Suhail ANjum Article

Suhail Anjum

Published in - Other

07:51PM Sun 5 Apr, 2026

سوا ماہ کی جنگ کے تناظر میں اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی تھی اسے ایران نے پنکچر کر دیاتو شاید غلط نہیں ہوگا۔ آج امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں اس جنگ کے خلاف اور ایران کے حق میں عوامی رائے عامہ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ میں تو تقریباً 90 لاکھ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرکے اس جنگ کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور ان کا استعفیٰ تک مانگ لیا ہے۔ انھوں نے جس طرح آمرانہ انداز میں یہ فیصلہ کیا وہ امریکی شہریوں کے گلے نہیں اتر رہا۔ امریکہ میں اس طرح کا کوئی بھی کلیدی فیصلہ کرنے سے قبل امریکی کانگریس سے اجازت لینی ضروری ہوتی ہے لیکن ٹرمپ نے اجازت نہیں لی۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ امریکی افواج بھی اس جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی خفت مٹاتے ہوئے آرمی سربراہ کو برطرف کر دیا ہے۔ انھوں نے ایران میں زمینی لڑائی لڑنے کے لیے وہاں اپنی فوج اتارنے کا عندیہ دیا تھا جس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں بھی اس کی مخالفت ہو رہی ہے اور دوسرے ملکو ںمیں بھی۔ اگر ٹرمپ نے ایسے کسی فیصلے کا اعلان کیا تو ممکن ہے کہ فوج ان کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دے۔ امریکہ میں انسانی جانوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ صرف زندہ انسانوں کو ہی نہیں بلکہ شہریوں کی لاشوں کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی شہری ہوں یا فوجی کوئی بھی ایران میں زمینی جنگ شروع کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ان کو ا س بات کا اندیشہ ہے کہ اگر زمینی فوج اتاری گئی تو شدید جانی و مالی نقصان ہوگا۔ ایران نے تو دھمکی دے بھی دی ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی جنگ شروع کی تو ایک بھی امریکی فوجی واپس نہیں جائے گا۔ یہاں سب کی قبریں بن جائیں گی۔ اس دھمکی نے امریکی عوام اور شہریوں میں خوف و ہرا س کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

اگر ہم دوسرے ملکوں کی بات کریں تو بیشتر نے اس جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ نیٹو ممالک بھی اس جنگ میں شریک ہو جائیں۔ لیکن نیٹو کا ایک بھی ملک اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے ملک آگے آئیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کوشش کریں۔ لیکن کوئی بھی ملک اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرکے ایک زبردست اسٹریٹجک قدم اٹھایا ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً 40 ممالک نے ایران کے ساتھ اپنی رابطہ کاری منقطع کر رکھی تھی لیکن اب ان میں سے 30 ملک ایسے ہیں جو ایران کے ساتھ اپنا رابطہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اسے ایران کی زبردست سفارتی فتح سمجھا جا رہا ہے۔ ادھر تجزیہ کار اس بات سے متفق ہیں کہ جنگ کے تعلق سے امریکی صدر کے جو بیانات سامنے آرہے ہیں ان سے ان کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے بیانوں میں کوئی تال میل نہیں ہے۔ وہ تہذیب کے دائرے سے بھی باہر جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایران کے بیانات بہت شائستہ، پختہ او رمربوط دکھائی دیتے ہیں۔

دنیا بھر کے تجزیہ کار اپنی یہ رائے ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ چند دنوں کے اندر ایران کی فوجی طاقت کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ لیکن ایسا ہوا نہیں اور جنگ کو تقریباً سوا ماہ ہو چکے ہیں۔ لوگ حیران ہیں کہ ایران کے پاس کتنی میزائل اور کتنے ڈرونز ہیں کہ وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ روس اور چین کی جانب سے خفیہ طریقے سے ہتھیار سپلائی کیے جا رہے ہیں۔ اس کی فوجی تیاریوں کے بارے میں ایسے ایسے انکشافات ہو رہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حالانکہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی فوجی صلاحیت پاسنگ بھی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایران کا اتنے دنوں تک نہ صرف جنگ میں ڈٹے رہنا بلکہ خلاف توقع دونوں ملکوں کو شدید نقصانات سے دوچار کرنا حیرت انگیز ہے۔

ایران نے اس سے قبل امریکہ کے ایف 35 جنگی طیارے کو مار گرایا تھا اور اب اس نے ایف 15 جنگی طیارے کو مار گرایا اور دوسرے کو جو کہ اس کی مدد کے لیے گیا تھا، نقصان پہنچایا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکہ کا ایک پائلٹ ایران میں لاپتہ ہو گیا ہے جس کی تلاش ایران اور امریکہ دونوں کر رہے ہیں۔ تادم تحریر اس پائلٹ کا پتہ نہیں چلا ہے۔ ممکن ہے کہ جس وقت قارئین یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس پائلٹ کا پتہ چل گیا ہو۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جن امریکی جنگی طیاروں کو ایران نے مار گرایا وہ معمولی نہیں تھے۔ وہ انتہائی مہنگے جنگی طیارے تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے پاس سستے قسم کے ڈرونز ہیں۔ لیکن وہ انہیں سستے ڈرونز سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور انھیں نقصان پہنچا رہا ہے۔

ٹرمپ نے جب یہ اعلان کیا تھا کہ وہ یکم اپریل کو قوم سے خطاب کریں گے تو پوری دنیا اس کا انتظار کرنے لگی۔ عالمی برادری کو یہ توقع تھی کہ وہ کچھ کام کی باتیں کریں گے۔ ممکن ہے کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ ہم جنگ جیت گئے ہیں اور اب سیز فائر کیا جا رہا ہے۔ لیکن انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔ انھوں نے کوئی بہت زیادہ حقائق بھی پیش نہیں کیے۔ بلکہ جو نام نہاد حقائق پیش کیے ان میں بھی کوئی بہت زیادہ صداقت نہیں تھی۔ اس سے قبل وہ کہہ چکے تھے کہ ہم نے ایران کے تمام فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے زمینی و فضائی بیس تہس نہس ہو گئے۔ اس کی فوج ختم ہو گئی۔ اب اس کے پاس کوئی دفاعی طاقت نہیں رہ گئی۔ لیکن یہ سب مبالغہ آرائی ثابت ہوئی۔ اگر وہاں کا سب کچھ تباہ ہو گیا تو پھر وہ کیسے مار رہا ہے اور نقصانات پہنچا رہا ہے۔

حالانکہ اس جنگ میں ایران کو زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے کئی سو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ صحت کے مراکز پر حملے ہو رہے ہیں۔ انسانی سہولتوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ جیتنے میں تادم تحریر ناکام ہیں۔ ادھر ایک درجن سے زائد امریکی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اس کے فوجی ٹھکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان ٹھکانوں پر قیام پذیر امریکی فوجی وہاں سے نکل کر ہوٹلوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ایران ان کو تلاش کرکرکے نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کی جانب سے چھوڑی جانے والی مہنگی میزائلوں کو تباہ کر رہا ہے۔ کئی اسرائیلی شہروں میں کو بھی زبردست نقصان ہوا جن میں حیفہ اور تل ابیب قابل ذکر ہیں۔ وہاں بھی شہری سہولتیں تباہ ہوئی ہیں۔ عوام بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس درمیان ایک اہم بات یہ ہوئی ہے کہ بنجامن نیتن یاہو کی جانب سے بیانات کا سلسلہ یا تو بند ہے یا ان کے بیانات کم آرہے ہیں۔ اس بات سے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ وہ مار دیے گئے ہیں۔ اگر مارے نہیں بھی گئے ہیں تو چھپے ہوئے ہیں اور خاموش رہ کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بہرحال یہ جنگ اپنی نوعیت کی الگ جنگ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں کو ایران جیسے ملک نے، جس کی معیشت اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے بری طرح تباہ ہوچکی ہے اور جہاں شہریوں کی یومیہ آمدنی بہت نیچے جا چکی ہے، ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ ایران جنگ بھی ویتنام اور افغان جنگ جیسی ثابت ہوگی جہاں سے امریکہ کو زبردست خفت اٹھانے کے بعد پسپا ہونا پڑا تھا۔

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کے ذاتی ہیں ، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ادارہ بھٹکلیس)