محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا سید طلحہ حسنی یم ۔ اے

Bhatkallys

Published in - Other

10:10AM Sat 24 Aug, 2019

مولانا سید طلحہ حسنی ایم۔اے

            ولادت:ٹونک،۱۳۰۸ھ ، مطابق ۱۸۹۰ء

            آپ رائے بریلی کے قطبی حسنی سادات میں سے تھے۔آپ کے والد سید محمد حضرت سید احمد شہیدؒ کے بھانجے مولوی سید محمد علی مصنف’’مخزن احمدی‘‘ کے حقیقی پوتے تھے۔محلہ قافلہ ٹونک میں پیدا ہوئے۔وہیں ابتدائی تعلیم پائی۔۱۹۰۰ء میں لکھنؤ آئے،اور دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوکر کئی سال تک تعلیم حاصل کی،پھر ٹونک جاکر مدرسہ ناصریہ میں مولانا سیف الرحمٰن مہاجر کابلی اور مولانا حیدر حسن ؒخان ٹونکی سے علوم کی تکمیل کی۔پنجاب یونیورسٹی میں مولوی فاضل اور منشی  فاضل کا امتحان دیا۔۱۹۱۶ء میں اورینٹل کالج لاہور میں استاد مقرر ہوئے،۱۹۴۲ء میں اس سے سبکدوشی حاصل کی۔پھر لکھنؤ میں مستقل قیام اختیار کیا۔آزادی کے بعد ۱۹۴۸ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں مقیم ہوئے۔

            مولانا ایک پختہ کار عالم اور ماہر مدرس تھے۔علم کے رسیا اور مطالعہ کے شیدا تھے۔عربی، فارسی اور اردو کے اشعار بکثرت یاد تھے۔عربی ادب میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔صرف ونحو میں بڑی مہارت تھی،اعجاز قرآنی پر گہری نظر تھی،تاریخ اسلام اور سنین و تراجم کے استحضار میں بے نظیر تھے،علم نجوم پر بھی دسترس تھی،انگریزی زبان وادب پر بھی عبور تھا،تصنیف وتالیف سے کچھ زیادہ مناسبت نہیں تھی،ان کا اصل ذوق مجلس آرائی اور علمی و تاریخی تذکرے تھا۔نوجوانی میں قیام بھوپال کے زمانے  میں نواب سلطان جہاں بیگم والیۂ ریاست کی فرمایش پر ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کی سیرت لکھی۔عہد صحابہ کے تمدن و معاشرت اور علمی زندگی پر عربی میں ایک فاضلانہ کتاب ’الحیاۃ فی القرن الاول‘‘ لکھی ہے،جس کی تکمیل نہ ہوسکی،بہ قول حضرت مولانا علی میاںؒ:اگر یہ کتاب مکمل اور شائع ہوجاتی،تو اندازہ ہے کہ اس موضوع پر منفرد اور ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی۔

            وفات:کراچی،۲۳ / رجب ۱۳۹۰ھ ،مطابق ۲۵ /ستمبر ۱۹۷۰ء

            مدفن :کراچی

 

            مولانا کا یہ مضمون ایک ذاتی خط کی شکل میں ہے،جس میں موصوف نے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو مخاطب کیا ہے۔مضمون کی تقریب میں مدیر الندوہ کی حیثیت سے مولانا علی میاںؒ لکھتے ہیں:اس مضمون سے ایک فاضل استاد کا نقطۂ نظر،اس کے ذہنی تاثرات اور تعلیمی تجربات معلوم ہوتے ہیں،جو اہل علم بالخصوص حضرات مدرسین کے لئے خاص طور پر دلچسپ اور مفید ہوں گے۔(فیصل)

عربیت اور اس کے متعلقات

            ابتدائی تعلیم جیسا کہ قاعدہ ہے،بزرگوں کے جبر وقہر کے ماتحت رہی۔سب سے اول شوق و ذوق سے جو کتاب پڑھی،وہ مقامات حریری تھی،اس کا اسلوب قافیہ بندی اور سجع نہایت مرغوب تھا،انشا نویسی بھی اسی طرز کی پسند آئی۔یہ اثر مدتوں قائم رہا۔بعد میں جاحظ کی انشا اور تیسری صدی کی عام کتب تاریخ پسند آئیں۔اغانی،الامامۃ والسیاسۃ لابن قتیبہ کے سیاسی خطوط،اور نہج البلاغۃ نے نہایت متاثر کیا۔نظم میں  معلقات،حماسہ،قصائدمتنبی،پسندآئے،لیکن مضمون آفرینی کی نسبت ،شوکت الفاظ،جزالت اسلوب زیادہ پسند آئی۔ آج کل عربی نثر خصوصاً بعض مصری جرائد  کے مقالات افتتاحیہ دل کو بہت بھائے۔

صرف و نحو

            صرف میں شافیہ اور رضی اچھی معلوم ہوئیں۔ان کتابوں کا ذوق ایک زمانے میں اتنا تھا کہ کھانا کھاتے ہوئے تفریح طبع کے لئے کبھی کبھی شافیہ سامنے رکھی ہوتی۔نحو میں مفصل اور اوضح المسالک اور مغنی اللبیب منتخب کتابیں ہیں۔سب سے گہرا نقش سیبویہ کی ’’الکتاب‘‘ کا ہے،جو دماغ پر اب بھی ثبت ہے۔بعض لوگوں کو شاید گراں گزرے کافیہ اور شرح جامی نے کبھی کوئی اثر نہ پیدا کیا۔اس کو چاہے ہماری کم لیاقتی سمجھو،متعلقات لغت اور عربیت میں المزہر للسیوطی بہت پسند آئی۔ابن رشیق کی کتاب العمدہ،بہترین عربی اشعار کا مجموعہ ہے۔یہ اور کامل للمبرد جو عربیت کا خزانہ ہے،مجھے بہت پسند ہیں۔

علم حدیث

            دل چاہتا ہے کہ اس مضمون پر صفحے کا صفحہ رنگ ڈالوں،لیکن ڈر ہے کہ تم اور تمہارے قارئین اکتا جائیں گے.عربیت کے شوق سے حدیث کے شوق کو ترقی ہوئی،سب سے بڑھ کر ماحول اور خاندانی روایات معاون تھیں،بھلا حضرت سید عرفان مرحوم اور حضرت سید مصطفیٰ مرحوم جس ماحول میں ہوں،وہاں حدیث کا شوق کیوں کر نہ ہوگا!سب سے محبوب اور مرغوب کتاب امام بخاری کی جامع صحیح ہے،جس کی محبت اور شیفتگی عشق کے درجے کو پہنچ گئی۔اس کتاب کی محبت کے لئے میں الفاظ نہیں پاتا۔تمھیں یاد ہوگا کبھی کبھی بے اختیاری میں تمھارے سامنے اس کی کسی حدیث کی اسناد ہی پڑھنے لگتا،اور کبھی ترجمۃ الباب اور قال الحسن قال ابن سیرین قال فلان،زبان سے شوق میں نکلتا۔اس کتاب کی عظمت اور محبت پیدا کرنے میں میرے فاضل استاد مولانا سیف الرحمٰن صاحب مہاجر کابل ؒ کو بڑا دخل ہے۔اس کتاب کے پڑھنے کے زمانے میں فتح الباری سے تعارف ہوا۔شدہ شدہ اسماء الرجال کا شوق اور صحابہ اور طبقات صحابہ کے حالات کی جستجو ہوئی۔اکثر خیال ہوتا کہ صحابہ کے حالات اس قدر معلوم ہوں کہ گویا ان کو دیکھا ہے،کس صحابی کا کس سے کیا رشتہ ہے،آنحضرت ﷺ سے کیا تعلق تھا ،اور اسی قسم کی دوسری جزئیات معلوم کرنے کا شوق تھا۔

            پھر اسی طرح تابعین کے حالات،پھر دیگر ائمہ واکابر اور رواۃ حدیث کے حالات کا شوق اور ان کی وفیات اور عمریں یاد رکھنے کا ذوق پیدا ہوا۔طالب علمی ہی میں مسند دارمی اور پوری مسند ابن حنبلؒ دیکھی،مؤطا امام مالکؒ نے بھی خوب متاثر کیا۔ان کتب حدیث اور مصنفین کے، دماغ پر جو اثرات پڑے، ان کا اگر تجزیہ اور وضاحت کروں تو یوں کہہ سکتا ہوں کہ امام مالکؒ کی عظمت اور ان کی موطا کی محبت بھی ہے،اور امام بخاریؒ کی ذات کے مقابلے میں صحیح بخاری سے زیادہ تعلق اور گرویدگی ہے،لیکن مسند احمد بن حنبلؒ کے مقابلے میں امام احمد بن حنبلؒ کی ذات سے زیادہ محبت اور تعلق معلوم ہوتا ہے،اس کی وجہ نہیں بتلا سکتا۔

            افسوس!صحیح مسلم کا کوئی اثر دماغ پر نہیں رہا!یوں حدیث کی تقریباً سب کتابیں اساتذہ سے پڑھیں۔میرے تمام تر اساتذہ حنفی تھے،اور میں حنفیت کے اس احساس سے کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتا کہ ان کی شاگردی نے ایک قسم کا اعتدال پیدا کردیا،ورنہ میں سخت جامد غیر مقلد ہوتا۔زاد المعاد بظاہر سیرت کی کتاب ہے،لیکن میرے نزدیک حدیث کے اہم مسائل کا ایک مختصر کتب خانہ ہے۔

قرآن وتفسیر

            تم تفسیر کے معلم ہو،قرآن وتفسیر کے متعلق سننا چاہتے ہوگے!بھائی بناوٹ سے کچھ لکھ دینا،یہ نازیبا ہے۔باعتبار عربیت کے قرآن کے اسلوب اور جزالت کا اثر اس وقت سے قائم ہوا،جب عربیت کی ایک حد تک تحصیل کرلی،اور اسی بات نے حفظ کا شوق دلایا،معانی،بیان کی درسی کتابوں سے یہ اثر اور گہرا ہوا،اور قرآ ن پر دو حیثیتوں سے نظر ڈالی:احکام فقھیہ یا دیگر مسائل کا استنباط،دوسرے عربیت کے نکات اور لغوی مسائل،چنانچہ الاکلیل فی استنباط التنزیل للسیوطی اور تفسیر احمدی بہت پسند تھی۔

            ابوبکر ابن العربی اور جصاص کی احکام القرآن اس وقت تک مجھے نہیں ملی تھی۔استنباط مسائل کا اس قدر شوق تھاکہ آیت’’مادمت علیہ قائما‘‘سے دیوانی کے قیدی کا محبوس ہونا استنباط کیا،اور پھر کتاب سے اس کی تائید ہوئی کبھی استدارۂ ارض کی دلیل ڈھونڈی،غرض یہ بے اعتدالیاں سمجھو،یا ماحول ا ور نصاب کا اثر!بہر حال،ایک عرصے تک یہ شوق رہا۔قرآن کے محاسن لفظی کے سلسلے میں کشاف پوری مطالعہ کی۔اسی سلسلے میں مفتاح العلوم للسکاکی ،الطراز اور دلائل الاعجاز مطالعہ کیں۔بعض چیزوں کی تحقیق میں تفسیر کبیر کی طرف رجوع کرتا۔عجیب بات ہے کہ قصص بنی اسرائیل اورحضرت داؤد وغیرہ کے قصے کا اشکال کبھی محسوس نہیں ہوا،قصۂ غرانیق ،قصۂ صواع الملک کی تحقیق کا شوق بھی کبھی نہیں ہوا،نہ ربط آیات اور قسم اور جواب قسم کے متعلق کے مسائل سے دلچسپی پیدا ہوئی۔قرآن کے متعلق میرا نظریہ  یہ ہے کہ یہ کتاب عزیز ،جلیل القدر کتاب آسمانی،صحیفۂ ربانی،علوم ومعارف کا گنجینہ ہے جو ابدالآباد تک سیرابی کے لئے کافی ہے۔خشیت الٰہی،ایمان بالآخرت،ایمان بالقیامت،جس قدر اس کی تلاوت سے پیدا ہوسکتا ہے،دنیا کی کسی تحریر وتقریر اور کسی انشا سے نہیں ہو سکتا،لیکن اس دنیائے ناپائیدار کی جو’’مزرعۃ الآخرۃ‘‘ ہے،تفاصیل انسان ضعیف البنیان کی سمجھ میں اس کتاب سے نہیں آسکتیں،یہ کمزوری انسان کی ہے،نہ کہ کتاب عزیز کی!مثال کے لئے ایک آیت پیش کرتا ہوں،’’وعاشروھن بالمعروف‘‘’’ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف‘‘۔کیا انسان اس سے وہ تمام تر تفصیلات وتعلقاتِ زناشوئی سمجھ سکتا ہے،جو کسی حدیث کی کتاب کی تفصیلات سے سمجھ سکے گا!جناٹیل (جنٹلمین کی جمع اور مولانا کی خاص اصطلاح ہے)ان تفصیلات کو تقدس کے دامن پر دھبہ سمجھتے ہیں،جن کی ساری عمر خباثت اور خبیثات کے ذکر میں گزر گئی ہے۔اسی مسئلے پر عبادات،آداب طعام وآداب شراب کو قیاس کرلو۔ایک اور نظریہ قرآن کے متعلق ہے،اور وہ پہلے کی تفصیل ہے:وہ یہ کہ بغیر احادیث کی روشنی کے کوئی نومسلم راسخ الایمان محض قرآن کو عقیدت سے پڑھے تو دنیا کی کسی چیز میں اس کو لطف نہ آئے گا،اور وہ محض آخرت کا آدمی ہوجائیگا۔یہ انسانی فطرت کی کمزوری ہے،یہ اعتدال حدیث سے پیدا ہوتا ہے،اور اس کے لئے آنحضرتﷺ کی ذات اور آپ کا اسوہ ہے،جنھوں نے قرآن پر عمل کرنے کا صحیح ترین اور معتدل نمونہ پیش کیا۔اس عملی تفسیر کو الگ کر کے آدمی اس بے اعتدالی سے نہیں بچ سکتا۔

علم تصوف

            احیاء العلوم اور مثنوی مولانا رومی خود دیکھیں اور پسند آئیں،تمہارے والد ماجد مرحوم(مولانا حکیم عبدالحئی مرحوم سابق ناظم ندوۃ العلماء) ہائے!کیا آدمی تھے،ان کی کون کونسی باتیں یاد کروں!! ان کے مشورے سے رسالہ قشیریہ عوارف للسھروردی اور فتوح الغیب کا مطالعہ کیا،فتوح الغیب نے اس قدر دماغ پر اثر کیا تھا کہ کسی انسان کی تصنیف نے وہ اثر نہ کیا ہوگا!حضرت مجددؒ کے مکتوبات کا اثر انتہا درجے کا ہوا،اور وہ یہ کہ تصوف کے مقابلے میں شریعت کی تعظیم دل پر نقش ہوگئی،اور یہ اسی کتاب کا فیض ہے۔مثنوی اس لئے بھی پسند آئی کہ علم کلام اور تصوف کے مسائل نہایت خوش اسلوبی سے خلط کئے ہیں۔غزالی کی تصنیفات اکثر پسند آئیں’’فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ‘‘ خاصی اچھی معلوم ہوئی۔شیخ اکبر کی فتوحات کبھی طائرانہ نظر سے دیکھی،کبھی کوئی نکتہ پسندآیا،لیکن نہ اس کتاب کا شوق،نہ اس سے بدشوقی کا افسوس ہے!۔

معقولات اور علم کلام

            تمہیں تعجب ہوگا کہ ایام خواندگی میں جس قدر شوق سے دو کتابیں پڑھیں کوئی کتاب نہ پڑھی:ایک بخاری،دوسری حمد اللہ!میں مجبوراًٰٰیہ لکھ رہا ہوں،صدرا کی بحث جزء لا یتجزی بھی شوق سے پڑھی،شرح مواقف کا طرز پسندیدہ ہے،شمس بازغہ بھی پسند آتی ہے۔

اصول فقہ اور فقہ

            فقہ حنبلی کی کتاب’’ المغنی‘‘ نہایت پسندہے،لیکن مطالعے میں نہیں رہی۔فقہ حنفی میں ہدایہ کو ایسی کتاب سمجھتا ہوں کہ آدمی کو اہل عراق کی فقہ سے اس کے ذریعہ سے کامل مناسبت پیدا ہوجاتی ہے۔اصول فقہ میں تحریر ابن الہمام اور توضیح وتلویح مجھے پسند ہے۔اجماع کی بحث جیسی تم توضیح میں دیکھو گے،کہیں اور نہ ملے گی۔ہاں ایک بات لکھتا ہوں،وہ میرا نظریہ بلکہ عقیدہ ہے،غالباً شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے بھی کہیں اشارہ کیا ہے،اصول فقہ مجتہد فیہ فقہی مسائل کی ایک توجیہ ہے جیسے نکات بعدالوقوع ہوتے ہیں،اس کے باوجود اس فن سے مجھے طبعی ذوق ہے۔

امام ابن تیمیہ اور ابن قیم کی تصنیفات

            شیخ الاسلام کی کتابوں میں سب سے پہلی کتاب ان کے فتاویٰ دیکھے،اس کا نہایت اچھا اثر پڑا،اور ان سے انتہائی عقیدت پیدا ہوگئی،پھر تو ہر کتاب ان کی پسند آئی،اور معلوم ہوا کہ متاخرین میں سے اگر کسی نے پرانے اسلام کی طرف دعوت دی ہے تو وہ یہ دونوں بزرگ ہیں۔شیخ الاسلام کی کتابوں میں مضاین کی ترتیب وتہذیب(عربی معنی میں) نہیں ہے،ان کی پر از مصائب زندگی کا یہی مقتضا تھا۔الغرض نہایت درجہ عقیدت ان صاحبوں سے ہوئی،لیکن خداکا شکر ہے کہ بعض مسائل  میں ان کی ہم آہنگی نہ کی،مثلا! طلاق فی مجلس واحد،یا عصمت انبیاء کے متعلق ان کی رائے سے اختلاف ہے۔حافظ ابن قیم کی تصانیف میں سے ’’زاد المعاد‘‘ خاص طور سے قابل ذکر ہے۔میں لکھ چکا ہوں کہ میرے نزدیک وہ احادیث کا بہترین مختصر کتب خانہ ہے۔تم کو تعجب ہوگا مولانا عرفان رحمہ اللہ (میرے رشتے کے ماموں اورحضرت شہیدؒ کے حقیقی نواسے) کبھی کبھی تشریف لاکر زاد المعاد جو ہمارے یہاں تھی،مانگ کر دیکھنے لے جاتے،ان کے بعد میں دیکھتا تو نہ لطف آتا،نہ قدر معلوم ہوتی،آج میں اس کی قدر سمجھتا ہوں!حافظ ابن قیمؒ کی شفاء العلیل بھی مجھے بہت پسند آئی،نہایت عمدہ کتاب ہے،اس میں قضا وقدر کے مسائل ہیں ،ضمناً خیر وشر پر خوب بحث ہے۔

شعر فہمی

            اس عنوان سے تم کو تعجب ہوگا!میرا یہ عقیدہ تھا، اور اب بھی ہے کہ رائج الوقت نصاب درس سے یہ ذوق لطیف پیدا نہیں ہوتاہے،اس کو نہایت ضروری سمجھتا ہوں،لوگوں کو کہتے سنا کرتا تھا کہ مولوی شعر کیا جانیں’’شعر من بہ مدرسہ کہ برد‘‘ مشہور بات ہے،نصاب درس کے اس نقص کی تلافی کتب ذیل سے کی،اور انھوں مجھے فائدہ پہنچایا:

            آب حیات،تذکرہ گلشن بے خار،گل رعنا،مقدمہ دیوان حالی،شعر العجم۔سب سے زیادہ فائدہ مؤخر الذکر نے پہنچایا۔واقعی یہ کتاب مجتہدانہ طرز کی ہے۔مصنف کے مخالف بھی اس کتاب کے معترف ہیں۔گل رعنا کے نام پر مجھے وہ وقعہ یاد آگیا جس کوسنائے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا،میں لاہور سے چھٹیوں پر آیا ہوا تھا،تمہارے والد مرحوم اور میں دوپہر کے وقت تمہارے موجودہ لکھنؤ کے گھر کے مشرقی شمالی کمرے میں سونے کے لئے لیٹے تھے،مرحوم فرماتے ہیں کہ: ہم نے ہلکا کام سمجھ کر ان دو مہینوں میں ایک کام کیا ہے،اور شعرائے اردو کا تذکرہ’’گل رعنا‘‘ کے نام سے مرتب کرلیا ہے،اس میں خصوصیت کے ساتھ مرزاصاحب کا کلام جہاں تک مل سکا ہے جمع کردیا ہے۔ایک مصنف خود اپنی تصنیف اور رسرچ ورک سنا رہاہے،لیکن ہم دوپہر کے سونے کے بیمار بدمذاقی سے نیند کو ترجیح دے رہے ہیں،اور یہ نہیں معلوم کہ یکایک اس مخلص بزرگ کے انتقال کی خبر پہنچے گی!۔

مختلطات

            مندرجۂ ذیل کتابوں  میں سے ہر ایک مستقل کتب خانہ اور معلومات کا خزانہ ہے،زاد المعاد،حجۃ اللہ اور مقدمہ ابن خلدون۔

            آخر میں ایک بات لکھ کر ختم کرتا ہوں۔طالب علم کے لئے جب کچھ استعداد ہوجائے،ایک مجموعۂ کتب ضرور اس کی مرضی پر چھوڑا جائے،لیکن کبھی کبھی مشورہ بھی دیا جائے۔اس بات نے تم کوبھی فائدہ پہنچایا ہے،اور مجھے بھی،لیکن تمہارا مکتبہ ایک صدی سے اوپر زمانے کامجموعہ تھا،اور علماء کا جمع کیا ہوا،میرے یہاں کا مجموعہ محض نستعلیقی اور خوش سلیقگی کی تکمیل کے لئے جمع ہوا تھا۔

جملہ مضامین محسن کتابیں

http://www.bhatkallys.com/ur/author/imrankhan/