سوامی اگنی ویش پر حملہ کے خلاف میسور میں ایس ڈی پی آئی کا احتجاجی مظاہرہ

01:28PM Sun 29 Jul, 2018

میسور 29جولائی (پیر پاشاہ ) حال ہی میں اتر کھنڈ کے ایک جلسہ عام میں سوامی اگنی ویش پر چند فرقہ پرست قوتوں کے کارکنوں کے ذریعہ کئے گئے حملہ اور ماب لنچنگ کے خلاف میسور میں ایس ڈی پی آئی شاخ ضلع میسور کے زیر اہتمام یف ٹی یس سرکل میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر کے مجسمے کے روبرو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اس موقع پر احتجاجی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئیے سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے میسور ضلع کے صدر اعظم پاشاہ نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات دن بدن تشویشناک بنتے جارہے ہیں اگر ان فر قہ پرستوں کو وقت رہتے جواب نہیں دیا جاتا تو دیش مزید برے اور خطرناک حالات کا شکار ہو سکتا ہے ہر سکیو لر باشندہ کو اصل فکر کی جانب راغب ہونے کی اشد ترین ضرورت ہے ۔ اعظم پاشاہ نے مزید کہا کہ سوامی اگنی و یش نے چند دن قبل جھارکنڈ میں ایک اجلاس عام کے دوران سنا تھن دھرم کے سلسلہ میں خطاب کیا اور کھلم کھلا کہا تھا کہ سناتھن مذہب میں مورتی پوجا جیسی رسم کی اجازت نہیں ہے اس بات کو لیکر وہاں کے مقامی فرقہ پرست آر ایس ایس کے کارندوں نے نہ صرف پٹائی کی بلکہ انہیں زخمی بھی کر دیا کیا ہمیں معلوم نہیں کہ اس ملک کا آئین ہم تمام کو ہمارے مذہبی طور طریقوں سے جینے کا پورا پورا حق دیتا ہے ۔فرقہ پرستوں کو اپنی مذہبی کتابوں کو پیش کرتے ہوئے دکھانا تھا کہ سوامی اگنی ویش نے غلط کہا ہے مذہب میں ایسا نہیں ہے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ایسا کھیل کھیلا جس سے انسانیت شرمسار ہوجائے ابھی کچھ دن قبل گؤ ماتا کے تحفظ کے نام پر ایک اور مسلم نوجوان اکبر خان کو راجستھا ن کے ایک علاقہ میں ماب لنچگ کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فاضل جج مشرا نے حکم دیا تھا کہ اس ملک میں جو کوئی بھی گؤ ماتا کے نام پر ماب لنچنگ کی آڑ میں قتل وغارت گری کرے گا اسے بخشا نہیں جائے گا ، سخت سزا دی جائے گی کیا اب سوامی اگنی ویش پر حملہ کرنے والے اور اکبر خان کے قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا مل پائے گی ؟کیا اس قانون پر عمل ہوگا ؟کیا اب ملک میں ماب لنچنگ جیسی خطرناک وباء کو بند کرنے میں مرکزی حکومت یقینی کارروائی کرے گی ان تمام سوالوں کے جواب حکومت کی جانب سے لئے جانے والے اقدا مات ہی سے مل سکتا ہے جسکی کوئی امید نہیں ہے اس لئے سال2019کے پارلیمانی انتخابات میں ملک کا ہر سکیو لر فرد جوملک کو دوبارہ امن وامان والا ملک دیکھنا چاہتا ہے اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے فرقہ پرست پارٹیوں کو اقتدار سے دور رکھنا چاہئے۔ یہی وقت کی آواز بھی ہے۔ اس احتجاجی مظاہرہ کے دوران کوشان بیگ ،تبریز سیٹھ ، جمیل اور دیگر موجود تھے۔