شمالی کرناٹک کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے سدارامیا کو وزیر بناکر انصاف کیا جاسکتا ہے ۔ رایا ریڈی
02:44PM Wed 1 Aug, 2018
بنگلورو: یکم اگست،2018 (سالار نیوز) ریاست کو تقسیم کرنا پاپ اور ادھرم ہے ۔ شمالی کرناٹک ریاست کے لئے مٹھوں کے عہدیداران اور جیدکاروں کی جانب سے کی جارہی کوشش اور بند کی آواز یہ سب سیاسی چال ہے ۔ یہ بات سابق وزیر بسواراج رایا ریڈی نے کہی ۔ ودھان سودھا میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمالی کرناٹک کے معاملہ میں کانگریس نے کبھی سیاست نہیں کی ۔ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی مراعات و تحفظات فراہم کرتے ہوئے ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ رقم جاری کی گئی ۔ شمالی کرناٹک علاقوں کے لئے مناسب نمائندگی نہیں دی گئی ۔ عدم توازن ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کمار سوامی کو اس جانب توجہ دیتے ہوئے مسئلہ کا حل نکالنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کرناٹک کے ساتھ ہوئی ناانصافی کو درست کرنے کے لئے شمالی کرناٹک کے علاقہ سے نمائندگی کرنے والے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے ۔ اس معاملہ میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کرناٹک حصہ سے منتخب سینیٹ اور سنڈیکیٹ اراکین کی رکنیت کو بحال نہ رکھنے کا فیصلہ درست نہیں ہے ۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم جی ٹی دیوے گوڈا نے صحیح نہیں کیا ہے ۔ یونیورسٹیوں میں چند ماہ قبل نامزد سنڈیکیٹ اراکین کو برقرار رکھنا چاہئے تھا ۔