سچی باتیں۔۔۔مقصد شہادت ۔۔۔ تحریر:مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys

Published in - Other

08:45PM Thu 5 Sep, 2019

۳۱-۰۷-۱۹۲۵

آپ نے کبھی یہ سوچاہے، کہ امام حسینؓ علیہ السلام نے دشتِ کربلا میں اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان کیوں دے دی؟ کیا کوئی جائداد کا جھگڑاتھا؟ کیا زروزمین کا کوئی قضیہ درپیش تھا؟ کیا کوئی خانگی نزاع چلی آرہی تھی؟ معاملہ صرف حق وایمان کا تھا، اور انھوں نے مال وجائداد کے واسطے نہیں، خدا کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ لیکن خدا کی بھی بہت سی راہیں ہیں، ان میں سے کسی خاص مقصد کے لئے وہ شہید ہوئے؟ کیا حج کی روک ٹوک تھی؟ کیا نماز کی ممانعت تھی؟ کیا کوئی مسجد مسمار کی جارہی تھی؟ کہ کچھ نہ تھا۔ بلکہ ایک ظالم وفاسق حکمراں، رسول خداؐ کی خلافت کا دعویدار تھا، اور اپنے اس جھوٹے دعوے کو امام علیہ السلام سے بجبر تسلیم کرالینا چاہتاتھا۔ آپ نے اپنی، اور اپنے والوں کی شہادت گوارا فرمالی، لیکن ایک ناجائز خلافت کا تسلیم کرنا قبول نہ فرمایا۔ جب یہ آپ مان چکے، تو مسئلہ خلافت کے اس قدر اہم ہونے میں آپ کو کچھ بھی شبہہ باقی رہ سکتاہے؟ جب یہ آپ کو تسلیم ہے، کہ عہدِ رسالت کے بعد سے اس وقت تک تاریخ اسلام می معرکۂ کربلا سے زیادہ کوئی پُردرد واہم واقعہ نہیں پیش آیا، اور یہ بھی آپ مانتے ہیں، کہ اس واقعہ کی تہ میں خلافت ہی کا سوال تھا، تو کیا پھر کوئی شبہہ اس امر میں باقی رہ جاتاہے، کہ خلافت کا مسئلہ، اسلام کے اس اہم ترین مسائل میں سے ہے، اور باطل خلافت کی مخالفت ، اور صحیح خلافت کی حمایت میں جان دینا، صرف یہی نہیں، کہ راہِ حق میں شہادت کا ثواب حاصل کرنا ہے، بلکہ اسوۂ حسینیؓ کا بھی صحیح اتباع، امام مظلومؓ کی روش کی ٹھیک پیروی، اور شہیدِ دشتِ کربلا کی سچی یادگار ہے۔ آپ کہتے ہیں ، کہ محرّم کے زمانہ کو حسین علیہ السلام کی یاد کے لئے مخصوص رہنا چاہئے، بے شک آپ کا ارشاد بجاہے، لیکن خدا کے لئے، ذرا یہ بھی تو سوچ لیجئے ، کہ ان کی یاد منانے کی صورت یا ہونا چاہئے؟ آیا اُن کی بتائی ہوئی راہ پر چلنا، اُن کے طریقہ کی پیروری کرنا، اُن کی تعلیم پر عمل کرنا، یا اس کے برخلاف اپنے نفس کی سُوجھائی ہوئی روش ایجاد کرنا؟ رسول اللہ ﷺ کی یادگار اگر قائم کرنا منظور ہے، تو آیا اس کی صورت نماز ادا کرنا، تلاوتِ قرآن کرنا، درودِ شریف پڑھنا ہے، یا ان چیزوں کے بجائے (نعوذ باللہ) حضورؐ کا نام مبارک لے لے کر شراب کے جام چڑھانا ، بدکاری کرنا، اور جُوا کھیلنا؟ ایسی ناپاک حرکتیں کرنا، اور زبان سے حضور انورؐ کا اسم گرامی لیتے رہنا، انتہائی گستاخی ہوگی، یا موجب اجرو ثواب؟ پس آپ کو اگر امام علیہ السلام کے ساتھ ذرا بھی محبت ہے، اگر آپ کو ان کے اور ان کے اہل خاندان کے نفوس کے ساتھ کچھ بھی عقیدت ہے، تو للہ اُن کی راہ پر چلئے، اپنے دل میں انھیں کی طرح حق وایمان کی محبت پیدا کیجئے، انھیں کی طرح خدا پر بھروسہ رکھنا سیکھئے، اور اُنھیں کی طرح خلافت کا صحیح حل پیداکرنے میں تمام دنیوی حکومتوں سے بے خوف ہوجائیے۔ باجہ اور جلوس، جھنڈوںاور روشنی کے ذریعہ سے یزید کے فوج نے اپنی خوشی اوراُن مقدس شہیدوں کی وفات پر اپنی کامیابی کا اظہار کیاتھا، کیسے دُکھ کی بات ہے کہ آپ چاہتے ہیں امام علیہ السلام کی یاد قائم کرنا، اور دستور وہ اختیار کرلئے ہیں جو خاص اُن کے دشمنوں کے تھے!

http://www.bhatkallys.com/ur/author/abdulmajid/