Suhail Anjum Article
ایران پر امریکہ و اسرائیل کے بلا جواز حملوں نے پوری دنیا کو جس طرح مصائب میں گرفتار کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے اور وہ ایٹم بنا رہا ہے۔ لہٰذا وہ امریکہ اور اسرائیل سمیت پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ امریکہ نے برسوں قبل ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت تباہ و برباد ہو گئی۔ امریکہ نے دنیا بھر کے بینکوں میں جمع شدہ ایران کے مالی اثاثے کو بھی منجمد کر دیا۔ لہٰذا ملک میں بے روزگاری عام ہو گئی۔ حالانکہ ایران ایٹم بم بنانے کے الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔ بہرحال اس معاملے پر امریکہ اور ایران میں مذاکرات چل رہے ہیں جن میں عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا۔ ایران نے امریکہ کی بہت سی شرائط تسلیم کر لی تھیں۔ یہاں تک کہ اس نے ساڑھے تین ہزار کلو گرام یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ عمان نے بیان دیا کہ جلد ہی امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا جائے گا۔ لیکن اسی درمیان 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔
اسرائیل کے کہنے پر امریکہ نے احمقانہ قدم اٹھا لیا۔ لہٰذا ایک خطرناک جنگ شروع ہو گئی۔ حالانکہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اس جنگ کے حق میں نہیں تھے۔ انھوں نے بیان بھی دیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ا س جنگ میں پھنسایا ہے۔ چالیس روز تک چلنے والی اس جنگ کے نتیجے میں دنیا میں ہاہاکار مچ گیا۔ تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ پوری دنیا میں ان کی قلت ہو گئی۔ جنگ سے امریکہ، ایران اور اسرائیل میں زبردست تباہی ہوئی۔ اس سلسلے کی تمام تفصیلات میڈیا میں موجود ہیں اور قارئین ان سے واقف ہیں۔ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ بندی کے لیے ایران نے جو شرائط رکھی تھیں ان میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل تھی۔ لیکن اسرائیل نے اسے نہیں مانا اور سیزفائر کے فوراً بعد ہی لبنان پر اتنے حملے کیے کہ ملک کا بہت بڑا حصہ نیست و نابود ہو گیا۔ دس منٹ کے اندر سو بم گرائے گئے۔ تین سو کے آس پاس افراد ہلاک ہوئے اور کئی سو زخمی ہو گئے۔
اسرائیل کے اس قدم نے پوری دنیا میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی اور ایسا سمجھا جانے لگا کہ پندرہ دنوں کے لیے ہونے والا سیزفائر ٹوٹ جائے گا۔ لیکن بہرحال پاکستان میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات ہوئے۔ دراصل اسرائیل سیزفائر کے حق میں نہیں تھا۔ وہ چاہتا ہے کہ ایران کا وجود مٹ جائے۔ ایران بھی چاہتا ہے کہ دنیا اسرائیل کے وجود سے پاک ہو جائے۔ بنجامن نیتن یاہو نے اسی لیے لبنان پر اتنے حملے کیے تاکہ ایک تو سیزفائر ٹوٹ جائے اور دوسرے ایک بار پھر جنگ شروع ہو جائے۔ لیکن بہرحال اس کی یہ خواہش سردست پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب اسرائیل نے کسی بھی امن مشن کو ناکام بنایا ہے۔ یہ اس کی تاریخ رہی ہے۔ وہ دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور امریکہ کی پشت پناہی میں دہشت گردانہ وارداتیں انجام دے کر ایک طرف اہل فلسطین کا قتل عام کرتا رہا ہے اور دوسری طرف پوری دنیا کے مسلمانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتا رہا ہے۔ آئیے اسرائیل کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ جب ہم اس کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ وہ کوئی بہت زیادہ قدیم نہیں ہے۔ برطانیہ نے 1917 میں ترکوں کو شکست دے کر فلسطین پر قبضہ کر لیا اور وہاں یہودیوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی باضابطہ مہم شروع ہو گئی۔ اس نے 1939میں وائٹ پیپر جاری کر کے 1940 سے 1944 کے درمیان ہر سال وہاں دس ہزار یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت دے دی۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے ہنگامی حالات میں پچیس ہزار یہودیوں کے نقل مکانی کی بھی اجازت دے دی۔ لیکن اس کے بعد یہودی ریاست کے قیام کی جدوجہد دہشت گردی میں بدل گئی۔ نتیجتاً 14مئی 1948 کو ایک یہودی رہنما ڈیوڈ بن گورین نے اسرائیل کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ وہ کٹر یہودی قوم پرست تھا۔ آزادی کے اعلامیہ پر دستخط کرنے والا وہ پہلا شخص تھا۔ وہ فلسطین میں یہودیوں کا عملی سربراہ بن گیا۔ اسے اسرائیل کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ اسرائیلی ریاست کا پہلا وزیر اعظم اور پہلا وزیر دفاع ہوا۔ وہ 1963 میں سرکاری ذمہ داریوں سے علیحدہ ہوا اور 1970 میں سیاست سے سبکدوش ہو گیا۔ اس درمیان اقوام متحدہ نے یہودی اور عرب ریاستوں کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ اس طرح اس کو عالمی سطح پر جواز عطا کر دیا گیا اور امریکہ نے فوراً اسے تسلیم کر لیا۔ ان واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عالمی سازش کے تحت سرزمین فلسطین پر عرب دشمن اسرائیل نامی خاردار اور زہریلے پودے کو کھاد پانی دے کر ایک تناور درخت بنا دیا گیا۔
برطانیہ نے دنیا بھر کے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسایا اور ان کی ایک پرائیویٹ فوج بنوائی۔ اقوام متحدہ کے ذریعے ان کو فلسطین کا 65 فیصد علاقہ دلوا دیا گیا۔ یہودیوں نے 1948 کی خانہ جنگی میں فلسطین کے 87 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا۔ پھر 1967 میں اس قبضے کو اور توسیع دی گئی۔ اسرائیل اور پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینیوں نے صرف 22 فیصد علاقے میں اپنی حکومت بنانے کی بات قبول کر لی۔ لیکن اسرائیل عملاً اس کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔ اسرائیلی ہٹ دھرمی کے خلاف فلسطینیوں نے مزاحمت شروع کر دی۔ ادھر اسرائیل نے فلسطین کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا۔
انتخابات کے نتیجے میں مزاحمتی گروپ حماس نے غزہ میں کامیابی حاصل کی اور اپنی حکومت قائم کی۔ جبکہ مغربی پٹی پر محمود عباس کے الفتح گروپ نے حکومت بنائی۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی اگر کوئی گروپ انتخابات کی بنیاد پر بر سر اقتدار آتا ہے تو اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن مغربی طاقتوں نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ ایک مزاحمتی تحریک ہے۔ ادھر اسرائیل نے فلسطینیوں پر اپنے مظالم کی انتہا کر دی۔ ان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ جس نے بھی آواز اٹھائی اسے جیل میں ڈال دیا گیا جہاں اذیت کی انتہا ہونے لگی۔ غرضیکہ فلسطینیوں کا جینا دوبھر ہو گیا۔ مجبور ہو کر حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک منظم حملہ کر دیا۔ اس حملے کے پیچھے اسرائیلی ظلم و بربریت کی ایک لمبی داستان ہے۔
فلسطینی مزاحمت کو بین الاقوامی قانونی حمایت حاصل ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو ایک طرف تو مزاحمت کا پورا حق حاصل ہے اور دوسری طرف قابض طاقت کو کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے ظلم و زیادتی کی ساری حدیں پار کر دیں۔ بچوں اور عورتوں سمیت لاکھوں لوگوں کو قتل اور زخمی کیا گیا۔ سیکڑوں مسجدیں شہید کر دی گئیں۔ دسیوں چرچ تباہ کر دیے گئے۔ تمام اسپتال نیست و نابود کر دیے گئے۔ سینکڑوں اسکول تباہ ہو گئے اور غزہ کی تمام گیارہ یونیورسٹیوں کو زمین بوس کر دیا گیا۔ وہاں کے لوگوں کے لیے کھانا، پانی، بجلی اور ادویات کا باہر سے آنا بھی بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے وہاں بھکمری کی حالت ہے اور مختلف قسم کی بیماریاں پھیل گئی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے اکثر ممالک اور قومیں اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ دسیوں ملکوں نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں یا سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ بہت سے ممالک نے فلسطین کو ایک باقاعدہ ملک کے طور پر تسلیم کر لیا ہے اور ایک درجن سے زیادہ ملکوں نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں نسل کشی کا کیس دائر کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بین الاقوامی عدالت کی طرف سے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع گالانٹ کے خلاف انٹرنیشنل گرفتاری وارنٹ بھی جاری ہو چکا ہے۔ کئی ملکوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہاں نیتن یاہو گئے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
صہیونی افواج اہل غزہ پر جو مظالم ڈھا رہی ہیں ان کی مثال بہت کم ملے گی۔ بچی کھچی غزہ کی آبادی لولی لنگڑی اور معذور ہو چکی ہے۔ ستم رانی کی انتہا ہے کہ معصوم بچوں کی لاشیں بھی اسرائیل اور اس کے حامیوں کے دلوں کو افسردہ نہیں کر پاتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب انسانیت کے سینے میں دل نہیں رہا۔ اگر دل ہے بھی تو وہ پتھر کا بن چکا ہے۔ یوکرین میں بچوں کے ایک اسپتال پر بمباری ہوئی تو پوری دنیا چیخ اٹھی۔ لیکن ہزاروں فلسطینی بچوں کے قتل عام سے دنیا کا ضمیر بیدار نہیں ہوا اور اس کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ تفصیلات اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہیں کہ اسرائیل کا وجود دہشت گردی کا مرہون منت ہے۔ اس کی پوری تاریخ دہشت گردی سے عبارت ہے۔
(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کے ذاتی رائے اور خیالات پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)