عظیم معلم ومربی، اور اولین معتمد جامعہ ۔ قسط ۰۲۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

Bhatkallys

Published in - Other

08:51PM Sun 22 Sep, 2019

          مولانا ندوی نے ندوۃالعلماء میں اس سال داخلہ لیا جس سال بھٹکل میں انجمن حامی مسلمین کی بنا پڑی، اتفاقاً مولانا کے شاگرد رشید الحاج محی الدین منیری مرحوم کاسال ولادت بھی یہی ہے، آپ نے مولانا عبدالحی حسنی ؒ کی نظامت کے تین سال دیکھے ، یہ وہ زمانہ تھاجب کہ مولانا آزادکے ’الھلال ‘کی گونج ابھی فضاؤں میں باقی تھی، یہ تحریک خلافت کانقطہ عروج تھا، اورکہنے لگی ’’جی اماں بیٹا جان خلافت پہ دے دو‘‘کانعرہ مستانہ وطن کے ہرسودلوں کوگرمارہاتھا، آزادی کا بگل بج رہا تھا اورپورا ملک آتش فشاں کے مانند دہک رہاتھا، اسلامی  نشاۃ ثانیہ کیلئے ندوے کی طرف ملت کی نگاہیں اٹھ رہی تھیں، یہ ندوہ کے جواںمرگ استاذ مولانا عبدالرحمن نگرامی کی جولانی کا دورتھا، اب مولانانگرامی کوکون جانے؟ کتنی امیدیں باندھ رکھی تھیں ملت نے اس شعلہ جوالہ سے، مولانا دریابادی نے ’سچ لکھنو ‘کاآغازآپ ہی کی رفاقت میں کیاتھا، مولانا ندوی بھی آپ کے خاص حلقہ ادارت میں شامل ہوگئے جس نے آپ میں بھی وہی جوش اور ولولہ بھردیا، یہ مولانا نگرامی ہی کا اثرتھاک ہ مولانا ندوی بھٹکل میں درس قرآن کی وجہ سے بھی پہچانے گئے  ۔

          مولانا ندوی جب انجمن طلبہ کے صدرکی حیثیت سے ندوہ میں نمایاں مقام حاصل کرچکے تھے اورزورخطابت کی دھاک بٹھا چکے تھے،  اس زمانہ میں حضرت مولاناعلی میاں رحمۃ اﷲعلیہ کاتعارف ندوہ میں اتنا تھا کہ دھان پان سے خاموش طبع لکھنؤیونیورسٹی کے طالب علم، بغل میں کوئی کتاب دبائے خصوصی درجات میں آتے تھے اورحضرت ناظم صاحب کے فرزندکی حیثیت سے احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔

          مولانا نگرامی کی صحبت نے آپ کوتحریک خلافت کاہ منوابنا دیاتھا، ندوہ کواس وقت انگریزی حکومت سے گرانٹ ملتی تھی ، جس کی وجہ سے طلبہ کی خلافت جیسی آزادی کی تحریکوں سے وابستگی ممنوع تھی، مولانا نے اس کی وجہ سے ندوہ کے ہاسٹل سے اپنا نام کٹوادیا، شہرمیں ذاتی خرچہ پررہتے اورندوہ میں دور شہر سے آکرپڑھتے، ساتھ ہی ساتھ فارغ اوقات میں گاؤں گاؤں آزادی کاپیغام جلسہ جلوسوں اورتقریروں کے ذریعہ پہونچاتے، آپ کا نام سی آئی ڈی کی فہرست میں درج ہوچکاتھا، پولس سے آنکھ مچولی مدتوں جاری رہی لیکن گرفتاری تک کی نوبت نہیں آئی، جواہرلال نہرواور دوسرے سیاسی لیڈران سے آپ کے تعلقات اس دورکی یادگارتھے، آزادی سے قبل کاراسٹریٹ میں جہاں اب صمد منزل واقع ہے، وہاں پراہل بھٹکل کی جانب سے آنجہانی پنڈت جواہرلال نہروکیلئے جو جلسہ استقبالیہ رکھا گیا تھا، اس میں مولانا ہی نے اہل بھٹکل کی جانب سے پنڈت جی کوہارپہنایا تھااوراستقبالیہ کلمات پیش کئے تھے ۔

          دوران طالب علمی میں حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی رحمۃا ﷲعلیہ کی مجالس میں بیٹھنے کاشرف حاصل ہوا، بعد میں حضرت مولانا الیاس کاندھلویؒ سے بھی ربط  و تعلق رہا، اورغالباً اول الذکرسے رشتہ بیعت بھی استواررہا  ۔

          جن گلہائے سرسبد نے ندوہ کی شہرت چہاردانگ عالم میں پھیلائی ان میں سے حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی، مولانا محمد ناظم ندوی، مولانا معین الدین ندوی، مولاناعبدالسلام صاحب قدوائی ندوی، مولانارئیس احمد جعفری، مولانامسعودعالم  ندوی  وغیرہ یہ سبھی دوران طالب علمی آپ سے جونیررہے  ۔

          بھٹکل میں چندماہ بیت گئے، وعدہ کے مطابق وداعی کی گھڑی آئی ، صدرانجمن حاجی حسن مرحوم سے مولانا ملنے حاضرہوئے، حاجی حسن پررقت طاری ہوگئی، دلگیراندازمیں بھٹکل ہی میں خدمت کرنے پراصرارکیا، نہ جانے حاجی حسن کی زبان میں کیااثرتھا، مولانا۱۹۳۲ء سے ۱۹۴۲ء تک پورے دس سال بھٹکل میں رہے اوراس دوران انجمن سے ایک ایسی نسل تیارکی کہ جس کے فیض کا دریا سترسال بیتنے کے بعد بھی جاری  وساری ہے، ذات خداوندی سے امیدہے کہ یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا  ۔

          انجمن میں مولانانے کس شان سے قوم کے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کی؟، انہیں علم دین کے زیورسے سنوارا، ان میں کیسے کیسے شوق وذوق پیداکیا ،اس کی ایک جھلک ایک آپ کے ایک طالب خورد  کے بجائے مولانا کے اس دور کے عزیز شاگرد محی الدین منیری مرحوم کی زبانی ملاحظہ فرمائیے  :

مولاناعبدالحمید ندوی کا اندازتربیت

          ’’انجمن میں حاجی حسن مرحوم کی صدارت اورآئی ایچ صدیق کی صدر مدرسی کے دورمیں مولاناعبدالحمید صاحب ندوی ؒ کا بحیثیت مدرس تقررہوا، آپ کا مقام دینیات، اردوزبان اور اقبالیات میں بہت بلند تھا، وہ میرے أستاذ تھے اورجب میں پڑھانے لگا تب بھی وہ پڑھاتے تھے، انہیں مجھ سے دلی لگاؤتھا، ہماراساتھ اٹھنابیٹھناہوتاتھا، وقت کے اکابرعلماء سے آپ کی مراسلت تھی، دینی ذوق پیداکرنے کیلئے عموماً وہ علامہ سید سلیمان ندویؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ اورمولانا عبدالماجد دریابادی ؒ وغیرہ بہت سے بزرگوں کے آمدہ خطوط اپنے شاگردوں کوسناتے تھے، کبھی وہ مختلف رسالوں اورمجلات کے صفحات کی خواندگی کرتے اور بتاتے کہ ہمارے بزرگوں کا زندگی کے مختلف معاملات میں کیا طریقہ کارہے، صدرانجمن اورصدر مدرس مولانا کے علمی ذوق کے دل سے قدرداں تھے، انہوں نے مولانا کونصاب تعلیم کی حد بندیوں سے آزاد کردیا تھا اوراس کی چھوٹ دے دی تھی کہ درجہ میں جو مناسب سمجھیں طلبہ کوسکھائیں، مولانا شاگردوںکے سامنے دنیا بھرکاعلمی وتربیتی موادلاکر ڈال دیتے ، دین سے میری وابستگی میں سب سے بڑاہاتھ مولانا ندوی کے دست شفقت اوررہنمائی کاہے ۔

          مولانا خوش مزاج تھے، ان کاایک واقعہ آپ کوسناتاہوں، غالباً میں اس  وقت انگریزی کی چوتھی جماعت کا طالب علم تھا، اس زمانے میں ساتویں جماعت میں پبلک امتحان ہوتا تھا، مولانا ہمیں اقبالیات کا درس دیا کرتے تھے، ایک دن کا ذکرہے کہ مولانا نے درس میںا قبال کا ایک شعرسناکرفرمایا کہ جواس کا مطلب بتائے گا میں اسے ایک روپیہ بطورانعام دونگا اورہمیں جواب دینے کیلئے دوہفتہ کی مہلت دی، اس زمانہ میں ہمارا ذہن  و دماغ بہت تیز چلتے تھے، طلبہ کی میٹنگ ہوئی اورطے پایا کہ لاہورمولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمۃاﷲعلیہ کوخط لکھ کرجواب طلب کیا جائے، لہذا آپس میں تین آنے کاچندہ کیاگیا، اوردیڑھ آنے کا ڈاک ٹکٹ بھیجے جانے والے لفافے پرلگایا گیا اور ڈیڑھ آنے کا ٹکٹ جوابی لفافہ پرچپکایا گیا،مولانامودودیؒ نے ہمارا خط ملتے ہی جواب بھیج دیا اورشعرکی تشریح تفصیل سے لکھ دی، ہم میں سے ہرایک نے وہ تفصیل زبانی یادکرلی ،جب مولاناندویؒ درجہ میں تشریف لائے توہم نے پوچھا کہ آپ نے شعرکا مطلب بیان کرنے پرایک روپیہ انعام دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا آپ اپنے وعدہ پرقائم ہیں، مولانا نے جواب دیا تم میں سے کون اس کیلئے تیارہے؟ ہم نے کہا جس سے بھی پوچھ لیں، اس کے بعد جوکچھ یاد کیاتھا سنادیا، مولانا بڑے متحیر ہوئے اورفرمایا کہ اب روپیہ دینا ہی پڑے گا، اس روپیہ سے ہم لوگوں نے حلوائی شاہ الحمید کی دکان سے تین رطل حلوہ خریدا چونکہ ہم کھانے والے صرف چھ تھے اورحلوہ زیادہ تھا، لہذا اچارخریدا گیا اور مولانا سے کہا کہ آپ کے ساتھ ہی ہم لوگ حلوہ کھائیں گے، حلوہ کھا کرہم نے مولاناکے ہاتھ میں ا ٓہستگی سے پوسٹ سے منگوایا گیا لفافہ تھما دیا، فرمایا اچھا تم ایسے ہو، غصہ بالکل نہیں ہوئے بلکہ ہماری ذکاوت اورقابلیت پربہت خوشی کااظہارکیا ،میری حد نگاہ تک سرزمین بھٹکل پراس پایہ کااستاذ پھرنہیں آیا‘‘ ۔

          انجمن میں دوران تدریس آپ نے آئی ایچ صدیق سے انگریزی سیکھی اور صدیق صاحب نے آپ سے عربی، ۱۹۳۶ء میں یم یم صدیق انجمن کی سکریٹری شپ سے اور۱۹۳۹ء میں آئی ایچ صدیق جیسے مولاناکے قدردان انجمن کی بااختیار صدرمدرسی سے علیحدہ ہوئے اورمسٹرنائنن ہیڈ ماسٹربنے، جس کے بعد مولانا ۱۹۴۶ء میں واپس لکھنؤ لوٹ گئے جہاں نظیرآباد میں کپڑوں کی دکان کھول کرتجارت شروع کی، وہاں سے مولانا کولکاتا  چلے گئے، وہاں بھی کپڑوں کا کاروبارجاری رکھا، ساتھ ہی ہومیوپتھی مطب کا سلسلہ بھی چلتارہا ، مولانانے بھٹکل کے نوجوانوں کوہومیوپیتھی کا ذوق دلایا اوراس کے رموزبتائے، ان فیض یافتگان میں بانی جامعہ ڈاکٹرملپا علی صاحب کانام گرامی بھی شامل ہے۔