من کی بات:پی ایم مودی نےغذائی قلت پرقابوپانے اورپلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنے پردیا زور

12:12PM Sun 25 Aug, 2019

انہوں نے کہا،’’15اگست کو لال قلعہ سے میں نے یہ کہا کہ جس دلچسپی اور توانائی کے ساتھ سوا سو کروڑ ملک کے عوام نے صاف صفائی کےلئے مہم چلائی۔کھلے میں رفع حاجت سے آزاد کرانےکےلئے کام کیا۔اسی طرح ہمیں ساتھ مل کر سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنا ہے۔اس مہم کے سلسلے سماج کے سبھی طبقوں میں دلچسپی ہے۔میرے کئی تاجر بھائی -بہنوں نے دکان میں ایک تختی لگا دی ہے،ایک پلے کارڈ لگادیا ہے۔جس پر یہ لکھا ہے کہ گاہک اپنا تھیلا ساتھ لے کر ہی آئے۔اس سے پیسہ بھی بچے گا اور ماحول کی حفاظت میں وہ اپنا تعاون بھی دےپائی گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ،’’اس بار دو اکتوبر کو جب باپو کی 150ویں سالگرہ منائیں گے تو اس موقع پر ہم انہیں نہ صرف کھلے میں رفع حاجت سے آزاد ہندوستان کو مختص کریں گے بلکہ اس دن پورے ملک میں پلاسٹک کے خلاف ایک نئی عوامی تحریک کی بنیاد رکھیں گے۔میں سماج کے سبھی طبقوں سے،ہر گاؤں،قصبے میں اور شہر کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں،دعا کرتا ہوں کہ اس سال گاندھی جینتی ،ایک طرح سے ہمارے اس ہندوستان کو پلاسٹک کچرے سے آزاد ہونے کے لئے منائیں۔دو اکتوبر خصوصی دن کے طورپر منائیں۔ مہاتما گاندھی جینتی کا دن ایک خصوصی شرم دان کا تہوار بن جائے۔ملک کی سبھی میونسیپلٹی، کارپوریشن،انتظامیہ،گرام پنچایت،سرکاری اور غیر سرکاری سبھی انتظامات،سبھی تنظیمیں ،ایک ایک شہری ہر کسی سے میری درخواست ہے کہ پلاسٹک کچرے کے کلیکشن اور اسٹوریج کے لئے مناسب انتطام ہو۔میں کاپوریٹ سیکٹر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ جب یہ سارا پلاسٹک کچرا جمع ہوجائے تو اس کا مناسب طورپر تدارک کیا جائے۔اسے ری سائیکل کیا جاسکتا ہے۔اسے ایندھن بنایا جاسکتا ہے۔اس طرح اس دیوالی تک ہم اس پلاسٹک کچرے کے محفوظ تدارک کا بھی کام پورا کرسکتے ہیں۔بس عزم چاہئے۔تحریک کےلئے ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے گاندھی سے بڑی تحریک کیا ہوسکتی ہے۔ ہر شخص کم از کم ایک فرد کوغذائی قلت سے باہر نکالے: مودی وزیراعظم نریندرمودي نے ہم وطنوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ آئندہ غذائی مہم میں حصہ لیں اور ملک کا ہر ایک شخص تغذیہ سے محروم کم از کم ایک فرد کو غذائی قلت سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرے۔پی ایم مودی نے اپنے ریڈیو ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ میں اس کا حوالہ دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ متوازن غذا ہم سب کے لئے ضروری ہے۔خاص طور پر خواتین اور نومولود بچوں کے لئے، کیونکہ، یہی سماج کے مستقبل کی بنیاد ہیں۔ غذائیت مہم‘-پوشن ابھیان کے تحت ملک بھر میں جدید سائنسی طریقوں سے غذائیت کو عوامی تحریک بنایا جا رہا ہے۔ لوگ نئے اور دلچسپ طریقوں سے غذائی قلت سے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹر کے ناسک میں چل رہے 'مٹھی بھر دھانيہ' تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کٹائی کے دنوں میں آنگن باڑی خواتین کارکنان لوگوں سے ایک مٹھی اناج اکٹھا کرتی ہیں۔ اس اناج کا استعمال، بچوں اور خواتین کے لئے گرم کھانا بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اس میں عطیہ کرنے والا شخص ایک طرح سے بیدار سماجی خادم اور اس تحریک کا وہ ایک سپاہی بن جاتا ہے۔