بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیر کو با عزت رہا کرنے کی مانگ
10:41AM Sat 27 Jul, 2013
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیر کو با عزت رہا کرنے کی مانگ
بھٹکلیس نیوز /27جولائ 13
نئی دہلی/بنگلہ دیش جماعتی اسلامی ہند کے سابق امیر 90سالہ پروفیسر غلام اعظم کے وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ذریعہ قائم کردہ نام نہادٹریبیونل کے ذریعہ 90سال کی سزا سنائے جانے دید مذمت کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے اس مقدمہ کو فرضی،متعصبانہ اور بنگلہ دیش کی معروف اسلام پسند شخصیات کو ملک کے سیاسی منظر سے ختم کرنے ایک بڑی سازش کا حصہ قار دیا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے آج ایک بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش کے بزرگ اسلامی رہنماء پر 1971ء کے واقعات کے پس منظر میں لگائے گئے فرضی الزامات کو حسینہ حکومت ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے اور جس ٹریبیونل نے سزا کے عنوان پر یہ ظالمانہ اقدام کیا ہے اس کو اقوام متحدہ نے بین الاقوامی معیار نہیں قرار دیا ہے۔مولانا نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بنگلہ دیش نے ملک کے اسلامی فکر کے حامل جن افراد کو سازش کے تحت منصوبہ سزائیں دلوائی ہیں ان کی سزائیں ختم کی جائیں اور انھیں باعزت رہا کیا جائے۔اس موقع پرامیر جماعت نے دنیا کے تمام انصاف پسن ملکوں،تنظیموں اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس ظالمانہ اقدام کے خلاف آواز بلند کرے۔