دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہیں: روس کا اعلان
03:54PM Thu 30 Aug, 2018
روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ میں روس سعودی عرب کے شانہ بشانہ لڑتا رہے گا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماسکو میں سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شام میں پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے حالات ساز گار بنانے کی خاطر تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔
دونوں رہ نماؤں نے شام کی تازہ صورت حال بالخصوص ادلب میں اسد رجیم کی فوجی کارروائی کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔ لافروف کا کہنا تھا کہ ادلب کے معاملے میں ماسکو ترکی اور اسد رجیم کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ادلب کے معاملے میں ترک فوج اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ صلاح مشورہ کیا ہے۔ النصرہ اور دوسرے مسلح گروپوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے حوالے سے انقرہ اور ماسکو کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عسکری ماہرین ترکی کے ساتھ طے پائے معاہدے کو عمل شکل دینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ ہماری مغربی دوست ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کریں گے۔
روسی وزیر خارجہ نے الزام عاید کیا کہ امریکا نے خان شیخون میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات کرنے والے عالمی مبصرین کو روکنے کے لیے ان پر راکٹ حملے کئے۔
’شام میں النصرہ کا تحفظ موجودہ اور سابقہ امریکی انتظامیہ کا ہدف تھا۔ سنہ 2017ء کو ہم نے اصرار کیا تھا کہ بین الاقوامی مبصرین اور جوہری اسلحہ کے معائنہ کمیشن کو الغوطا میں روانہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کے عن قریب سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے تیاریاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور روس دو ارب ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی آئل کمپنی ارامکو اور روس کی ’گیس بروم‘ کے درمیان بھی تعاون جاری رہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے بہترین حج انتظامات اور روسی حجاج کرام کو ہرطرح کی سہولیات مہیا کرنے پر بھی ریاض کا شکریہ ادا کیا