اے ایم یو - جناح تنازع پر حامد انصاری نے توڑی خاموشی ، کہا : واقعہ کے وقت سے اٹھتا ہے سوال

02:08PM Sun 13 May, 2018

نئی دہلی : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کو لے کر تنازع پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے سابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی اے ایم یو طلبہ کے مطالبہ کی حمایت کی ہے۔ خیال رہے کہ اے ایم یو کیمپس میں ہنگامہ اس وقت شروع ہوا تھا ، جب حامد انصاری ایک پروگرام کیلئے وہاں موجود تھے۔ حامد انصاری نے کہا کہ کیمپس میں داخل ہوئے لوگوں کے خلاف پرامن آندولن قابل تعریف ہے۔ اس پروگرام میں انصاری کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی تاحیات رکنیت دی جانی تھی ۔ حالانکہ پروگرام دائیں بازو کے ہندوکارکنوں کے تشددکی وجہ سے رد کردیا گیا تھا۔
اے ایم یو میں تعلیم حاصل کرچکے حامد انصاری نے کہا کہ رکاوٹ ڈالنا ، اس کا وقت اور اسے صحیح ٹھہرانے کیلئے بنایا گیا بہانا سوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے اے ایم یو طلبہ یونین کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ اس کو لے کر طلبہ کا پرامن احتجاج قابل تعریف ہے۔ انہیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اس کی وجہ سے کسی بھی طرح ان کی تعلیمی سرگرمیاںمتاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو مئی کے پروگرام کے بارے میں سب کو معلومات تھی ، جس میں کینیڈی آڈیٹوریم میں ان کی ایک تقریر شامل تھی ۔ پروگرام سے وابستہ افسروں کو باضابطہ اس سے معلومات دی گئی تھی اور وہ ایسے موقع پر ہونے والی سیکورٹی سمیت سبھی بندوبست سے باخبر تھے۔ سابق نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس کے باوجود کیمپس میں داخل ہونےو الے لوگوں کا یونیورسٹی گیسٹ ہاوس تک پہنچنا ابھی بھی راز بناہوا ہے، جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا ۔ سابق نائب صدر انصاری نے انہیں اعزاز دینے کیلئے اے ایم یو طلبہ یونین اور اس کے عہدیداروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔