مہادائی معاملے میں تبادلہ خیال کرنے کے بعد اپیل دائر کرنے کا فیصلہ دستور کی نقل جلا کر ہمارے عظیم لیڈروں کی بے حرمتی کی گئی ہے: جی پرمیشور

04:12PM Thu 16 Aug, 2018

ٹمکور:15؍ اگست (سالارنیوز) مہادائی ندی کے پانی کے معاملے میں آبی تنازعہ ٹریبونل نے ریاست کیلئے 13.42 ٹی ایم سی پانی تقسیم کیا ہے۔ اس بارے میں تبادلہ خیال کر کے اپیل دائر کی جائے یا نہیں اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔ انہوں نے یہاں ٹمکور کے مہاتما گاندھی اسٹیڈیم میں منعقدہ یوم آزادی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کیلئے 34 ٹی ایم سی پانی تقسیم کئے جانے کے گزارش کی گئی مگر ٹریبونل نے صرف 13.42 ٹی ایم سی پانی تقسیم کیا ہے۔پینے کے پانی کے منصوبے کیلئے منظوری ملی ہے اس سے تھوڑا اطمینان ضرور ہوا ہے، مگر کسانوں کا مطالبہ پورا نہیں ہوسکا ہے۔ کسانوں کیلئے مزید 10ٹی ایم سی پانی چاہئے اس بارے میں حکومت غور کرے گی۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ مہادائی فیصلہ میں مرکزی حکومت کی مداخلت ہونے کی بات غلط ہے عدالت کے فیصلے میں کسی کی بھی مداخلت ممکن نہیں ہے مگر ہمیں انصاف دلانے میں وزیر اعلیٰ ناکام ہوئے ہیں اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے علاقے میں پانی کا معاملہ پیش آئے تو کسی بھی سیاسی پارٹی کو ترجیح دئے بغیر سب کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ درج فہرست ذات اور قبائلوں کے لئے سرکاری ملازمت میں ریزرویشن کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے۔ اگر عدالت کا فیصلہ آنے میں تاخیر ہو تو اس سے قبل پیش کئے گئے بل کو ہی آگے بڑھایا جائے گا۔کسی بھی صورت میں ایس سی ایس ٹی طبقہ کے ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دیں گے۔ دستور ہند کی نقل کو جلانا ہمارے عظیم لیڈروں کی بے حرمتی ہے، اس طرح کی ناپاک حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ہر سال بنگلور میں منعقد ہونے والے ایر شو کو اگر منتقل کیا گیا تو وہ صرف سیاسی دشمنی ہی ہے اس کے سواء کوئی سبب نہیں ہوسکتا، ایر شو کو ریاست سے منتقل ہونے نہیں دیا جائے گا۔اس طرح کا بیان اننت کمار اور ایڈی یورپا کی طرف سے بھی دیا گیا ہے یہ قابل تعریف ہے، ریاستی حکومت بھی اس کے حق میں نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں ایر شو کو اترپردیش منتقل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ پرمیشور نے کہا کہ بنگلور میں مقیم غیر ملکی باشندوں کے پاس اگر ضروری دستاویز نہیں ہیں تو ایسے لوگوں کو واپس ان کے ملک بھیج دیا جائے گا۔اب تک تقریباً 107 آفریقی شہریوں کو واپس روانہ کردیا گیا ہے، بنگلہ دیش سمیت دیگر کسی بھی ملک کے باشندے اگر بغیر دستاویز کے رہ رہے ہوں تو ان کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے گی۔پرمیشور نے کہا کہ ریاست میں جنسی یکسانیت کے اصول کی بنیاد پر قوانین کو خصوصی مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ مختلف عوامی اور فلاحی منصوبوں کے ذریعہ ریاست کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔