اردو زبان و ادب کا بہت نقصان ہوا ہے ۔
ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا جامعہ اپنے نہ صرف ایک قدیم استاد سے محروم ہوگئی ہے بلکہ ہم ایک اصول پرست انسان سے بھی محروم ہوگئے ہیں ۔ پروفیسر علوی نے کہا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ بہت واضح اور صاف ہے ۔ان میں کسی طرح کا الجھاؤ نہیں ہے ۔وہ اپنے طلبہ کا بہت خیال کرتے تھے ۔
پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے کہا کہ وہ سرگرم ترقی پسند ادیبوں میں تھے اور ہمیشہ اپنے نظریے پر قائم رہے ۔وہ کلاس میں بہت پابندی سے آتے تھے چاہے کوئی بھی موسم ہو ۔اور اسی لیے لڑکوں میں وہ مقبول تھے ۔
پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ عظیم الشان صدیقی نہایت وضع دار اور مرنجامرنج انسان تھے۔انھوں نے کہا کہ عظیم الشان صاحب بہت بے نیاز قسم کے انسان تھے ورنہ فکشن پر ان کے جو کام ہیں وہ بہت بنیادی اور اہم ہیں افسوس ہے کہ ان پر بہت زیادہ لکھا نہیںگیا ۔شعبہ اردو میں جن لوگوں کی وجہ سے زندگی تھی ان میں عظیم الشان صاحب کا شمار ہوتا تھا۔
پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ پریم چند اور ڈپٹی نذیر احمد پر ان کی کتابیں اور تحریریں اہمیت کی حامل ہیں ۔فکشن کی تنقیدی زبان لکھنے کا خاص ہنر ان کے یہاں تھا ۔
پروفیسر عبدالرشید نے کہا کہ اردوزبان وادب کے لیے یہ بڑا سانحہ ہے ۔ایک بے لوث ادیب اور اچھا انسان ہمارے درمیان سے چلا گیا ہے ۔عظیم الشان صدیقی کا جانا دہلوی ادب کا بھی خسارہ ہے
ڈاکٹر عمیر منظر نے کہا کہ عظیم الشان صدیقی کا شمار اردو کے ان اساتدہ میں کیا جاتا ہے جو کلاس روم سے کبھی غیر حاضر نہیں رہے ۔وہ نہایت پابندی سے کلاس لیتے تھے اور طلبہ کے ساتھ نہایت ہمدردانہ رویہ رکھتے تھے ۔ان کے جانے سے ایک اچھے استاد اور بہترین اسکالرسے ہم محروم ہوگئے ہیں ۔