دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری ممبئی حج ہاؤ س کے امام نے جمعیۃ علما ہند کا شکریہ ادا کیا

12:18PM Wed 20 Jun, 2018

ممبئی میں واقع حج ہائوس میں امامت کے فرائض انجام دینے والے مولانا غلام یحیٰ کو ممبئی ہائی کورٹ نے گذشتہ ہفتہ دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کئے جانے والے نچلی عدالت کے فیصلہ کی تصدیق کی تھی، نے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر پہنچ کر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم اعظمی، سکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی، ناظم نشرو اشاعت مولانا عارف عمری، لیگل ایڈوائزرایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری و دیگرسے ملاقات کرکے انہیں بروقت قانونی امداد دینے کے لئے جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا غلام یحیٰ نے اس موقع پرکہا کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورے ملک میں ان کی بدنامی ہوئی تھی اور انہیں ملازمت سے معطل بھی کردیا گیا تھا، اب جبکہ جمعیۃ علماء کی مدد سے انہیں دہشت گردی کے الزامات سے ممبئی ہائی کورٹ نے باعزت بری کردیا ہے ، ان کی خواہش ہیکہ انہیں ملازمت پر فوراً بحال کیا جائے اور ان کے بقایا جات ادا کیئے جائیں ۔
مولانا غلام یحیٰ نے سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی سے گذارش کی کہ وہ حج کمیٹی سی ای او سے خط و کتابت کرکے انہیں ملازت پر بحال کرنے کی درخواست کریں۔ گلزار اعظمی نے مولانا غلام یحیٰ کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس گوئی اور جسٹس کوتوال کے فیصلہ کی اصل نقول موصول ہوتے ہی اس جانب کارروائی کی جائے گی۔ مولانا غلام یحیٰ کے مقدمہ کے تعلق سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ کو14 جون2006   کو مولانا گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں نچلی عدالت سے مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے بعد ہی جیل سے رہائی نصیب ہوئی تھی ، اس دوران مولانا نے ساڑھے چار سال آرتھر روڈ جیل میں گذارے۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ نچلی عدالت سے رہائی ملنے کے باوجود مولانا یحیٰ کی پریشانی میں اضافہ اس وقت بڑھ گیا جب ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ اے ٹی ایس نے مولانا کو نچلی عدالت سے ملنے والی راحت کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ، اس دوران مولانا کو ضمانتدار مہیا نہ کرانے کی صورت میں چار ماہ کے لیئے دوبارہ جیل میں جانا پڑا۔ واضح رہے کہ 2006 میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا (حج ہائوس) کی مسجد میںا مامت کے فرائض انجام دینے والے غلام یحیٰ کو اس الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ انہوں نے تین کشمیری دہشت گردوں کو مبینہ پنا دی تھی اور وہ ان کے مسلسل رابطہ میں تھے جو ممبئی میں دہشت گردانہ کاروائیا انجام دینے کی غرض سے آئے تھے۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد نچلی عدالت نے ایک جانب جہاں غلام یحیٰ کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا تھا وہیں تین کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت سات سال قید بامشقت کی سزاء سنائی تھی۔