صدر جمہوریہ کا قوم کے نام خطاب : فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے ملک ، توجہ ہٹانے والے معاملات میں نہ الجھیں
02:42PM Tue 14 Aug, 2018
Share:
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے یوم آزادی کے موقع پر آج شام قوم کے نام خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ کل ہماری آزادی کے اکہتر برس پورے ہور ہے ہیں۔ کل ہم اپنی آزادی کی 72ویں سالگرہ منائیں گے۔ قومی افتخار کے اس موقع پر میں آپ تمام اہل وطن کو مبارک باد دیتا ہوں۔ 15 اگست کا دن ہر ہندوستانی کے لئے متبرک ہوتا ہے، خواہ وہ ملک میں ہو یا بیرون ملک میں۔اس دن ہم سب اپنا قومی پرچم اپنے اپنے گھروں، اسکولوں، دفتروں، میونسپلٹیوں، گرام پنچایتوں ، سرکاری اور نجی عمارتوں پر پورے جوش و خروش کے ساتھ لہراتے ہیں۔ہمارا ترنگا ہماری قومی سا لمیت کی علامت ہے۔ اس دن ہم ملک کی خود مختاری کا جشن مناتے ہیں اور اپنے ان آباو اجداد کے رول کو پوری احسان مندی کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جن کی کوششوں سے ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔یہ دن قوم کی تعمیر میں ان بقیہ کاموں کی تکمیل کے لئے عہد کرنے کا بھی دن ہے ، جنہیں ہمارے باصلاحیت نوجوان بلاشبہ مکمل کریں گے۔
سن 1947 میں 14 اور 15 اگست کی نصف شب کے وقت، ہمارا ملک آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی ہمارے آباو اجداد اور قابل احترام مجاہدین آزادی کی برسوں کی قربانیوں اور بہادری کا نتیجہ تھی۔جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے تمام بہادر مرد و خواتین ، غیر معمولی طورپر شجاعت مند اور دوراندیش تھے۔اس جنگ میں ملک کے تمام علاقوں، سماج کے تمام طبقات اور فرقوں کے افراد شامل تھے۔وہ چاہتے تو آرام دہ زندگی گذار سکتے تھے ۔ لیکن ملک کے تئیں بے پناہ لگن کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ایک ایسا آزاد اور خود کفیل ہندوستان بنانا چاہتے تھے ، جہاں سماج میں مساوات اور بھائی چارا ہو۔ہم ان کے کارناموں کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں۔ ابھی 9 اگست کو ہی ’ہندوستا ن چھوڑو تحریک‘ کی 76 ویں سالگرہ پر مجاہدین آزادی کو راشٹرپتی بھون میں اعزاز سے نوازا گیا ۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایسے عظیم دیش بھکتوں کی وراثت ملی ہے۔ انہوں نے ہمیں ایک آزاد ہندوستان سونپا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کچھ ایسے کام بھی سونپے ہیں ، جنہیں ہم مل کر پورا کریں گے۔ملک کی ترقی کرنے اور غربت اور عدم مساوات سے آزادی حاصل کرنے کے یہ اہم کام ہم سب کو کرنے ہیں۔ ان کاموں کو پورا کرنے کی سمت میں ، ہماری قومی زندگی کی ہر کوشش، ان مجاہدین آزادی کے تئیں ہمارا خراج عقیدت ہے۔
اگر ہم آزادی کا صرف سیاسی مطلب لیتے ہیں تو محسوس ہوگا کہ 15 اگست 1947 کے دن ہمارا مقصد پورا ہوچکا تھا۔ اس دن استعماری حکومت کے خلاف جنگ میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی اور ہم آزاد ہوگئے۔ لیکن آزادی کا ہمارا نظریہ کافی وسیع ہے۔ اس کی کوئی لگی بندھی اور محدود تعریف نہیں ہے۔ آزادی کے دائرے کو بڑھاتے رہنا، ایک جہد مسلسل ہے۔1947میں سیاسی آزادی ملنے کے ، اتنی دہائیوں بعد بھی، ہر ہندوستانی، ایک مجاہد آزادی کی طرح ہی ملک کے تئیں اپنا رول ادا کرسکتا ہے۔ ہمیں آزادی کو نئی جہتیں دینی ہیں اور ایسے اقدامات کرتے رہنا ہے جن سے ہمارے ملک اور اہل وطن کو ترقی کے نئے نئے مواقع دستیاب ہوسکیں۔
ہمارے کسان ان کروڑوں اہل وطن کے لئے اناج پیدا کرتے ہیں، جن سے وہ کبھی آمنے سامنے ملے بھی نہیں ہوں گے۔ وہ ملک کے لئے فوڈ سیکورٹی اور غذائیت بخش اناج دستیاب کراکر ہماری آزادی کو قوت فراہم کرتے ہیں۔جب ہم ان کے کھیتوں کی پیداوار اور ان کی آمدنی میں اضافہ کے لئے جدید ٹکنالوجی اوردیگر سہولیات فراہم کراتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔
ہمارے مسلح افواج سرحدوں پر، برفیلی پہاڑوں پر، چلچلاتی دھوپ میں، سمندر اور آسمان میں، پوری بہادری اور چوکسی کے ساتھ ملک کی سلامتی کے لئے ہمیشہ چاق وچوبند رہتے ہیں۔وہ بیرونی خطرات سے حفاظت کرکے ہماری آزادی کو یقینی بناتے ہیں۔ جب ہم ان کے لئے بہتر ہتھیار فراہم کراتے ہیں ، ملک میں ہی دفاعی ساز وسامان کے لئے سپلائی چین ڈیولپ کرتے ہیں اور ان مسلح افواج کی فلاح و بہبود کے لئے سہولیات فراہم کرتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔
ہماری پولیس اور نیم فوجی دستے مختلف طرح کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہیں اور جرائم کی روک تھام اور قانون و انتظام کی حفاظت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ، قدرتی آفات کے وقت وہ ہم سب کو سہارا دیتے ہیں۔ جب ہم ان کے کام کاج اور ذاتی زندگی میں سدھار لاتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔
خواتین کاہمارے سماج میں ایک اہم رول ہے۔ کئی معنوں میں خواتین کی آزادی و سیع تر بنانے میں ہی ملک کی آزادی کی معنویت پنہاں ہے۔ یہ معنویت گھروں میں ماووں، بہنوں اور بیٹیوں کی شکل میں اور گھر سے باہر اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی جینے کی ان کی آزادی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انہیں اپنے ڈھنگ سے جینے کا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کے لئے محفوظ ماحول اور موقع ملنا ہی چاہئے۔ وہ اپنی صلاحیت کا استعمال خواہ گھر کی ترقی کے لئے کریں یا پھر ہمارے ورک فورس یا اعلی تعلیمی اداروں میں اہم تعاون دے کر کریں۔ انہیں اپنے متبادل منتخب کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہئے۔ ایک قوم اور سماج کے طور پر ہمیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ خواتین کو ، زندگی میں آگے بڑھنے کے تمام حقوق اور مواقع دستیاب ہوں۔
جب ہم خواتین کے ذریعہ چلائے جانے والے کارخانوں یا اسٹارٹ اپ کے لئے اقتصادی وسائل دستیاب کراتے ہیں ، کروڑوں گھروں میں ایل پی جی کنکشن پہونچاتے ہیں اور اس طرح خواتین کو بااختیار بناتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔
ہمارے نوجوان ہندوستان کی امیدوں اور امنگوں کی بنیاد ہیں۔ ہماری جدوجہد آزادی میں نوجوانوں اور بزرگوں ، سبھی کی سرگرم شراکت تھی۔ لیکن اس جنگ میں جوش بھرنے کا کام خاص طورپر نوجوان طبقے نے کیا تھا۔ آزادی کی چاہت میں بھلے ہی انہوں نے الگ الگ راستوں کا انتخاب کیا ہو لیکن وہ سبھی آزاد ہندوستان ، بہتر ہندوستان اور خوشحال ہندوستان کے اپنے آدرشوں اور عزائم پر قائم رہے۔
ہم اپنے نوجوانوں کے ہنرکو فروغ دیتے ہیں۔ انہیں ٹکنالوجی، انجینئرنگ اور انٹرپرینیورشپ کیلئے اور آرٹ اور فن کے لئے راغب کرتے ہیں ۔ انہیں موسیقی تخلیق کرنے سے لے کر موبائل ایپس بنانے اور کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے حوصلہ دیتے ہیں۔ اس طرح جب ہم نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو ابھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں تب ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔
میں نے قوم کی تعمیر کی کچھ مثالیں دی ہیں۔ ایسی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ درحقیقت ایسا ہر ہندوستانی جو اپنا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتا ہے، جو سماج کو اخلاقی تعاون دیتا ہے۔۔۔خواہ وہ ڈاکٹر ہو، نرس ہو، استاذ ہو، عوامی خدمت گار ہو ، فیکٹری ورکر ہو، تاجر ہو، بزرگ والدین کی دیکھ بھال کرنے والی اولاد ہو، یہ تمام اپنے اپنے طور سے آزادی کے آدرشوں پر عمل کرتے ہیں۔ یہ تمام شہری جو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں اور اپنا عہد نبھاتے ہیں، وہ بھی مجاہدین آزادی کے آدرشوں پر عمل کرتے ہیں۔ میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے جو اہل وطن قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور اپنے سے آگے کھڑے لوگوں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں وہ بھی ہمارے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بناتے ہیں۔ یہ ایک بہت چھوٹی سے کوشش ہے۔ آئیے ، کوشش کریں ، ہم سب اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
میں نے جو کچھ کہا ہے ، کیا وہ اب سے دس بیس سال پہلے، بامعنی نہیں رہا ہوگا؟ کچھ حد تک، یقینی طور پر یہ سب بامعنی رہے ہوں گے۔ پھر بھی آج ہم اپنی تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جواپنے آپ میں بہت مختلف ہے۔آج ہم ایسے اہداف کے کافی قریب ہیں جن کے لئے ہم برسوں سے کوشش کرتے رہے ہیں۔ سب کے لئے بجلی، کھلے میں رفع حاجت سے آزادی، تمام بے گھروں کو گھر اور انتہائی غربت کو دور کرنے کے اہداف اب ہماری دستر س میں ہیں۔ آج ہم ایک فیصلہ کن دور سے گذر رہے ہیں ۔ ایسے میں ہمیں اس بات پر زور دینا ہے کہ ہم توجہ بھٹکانے والے معاملات میں نہ الجھیں اور نہ ہی غیر ضروری تنازعات میں پڑ کر اپنے اہداف سے ہٹیں۔
تقریباً تین دہائی بعد، ہم سب آزادی کی ایک سوویں سالگرہ منائیں گے۔ پوری دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہمیں دنیا کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار سے، تبدیلی اور ترقی کرنی ہوگی۔ آج جو فیصلے ہم کررہے ہیں ، جو بنیاد ہم رکھ رہے ہیں ، جو منصوبے ہم شروع کررہے ہیں ، جو سماجی اور اقتصادی پہل ہم کررہے ہیں، انہیں سے یہ طے ہوگا کہ ہماراملک کہاں تک پہونچا ہے۔ ہمارے ملک میں تبدیلی اورترقی تیزی سے ہورہی ہے۔ اور اس کی تعریف بھی ہورہی ہے۔ہمارے ملک میں اس طرح کی تبدیلی ہمارے عوام، ہمارے سمجھدار شہریوں اور سماج اور حکومت کی شراکت سے ہورہی ہے۔ہمیشہ سے ہماری سوچ یہ رہی ہے کہ ایسی تبدیلیوں سے سماج کے محروم طبقات اور غریبوں کی زندگی بہتر بن سکے۔