سعودی عرب انسانی حقوق کے ارکان کو بلاشرط رہا کرے: اقوام متحدہ

02:25PM Thu 2 Aug, 2018

جنیوا: انسانی حقوق کادفاع کرنے والوں کی مسلسل گرفتاریوں اور بظاہر من مانے طور پر حراست میں لئے جانے پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفترنے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو غیر مشروط طور پر رہا کریں جن میں وہ مہم جو بھی شامل ہیں جنہوں نے عورتوں کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کی روینا شم دسانی نے کل نامہ نگاروں کو بتایا کہ 15مئی سے اب تک کم سے کم حکومت کے ناقدین حراست میں لئے گئے ہیں۔ محترمہ شم دسانی نے بتایا کہ ان میں سے آٹھ لوگوں کو غالباً کارروائی مکمل ہونے تک عارضی طور پر رہا کردیا گیا ہے۔ بعض معاملات میں حراست میں لئے جانے والوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے اور وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملات میں سنگین عدم شفافیت برتی جارہی ہے ۔ محترمہ نے مزید خبردارکیا کہ ایک طرف جہاں حکام ممکنہ سنگین الزامات کے تعلق سے ایسے بیانات دے رہے ہیں کہ الزامات ثابت ہونے پر گرفتار شدگان کو 20 سال قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ زیر تذکرہ معاملات میں آیا فرد جرم داخل کردی گئی ہے ۔جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ھتون الفاسی شامل ہیں جو خواتین کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں میں پیش پیش رہیں۔ جون کے اواخر میں جن سعودی خواتین کوڈرائیونگ لائسنس دی گئی ان میں وہ بھی شامل ہیں۔ دیگرزیر حراست لوگوں میں خالد العمیر، ایمن النفجان ، عزیزہ الیوسف ، نوف عبدالعزیز اور مایہ الزہرانی شامل ہیں ۔ 80 سالہ وکیل ابراہیم المدائمی اور عبدالعزیزمشعل بھی حراست میں ہیں۔