محسن کتابیں۔۰۱۔ تحریر: پروفیسر سید نواب علی

پروفیسر سید نواب علی
ولادت:لکھنؤ،۱۲۹۴ھ،مطابق ۱۸۷۷ء نیوتنی ضلع اناؤ اصل وطن تھا۔لکھنؤ میں پیدائش ہوئی،جہاں آپ کے والد فرخند علی رضوی وکالت کرتے تھے۔۱۸۹۲ء میں اناؤ ہائی اسکول سے میٹرک کیا،اور ۱۸۹۳ء میں کیننگ کالج لکھنؤ میں داخل ہوئے،اور ۱۹۰۰ء میں یہیں سے ایم۔اے اور بی۔ٹی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ آپ کے خاندان مین شیعہ اور سنی عقائد و روایات قدر مشترک کی حیثیت رکھتی تھیں۔والد صاحب اور دادا صاحب شیعہ تھے اور چچا سنی۔آپ نے سنی مذہب اختیار کیا،جس کی وجہ سے آپ کو گھروالوں کی طرف سے بہت مشقت جھیلنی پڑی،مگر آپ اپنے فیصلے پر جمے رہے۔بچپن ہی سے دین کا ذوق غالب تھا۔انگریزی اسکول اور کالج کی تعلیم کے باوجود ،مغربیت کا اثر مطلق نہیں تھا۔شروع سے وضع قطع اور لباس ٹھیٹ مشرقی تھا۔کالج کے داخلے ہی کے زمانے میں دینیات کی طرف رجحان دیکھ کر ،چچا(جن کی دختر سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہوئی) حکیم سید عابد علی (جو طبیب حاذق اور عالم باعمل تھے)نے مشورہ دیا کہ علمائے فرنگی محل کی خدمت میں حاضری دیا کرو،چنانچہ سید صاحب نے وہاں سے استفادہ کیا،اور حضرت مولانا محمد نعیم فرنگی محلی سے بیعت ہوکر روحانی ترقی حاصل کی۔ ۱۹۰۰ء میں مدرسۃ العلوم علی گڑھ جاکر دو سال تک ملازمت کی۔۱۹۰۳ء سے ۱۹۲۹ء تک ۲۶ سال بڑودہ کالج (گجرات) میں پروفیسر رہے۔قیام بڑودہ کے زمانے میں سات سال تک مولانا محمد علی جوہر آپ کے انیس وجلیس رہے۔۱۹۲۹ء سے ۱۹۳۴ء تک ریاست جوناگڑھ میں پرنسپل بہاؤالدین کالج ،اور پھر وزیر تعلیمات واوقاف کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔۱۹۳۴ء مین پنشن لے کر اپنے وطن لکھنؤ میں مقیم ہوگئے۔۱۹۴۸ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں مقیم ہوئے۔آپ سالہا سال تک بمبئی یونیورسٹی ،اور پاکستان آنے کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ممتحن رہے۔ سید صاحب اپنے عہد کے ممتاز علماء میں تھے۔آپ اسلامیات کے متبحر عالم اور اسرائیلیات کے محقق تھے۔ادیان کے تقابلی مطالعے اور دین اسلام کی برتری اور حقانیت ثابت کرنے میں امتیاز خاص حاصل تھا۔ان کی کتاب تاریخ صحف سماوی اس موضوع پر بے نظیر ہے۔شاعری کا بھی ذوق تھا،اردو اور فارسی دونوں زبانوں میںاظہار خیال کرتے تھے۔فارسی کے ادیب وشاعر خواجہ عزیز الدین عزیزؔ اور منشی ابراہیم حسین ناظمؔ(متبع خواجہ آتشؔ) سے مشق سخن کی تھی،نواب ؔتخلص کرتے تھے۔عربی سے پورے واقف تھے۔ندوۃ العلماء کے فکرواساس اور اس کے منہج ومسلک سے بڑی مناسبت اور دل بستگی تھی۔علامہ شبلی سے قریبی تعلق تھا۔ایک درجن سے زیادہ معرکۃ الآراء کتابیںلکھیں،چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:سیرت رسول اللہﷺ،تذکرۃ المصطفیٰ،ہمارے نبی،تاریخ صحف سماوی، معارج الدین(معروف بہ سائنس اور اسلام)،قصص الحق،شہید حق،(معرکۂ کربلا کا بیان)،مرآت احمدی(تاریخ گجرات)،دین حق، شمع سخن(مجموعہ کلام اردو،مطبوعہ ۱۹۲۱ء)،نواب کے سو شعر (مطبوعہ ۱۹۳۹ء)،گلبن (مجموعۂ کلام،مطبوعہ ۱۹۴۷ء)۔ انگریزی تصنیفات as.sajjad(امام زین العابدین کے حالات) ,some میں
morat and religious teaching of al GizaliاورEssenence of islamic teaching
ہیں۔ وفات ومدفن:کراچی،۱۶/ محرم ۱۳۸۱ھ ،مطابق ۳۰ /جون ۱۹۶۱ء
ایک وقت تھا،جب علامہ شبلی مرحوم کے الندوہ میں مضامین لکھا کرتا تھا۔مولانا تو اب فردوس نشین ہیں،لیکن الندوہ فیض سلیمانی سے مر کر جی اٹھا ہے۔البتہ میری حالت یہ ہے: اب آنکھیں رہتی ہیں دودو پہر بند پھر بھی عزیزی ابوالحسن علی کا اصرار ہے اور مجھے خاطر عزیز منظور ہے،اس لئے یہ چند سطریں تحریر ہیں۔
(1)
بچپن میں جب سے مکتب میں بٹھایا گیا،اس وقت سے اب تک جب کہ عمر رواں کے۶۴ مرحلے طے کرچکا ہوں،طالب علم ہوں،لیکن واقعہ یہ ہے کہ معلوم شد کہ ہیچ معلوم نہ شد خیر،اگرچہ فلسفیانہ رنگ میں کچھ معلوم نہ ہوسکا،لیکن میری دعا یہی رہی،اور رہے گی’’ربّ زدنی علما‘‘،میرے والد ماجد میرفرخندعلی صاحب قبلہ وکیل مرحوم تہجد گزار بندے تھے،اور نماز فجر کے بعد تلاوت کلام اللہ کے عادی تھے۔میری عمر قریب گیارہ برس کی تھی،جب وہ آخر مرتبہ حیدرآباد تشریف لے گئے،چلتے وقت کلام مجید کا ایک نسخہ دیا،جو ۱۲۷۸ھ کا چھپا ہوا تھا،مطبع نظامی کی مہر تصحیح لگی ہوئی تھی،متن کے ساتھ شاہ عبدالقادر دہلویؒ کا ترجمہ اردو ۔یہ نسخہ اس وقت شائع ہوا تھا،جب سنا کہ مطبع میں کام کرنے والے باوضو اور احتیاط سے کلام مجید چھاپتے تھے۔جناب قبلہ نے نسخہ دے کر فرمایاکہ روزانہ تلاوت کرتے رہنا اور ترجمہ بھی پڑھا کرنا،کچھ عرصہ تک میں محض تعمیل ارشاد کرتا رہا،لیکن پھر شوق پیدا ہوگیا،اور اب تک شاید ہی کسی دن تلاوت میں ناغہ ہوا ہو۔نسخہ گرچہ اب بہت بوسیدہ ہوگیا ہے،اور باوجود یہ کہ عمدہ چھپے ہوئے نسخوں کی اب کمی نہیں ہے،لیکن اسی کہنہ نسخے کو سینے سے لگائے رہتا ہوں،اس کے صفحے پر کہیں کہیں کچھ مٹے ہوئے دھبے بھی نظر آتے ہیں،جو اس عمر رفتہ کی یادگار ہیں،جب قلب میں اس قدر قساوت نہ تھی۔میری زندگی میں گوناگوں انقلاب ہوئے،متعلم سے معلم بنا،اور مصنف کی حیثیت سے نشانۂ ملامت بھی،لیکن خواہ کوئی مانے یا نہ مانے،میرا تو یہی یقین ہے کہ: ’’ہرچہ کردم ہمہ از دولت قرآں کردم‘‘ میری پہلی محسن کتاب ’’کتاب اللہ‘‘ ہے،اسی سے مجھے ہدایت نصیب ہوئی،اور یہی دونوں جہاں میں میرے لئے نور علی نور ہے۔(۲) میری تعلیم مکتب سے شروع ہوئی،اور تھوڑے عرصے کے بعدانگریزی اسکول اناؤ میں داخل کردیا گیا،لیکن مدرسے کے ساتھ مکتب کی پرانی تعلیم ،ساتھ ساتھ چودہ برس تک جاری رہی۔ اسکول میں مولوی ظہور احمد صاحب لاہر پوری مرحوم فارسی کے پروفیسر تھے۔بڑے متقی اور پرہیزگار اور امام حجۃ الاسلام غزالیؒ کی تعلیمات کے شیدا،فارسی کورس پڑھاتے وقت اکثر امام موصوف کا تذکرہ فرماتے تھے،اور جب میں ان کی خدمت میں مکان پر حاضر ہوتا تھا تو امام صاحب کے حالات زندگی موثر پیرایے میں بیان فرماتے تھے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ میں امام صاحب کی تصانیف کا ایسا گرویدہ ہوگیا کہ جب ۱۸۹۲ء میں کیننگ کالج لکھنؤ میں پڑھنے گیا،تو امام صاحب کی کوئی نہ کوئی تصنیف سفر وحضر میں اپنے ساتھ رکھتا تھا۔کیمیائے سعادت،احیاء العلوم اور المنقذ من الضلال نے مجھ پر خاص اثر کیا،بعد کو اگرچہ میں نے ملحدوں اور دہریوں کی تصانیف اور مختلف مذاہب کی مشہور کتابوں کا مطالعہ کیا،لیکن ہمیشہ’’توفنی مسلما وألحقنی بالصالحین ‘‘کی دعا دل سے نکلتی رہی۔میرا اب تک یہ معمول ہے کہ ۱۴ جمادی الثانی کو جو امام صاحب کے وصال کا دن ہے،صبح سے احیاء العلوم یا کیمیائے سعادت یا منھاج العابدین کا کوئی جز پڑھتا ہوں ،اور امام صاحب کی حیات طیبہ پر غور کرتا ہوں،پھر بعد عصر فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کرتا ہوں۔ لکھنؤ کے قیام میں مولانا شررؔ مرحوم کے دلگداز اور دیگر مضامین وتصانیف کے مطالعے نے اردو ادب کا شوق پیدا کردیا۔شعرو سخن کا ذوق بھی انیس،آتشؔ،غالبؔ،اور حالی کے کلام سے پیدا ہوا۔اسلامی فرقوں کے باہمی مناظروں کی کتابیں اگرچہ اس زمانے میں بہت دیکھیں۔لیکن’’جنگ ہفتا دودو ملت‘‘ بجائے سکون قلب کے الجھن پیدا کرتی تھی۔البتہ کتب تصوف اور ملفوظات بزرگان دین میں ایک دلکشی پاتا تھا۔شیخ عطارؒ کی تذکرۃ الاولیاء،عارف رومؒ کی مثنوی،اور فتوح الغیب حضرت غوث الاعظمؒ اکثر پڑھا کرتا تھا۔(۳) ۱۹۰۰ء میں جب علی گڑھ گیا تو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ اگرچہ سر سید مرحوم کا نام بچے بچے کی زبان پر تھا،لیکن ان کی مذہبی تصانیف خاص کر تفسیرالقرآن کا کوئی بھولے سے بھی نام نہیں لیتا تھا۔لکھنؤ کے قیام میں سرسیدکی مذہبی تصانیف خصوصاً تفسیر نیچریت کی تعلیم سنا کرتا تھا،لیکن علی گڑھ میں دل نے کہا کہ مخالفین اسلام کی کتابیں تو پڑھتے ہو،کیا وہ درد ملت رکھنے والا سرسید ،ان سے بھی بدتر ہے!اب میں نے خطبات احمدیہ،تفسیر القرآن اور دیگر تصانیف کا بالاستیعاب مطالعہ شروع کیا۔سورہ انفال کی تفسیر میں جہاں سرسید نے جملہ غزوات ایک جا جمع کرکے لکھے ہیں،مجھے بہت پسند آئے،خصوصاً غزوہ بدر میں جو محققانہ بحث ہے،مجھ پر سرسیدکے خلوص،تلاش حق اور محبت اسلام کا ایک خاص اثر ہوا،اگرچہ بعض مقامات پر جہاں علوم جدیدہ سے مرعوبیت ٹپکتی تھی،میں ان کی رائے سے متفق نہ تھا،اور سلف صالحین کا متبع تھا۔افسوس ہے کہ سرسید کی مذہبی خدمات کی قدر نہ کی گئی!کاش!علیگ بھی ندویوں کی طرح کچھ کرتے،اور مسلم یونیورسٹی ،دارالمصنفین کی طرح کوئی کارنامہ پیش کرتی!!میں یہاں کسی جماعت کو گرانا یا بڑھانا نہیں چاہتا،صرف دل درد مند کا اظہار خیال ہے۔خدا کرے ادھر بھی توجہ ہو!۔ سرسید کی تصانیف کے ساتھ میں نے جسٹس امیر علی مرحوم کی اسپرٹ آف اسلام اور ہسٹری آف دی سراسینز اور آرنلڈ کی پریچنگ آف اسلام کا بھی غور سے مطالعہ کیا،اور علامہ شبلی مرحوم کی الکلام،الغزالی اور رسائل سے مستفید ہوا۔اب مجھ میں تاریخ و سیر کا شوق پیدا ہوا،اور کچھ خدمت دین بجا لانے کے لئے تیار ہوا۔ ۱۹۰۳ء میں جب میرا تقرر بڑودہ کالج میں ہوگیا تو سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی سیرت پاک پر دس مضامین سیرۃ المصطفیٰ کے نام سے لکھنا شروع کئے۔اس زمانے میں مولانا شبلی بڑودہ تشریف لے گئے اور جسٹس عباس طیب حسن مرحوم کے بنگلے پر پہلی ملاقات ہوئی۔مولانا کی تصانیف مجھے پہلے ہی گرویدہ کرچکی تھیں،اب ان کے حسن اخلاق،لطف تقریر،ذوق سخن اور تبحر علمی نے اور بھی گرویدہ کرلیا۔خط وکتابت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔تعطیلوں میں جب بھوپال جاتا تھا،تو منشی علی صاحب کے مکان پر مولانا سے اکثر شرف ملاقات حاصل ہوتا تھا۔ تذکرۃ المصطفیٰ ۱۹۰۷ء میں شائع ہوگئی،تو مولانا کا یہ ناقدانہ فقرہ کہ’’کتاب پرانے رنگ میں اچھی ہے،مگر ایک نئے تعلیم پائے ہوئے سے کچھ اور ہی امید ہے‘‘تازیانے کا کام کرگیا۔اور میں نے فلسفہ اور سائنس کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔خصوصاً اسپنسر،ڈارون،ہکسلے ہیگل،الیورلاج،ویلس،ہافڈنگ اور برگسن کی تصانیف پر غور کرتا رہا،پھر معارج الدین کا حصہ اول شائع کیا،مگر افسوس مولانا اسی سال رحلت فرماچکے تھے۔ اس اثنا میں ہزہائنس مہاراجہ صاحب گائیکواڑ نے علم موازنۂ مذاہب کی ایک شاخ ہندوستان میں سب سے پہلے بڑودہ کالج میں کھول دی اور اس کے ناظم پروفیسر وجری جو فرانس اور جرمنی میں الٓہیات کی تکمیل کرچکے تھے،اور ہیسٹنگز کی ’’انسائیکلو پیڈیا آف رلیجین‘کے مضمون نگار تھے،مقرر ہوئے۔پروفیسر موصوف سے بہت جلد بے تکلفی ہوگئی۔وہ علم موازنۂ مذاہب پر ایک کتاب لکھ رہے تھے،اور میں نے تاریخ صحف سماوی لکھنا شروع کی تھی۔اور مہاراجہ صاحب نے ایک کافی رقم فراہمی کتب کے لئے عطا فرمائی تھی۔وجری صاحب نے کتب یہود ونصاریٰ کے معتبر مآخذ میرے لئے جمع کردئے،اور میں نے تفسیر،حدیث،رجال،تاریخ اور سیر کی اسلامی مستند کتابیں فراہم کرلیں،اور ان سے مستفید ہونے لگا،اور وجری صاحب کو اسلام کے متعلق نوٹس لکھوانے لگا۔تاریخ صحف کے خاتمے پر میں نے ان مآخذوں کی ایک فہرست دے دی ہے،لیکن یہ کتاب جو ۱۹۱۹ء میں چھپی تھی،اب کمیاب ہے،اس لئے چند کتابوں کے نام ،جن سے خاص طور سے مستفید ہوا ہوں،ذیل میں درج کرتا ہوں: ۱۔ ویریورم ریفرنس بائبل،۲۔ اپوکریفہ جس کا ترجمہ انگریزی میں چارلس نے ۱۹۱۳ء میں کیا،۳۔ جوئش انسائیکلو پیڈیا،۴۔ وسٹ کاٹ کا ہسٹارک فیتھ،۵۔ گرائز ہسٹری آف دی جیوز،۶۔ فان سوڈن کی بکس آف نیوٹسٹامنٹ،۷۔ ٹائلر کی ونترو پولوجی۔ تفاسیر میں اگرچہ کسی واقعے کو تفسیر کبیر،خازن،ابن کثیر،بیضاوی، وغیرہ میں ایک ساتھ دیکھتا تھا،لیکن تفسیر ابن جریر خاص طور سے پیش نظر رہتی تھی،اس میں موافق اور مخالف سب روایتیں کسی واقعے کے متعلق جمع ہوتی تھیں،ان کو پھر طبقات ابن سعد،اصابہ اور میزان الاعتدال کی کتب رجال سے جانچ کر کے کوئی رائے قائم کرتا تھا۔تفسیر صافی اور مجمع البیان بھی پیش نظر تھیں،اور صحیحین کے ساتھ ’’کافی‘‘ بھی دیکھتا تھا۔آج کل کی افسوسناک فضا میں میری پر نم آنکھوں کے سامنے وہ وقت پھرتا ہے،جب علمائے فرنگی محل اور مجتہدین دونوں ایک دوسرے سے علم حاصل کرتے تھے۔
میں نے اپنی محسن کتابوں کے چند نام تحریر کردئے۔اصل احسان مصنفین کا ہے،انہیں کا رہین منت ہوں،اور ان کے حق میں دعائے خیر کرتا ہوں،بہ استثنائے ایک مصنف کے ،جو عالم الغیب حکیم وعلیم ہے،اور جس کی بارگاہِ قدس میں سر نیاز جھکا کر یوں عرض کرتا ہوں’’ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا‘‘۔
http://www.bhatkallys.com/ur/author/imrankhan/