نکاراگوا بحران: تشدد کے بعد جنگ بندی پر اتفاق
03:34PM Sun 17 Jun, 2018
ماناگوا: وسطی امریکی ملک نکاراگوا میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری تشدد کے بعد حکومت اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان جنگ بندی کو لے کر اتفاق ہو گیا ہے. پرتشدد واقعات میں 170 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ بی بی سی نیوز نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لئے فیکٹ کمیشن کے قیام اور بین الاقوامی تفتیش کاروں کو ملک میں جانچ پڑتال کی منظوری بھی حکومت نے دے دی ہے۔دارالحکومت ماناگوا میں ہونے والی بات چیت کی ثالثی رومن کیتھولک چرچ نے کی تھی۔
صدر ڈینیل اورٹیگا کی حکومت کی جانب سے پنشن اور سوشل سیکورٹی کے پروگراموں میں کمی کئے جانے کے بعد گزشتہ 19 اپریل سے حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ ان کٹوتیوں کے فیصلے کو بعد میں واپس لے لیا گیا لیکن اورٹیگا کی حکومت کی مخالفت میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔
سرکاری حکام، اپوزیشن سول سوسائٹی گروپوں اور کیتھولک پادریوں نے کہا کہ تمام فریقوں کی طرف سے تشدد اور دھمکیوں کو فوری طور پرختم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹ کمیشن تمام موتوں اور پر تشدد سرگرمیوں کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کی شناخت بھی کرے گا۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر، انسانی حقوق پر بین امریکی کمیشن (آئی اے سی ایچ آر ) اور یوروپی یونین کے نمائندوں کو نکاراگوا میں تحقیقات میں مدد کے لئے مدعو کیا جائے گا.آئی اے سی ایچ آر نے گزشتہ ماہ نکاراگوا دورے کے دوران یہاں مظاہروں میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایت کی تھی۔
2007 سے اقتدار میں آنے والے مسٹر اورٹیگا کی کے لئے گزشتہ دو ماہ سے جاری احتجاج سنگین چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے. ان کے ناقدین ان پر آمریت پسندانہ رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہیں۔