شہریت ترمیمی قانون کو لے کر وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن پارٹیوں پر سادھا نشانہ ، کہی یہ بڑی بات
12:44PM Thu 6 Feb, 2020
وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن جماعت کانگریس پر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر بھرم پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے جمعرات کو یقین دلایا کہ اس سے ملک کے کسی بھی اقلیتی شہری کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر ایوان میں تین دن تک چلی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کانگریس اور اس کے دور اقتدار پر زور دار حملہ کیا۔ انہوں نے اہم اپوزیشن جماعت کو 1947 میں ملک کی تقسیم کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کسی کو وزیراعظم بننا تھا ، اس لئے ہندستان کے اوپر ایک لکیر کھینچی گئی اور ملک کو تقسیم کردیا گیا ۔ ان کا اشارہ پہلے وزیراعظم نہرو کی طرف تھا۔
وزیراعظم نے تقریبا 100منٹ کے اپنے جواب میں بیشتر وقت سی اے اے کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ اس قانون میں ہندستان کے کسی بھی شہری پر کسی طرح کا اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کی اقلیتوں کو اس سے کسی طرح کا نقصان نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم مودی نے کانگریس اور اپوزیشن پر اس قانون کے تعلق سے خوف پیدا کرنے اور پاکستان کی زبان بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے پاکستان نے ہر کھیل کھیلا ، اب اس کی بات نہیں کرپا رہی تو لوگوں نے جن کو اقتدار کو تخت سے گھر بھیج دیا تو وہ اس کی زبان بول رہے ہیں۔
انہوں نے 1984 کے سکھ فسادات کے لئے کانگریس کوکٹھہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو 1984 کے سکھ فسادات یاد ہیں ؟ کیا وہ اقلیت نہیں تھے۔ فساد بھڑکانے کے ملزمین کو وزیراعلی بنا دیتے ہیں ۔ بیواؤں کو انصاف کے لئے تین تین دہائی تک انتظار کرنا پڑا۔ کیا وہ اقلیت نہیں ہیں۔ کیا اقلیت کے لئے دو دو ترازو ہوں گے؟۔
انہوں نے پنڈت نہرو کے خطوط اور ایوان میں ان کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور پہلے وزیراعظم نہرو بھی اس طرح کے سی اے اے جیسے قانون کے حق میں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 1950 کے نہرو لیاقت سمجھوتہ میں پنڈت نہرو نے ’اقلیت‘ لفظ کیوں استعمال ہونے دیا۔ اس وقت انہوں نے’تمام شہری‘ کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا۔ اس معاہدہ میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے یہاں اقلیتوں پر مظالم نہیں ہونے دیں گے۔