ایران : سر پر ’ٹھیک ‘ سے نہیں پہنا حجاب تو پولیس نے کر دی پٹائی

12:30PM Tue 24 Apr, 2018

ایران میں سر پر صحیح طریقہ سے حجاب نہ پہننے کے لئے مذہبی اصولوں کو پہرےداری کرنے والی خواتین پولیس اہلکاروں نے ایک خاتون کی پٹائی کر دی ۔ اس کا وڈیو سوشل میڈا پر کافی وائرل ہو رہا ہے ۔ اس حادثہ کے بعد خواتین کو ملک میں حجاب پہنے کے تحت بحث کافی تیز ہو گئی ہے ۔ .مذکورہ واقعہ کے تحت نہ صرف اعلی سطح کے افسران بلکہ صدر حسن روحانی تک اس بحث بھی شامل ہو گئے ہیں۔جبکہ ایران کی خواتین حجاب کے اصول کے ساتھ ساتھ شیعہ کثیرلاباد ملک میں اپنے عقاید پر بھی سوال کھڑے کر رہی ہیں.واضح ریے کہ۔ 1979 کی اسلامی مہم سے قبل حجاب مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی علامت بھی بن گئی تھی۔
افروز جس کی عمر 28 سال ہے ، نے سزا کے ڈر سے پورا نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ میں وہ انسان تھی جو ہمیشہ نماز ادا کرتی تھی اور اللہ میں پورا یقین کرتی تھی۔میں کھانے سے قبل ہمیشہ شکریہ ادا کرتی تھی ۔ لیکن اب میرا ان چیزوں میں بلکل بھی اعتماد نہیں ہے۔‘‘ وڈقابل ذکر ہے کہ یہ وذیو گزشتہ ہفتہ سامنے آیا تھا اور کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ تہران کا ہے ، تاہم وڈیو میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے پتہ چلے کہ یہ تہران میں بنایا گیا ہے ۔ وڈیو میں ایک خاتون دکھ رہی ہے جس نے لال رنگ کا حجاب پہن رکھا ہے ۔ لیکن حجاب کے باوجو د جس کے سر کےبال صاف صاف نظر آ رہے ہیں ۔ وہ تین خواتین پولیس اہلکاروں سے گھری ہو ئی ہے جو اسے پکڑ لیتی ہیں۔ ایک پولیس اہلکار اس کا گلا پکڑ لیتی ہے جس کے بعد وہ خاتون چلانے لگتی ہے ، پھر وہ اس کے پیر کھیچتی ہے جس سے وہ زمین پر گر جاتی ہے اور وہ رونے لگتی ہے۔ لیکن پولیس اہلکار اسے پھر سے پکڑلیتی ہے ۔ خاتون چلا کر کہتی ہے کہ ’’ آپ مجھے کیوں ما ر رہی ہیں؟ آپ ہمیں 30 سالوں سے برباد کرتیں آ رہی ہیں۔ وڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک کے وزیر داخلہ عبداارحمن فاضلی نے جمعرات کے روز اہکاروں کوواقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل خواتین معاملا ت میں اعلی اہلار مسومیح ابتدکار نے بھی پولیس کے اس قدم کی تعریف کی تھی۔ رکن پارلیمنٹ طاتبیہ سیا وشی نے جمعرات کے روز کہا کہ وڈیو میں دکھ رہی خواتین پولیس کو تفتیش مکلمل ہو نے تک برخاست کر دیا گیا ہے ۔ صدر روہانی نے بھی ہفتہ کے روز پولیس کی تنقید کی او ر کہا کہ پولیس کو ’’ اچھی چیزوں کا بڑھاوا دینے اور برائی کو روکنےکا حقوق دیا گیا ہے ، لیکن صلاحیت کو بڑھاوا دینے کے لئے لوگوں کالر پکڑنا صحیح نہیں ہے ‘‘۔