دبئی میں بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کا ۲۴ واں اجلاس... تحریر: مولانا بدر الحسن قاسمی ۔ کویت

Bhatkallys

Published in - Other

06:50PM Thu 21 Nov, 2019

نئے مسائل کے بارے میں فقہاء امت کا فیصلہ

مورخہ ۴، ۵، اور ۶؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو دبی میں ‘‘مجمع الفقہ الاسلامی الدولی’’ یا بین الاقوامی فقہ اکیڈمی کا ۲۴واں اجلاس طے تھا جبکہ ۲۲ اکتوبر کو میں ہندوستان آگیا تھا اس لئے دوبارہ پھر ڈھائی ہزار کیلومیٹر سے زائد مسافت طے کرکے دبی جانا پڑا جہاں سے کویت کی مسافت تھوڑی ہی رہ جاتی ہے۔

اجلاس میں مسلم ملکوں کے نمائندوں، مستقل ممبران اور خبراء وخبیرات کی خاصی تعداد شریک ہوتی ہے اور اکیڈمی کے صدر عالیجناب امام حرم شیخ صالح بن حمید اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد السلام العبادی کے علاوہ وہ تمام فقہاء اور ماہرین جمع ہوجاتے ہیں جو اس وقت دنیا میں فقہی واقتصادی وطبی مسائل کو حل کرنے کے لئے سرگرم اور پیش پیش ہیں مثال کے طور پر مصر کے ڈاکٹر محمد عبد الحلیم عمر ڈاکٹر شوقی دنیا ڈاکٹر عبد الرحمن یسری، سعودی عرب کے شیخ عبد اللہ بن سلیمان بن منیع، ڈاکٹر سعد الشتری، ڈاکٹر عیاض بن نامی السلمی اور متعدد دوسرے فقہاء واطباء۔

شامی علماء میں ڈاکٹر نزیہ حماد، ڈاکٹر منذر قحف، ڈاکٹر عبد الباری مشعل، اور ڈاکٹر عبد الستار ابوغدہ، کویت کے ڈاکٹر محمد عبد الغفار الشریف اور ڈاکٹر عجیل النشمی اور خود دبئی کے مفتی اعظم شیخ احمد عبد العزیز الحداد وغیرہ کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو سرفہرست ہیں۔

ان کے علاوہ مراکش الجزائر اور موریتانیا کے فقہاء کے علاوہ برصغیر کے علماء کے سرخیل مولانا محمد تقی عثمانی صاحب ان کا مقالہ تو موجود تھا لیکن وہ شریک نہ ہوسکے جس کا افسوس ہے ڈاکٹر عجیل کی شرکت بھی نہیں ہوسکی۔

اکیڈمی کے صدر معالی الشیخ صالح بن حمید کے بارے میں پہلے کبھی میں نے ‘‘شخصیۃ وکتاب’’ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔

وہ بلاشبہ اپنی نوعیت کے منفرد عالم ہیں غیر معمولی علم اور فقہی بصیرت کے ساتھ اعلی درجہ کے منتظم اور صبر وتحمل میں بے مثال اکیڈمی کے صدر ہی تمام علمی نشستوں کی کارروائی چلاتے ہیں اور علمی وانتظامی کنٹرول رکھتے ہیں اور پوری رعایت کے ساتھ کہ نازک آبگینوں کو کہیں ٹھیس نہ لگے۔

پانچ دنوں کے بجائے تین ہی دنوں میں تمام موضوعات کو سمیٹ لینا آسان نہیں تھا اگر صدر اکیڈمی کی حکمت اور شب وروز کی محنت اور مقامی مجلس انتظامی کے رکن لجنۃ علمیہ کے صدر دبئی کے مفتی شیخ احمد عبد العزیز الحداد کی مخلصانہ جدوجہد نہ ہوتی۔

کانفرنس کا انعقاد دبی کے انٹرکونٹیننٹل ہوٹل کے وسیع وخوشنما ہال میں تھا۔

تین دنوں کے شب وروز بحث ومناقشہ اور پچاس سے زائد مطبوعہ ابحاث ومقالات کے جائزہ کے بعد اکیڈمی کے فیصلے یا متفقہ قرار دادیں سامنے آئیں۔

افتتاحی اجلاس میں مقامی وزیر اقتصاد اور مرکز اقتصاد اسلامی دبی کے ذمہ دار سلطان بن سعید منصوری بھی شریک تھے اور اختتامی اجلاس صدر وجنرل سکریٹری اور دبی کے مفتی صاحب اور شئون اسلامیہ کے ذمہ دار شخص کی موجودگی میں منعقد ہوا اور قراردیں پڑھ کر سنائی گئیں۔

اس اجلاس جو اہم فقہی مسائل زیر بحث آئے تھے ان میں ‘‘اسمارٹ کنٹراکٹ، الکٹرانک کنٹراکٹ، فیڈک کے مطابق ہونے والے معاملات اور انسانی جینوم کی منتقلی کے مسائل تھے۔

جبکہ غیر فقہی مسائل میں تسامح نارکسی رواداری، پانی اور غذا کی عالم اسلام میں قلت پر تشویش اور موجودہ حالات کے مطابق دینی تعلیم اور عام تعلیم کی مناسب ترتیب وغیرہ کے مسائل شامل ہیں۔

امارات میں مقیم اہل تعلق اور اہل علم میں مولانا شاہ جیھاں نقاب، مولانا تقی الدین ندوی مظاہری اور نہایت فعال ومتحرک محترم عبد المتین منیری صاحب شامل ہیں جن کی محبت کا صلہ دعا ہی ہوسکتا ہے اس موقع پر ان سے ملاقاتیں رہیں۔

پہلی اور دوسری نشست ‘‘اسمارٹ’’ اور ‘‘الکٹرانک’’ کنٹریکٹ سے متعلق تھی، دراصل خریدوفروخت ہی کاروبار کی اساس ہے، فقہاء کے درمیان عاقدین کی طرف سے ایجاب وقبول اور عقد کے لئے استعمال کئے جانے والے صیغے اور مجلس عقد کے برقرار رہنے اور بدل جانے پر بہت سے معاملات کے صحیح ہونے اور نہ ہونے کا مدار رہا ہے۔

لیکن جدید ٹکنالوجی نے یہ امکان پیدا کردیا ہے کہ ہزاروں میل کی دوری پر بیٹھے شخشص یا افراد کروڑوں کی مالیت کی چیز خریدیں اور فروخت کریں اور اس کےلئے اسمارٹ کنٹریکٹ  اور الیکٹرونک کنٹریکٹ ذریعہ بغیر کسی دشواری یا الجھن کے اور بغیر کسی جہالت یا نزاع میں پڑے معاملہ کی تکمیل ہوجائے اور یہ محض امکان ہی نہیں بلکہ ایسا روز مرہ کا معاملہ ہوتا جارہا ہے اور اس طرح کے معاملات طے کرنے کے لئے ‘‘موبائل’’ یا کمپیوٹر یا الکٹرانک سینٹر کافی ہیں۔

عربی زبان میں ایک کا نام عقود ذکیہ -اسمارٹ کنٹرکٹ-اور دوسرے کا نام عقود الکترونیہ ،الکٹرانک کنٹراکٹ ہے۔

سنہ ۱۹۹۰ء میں فقہ اکیڈمی نے اس وقت تک رائج وسائل ٹیلیگرام فیکس، فیکس وغیرہ کے ذریعہ انجام پانے والے عقود کو صحیح قرار دیا تھا اگر استثنا کیا گیا تھا تو صرف ‘‘عقد صرف’’ کا جس میں تقابض شرط ہے اور ‘‘عقد سلم’’ کا جس میں قیمت پہلے ادا کی جاتی ہے۔

آج کا معاملہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور البلوکیشن کے ذریعہ ایسے پروگرام بن گئے ہیں کہ عقد کی تمام شروط وقیود خود کار آلہ کی طرح پوری ہوتی رہیں اور چند مخصوص کوڈ اور علامتوں کے استعمال سے عقدی تکمیل ہوجائے۔

اسمارٹ کنٹراکٹ یا عقود ذکیہ کا تصور ۱۹۹۴ء میں نیکس بابو نامی ایک امریکی کمپیوٹر کے ماہر نے پیش کیا تھا پھر ۲۰۰۸ء میں الکٹرانک سکہ سامنے آگیا اور  بلیک چین پروگرام کے ذریعہ اس راہ کی ساری دشواریاں حل کرلی گئیں۔

اکیڈمی نے عقود ذکیہ اور عقود الکترونیہ دونوں موضوعات پر باحثین کی طرف سے پیش کردہ مقالات کا جائزہ لیا اور طویل بحث ومناقشہ کے بعد طے کیا کہ ابھی اس معاملہ میں عجلت سے کام نہ لیا جائے اور معاملہ کے قابل اشکال مزید پہلوؤں پر تحقیق کرائی جائے۔

الفاظ یہ ہیں:

قرر المجمع تأجیل البت فی الموضوع إلی حین عقد ندوۃ متخصصۃ فی العقود الذکیۃ وبعد البت فی موضوع العملات الرقمیۃ المشفرۃ، وذلک لدراسۃ کافۃ جوانب العقود الذکیۃ مع الترکیز علی ما ورد فی الفقرۃ ثانیاً: ویستحسن دعوۃ متخصصین تقنیین فی البلوکشین والعملات المشفرۃ المرمدۃ، واللہ أعلم۔

اکیڈمی کے سامنے دوسرا پیچیدہ مسئلہ افراط زر اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج کا تھا۔

مختلف سیاسی واقتصادی اسباب وحالات کی وجہ سے بعض ملکوں کے سکے اپنی قیمت میں اتنی گراوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ لین دین اور قیمتوں کی ادائیگی بے حد پیچیدہ مسئلہ بن جاتی ہے اور قروض میں اصل چونکہ یہی ہے کہ تقضی بأمثالہا جتنا لیا ہے اتنا ہی ادا کیا جائے اس لئے قرض دینے والوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ایک شخص جس نے محض ایک ضرورت مند کی حاجت روائی کے لئے اپنی گاڑھی کمائی کا حصہ دیا تھا کہ اس کی دی ہوئی رقم اسے واپس مل جائے گی۔

لیکن ادائیگی کے وقت سکہ کی قیمت ایک چوتھائی بھی نہیں رہ گئی تو پھر وہ کیوں کسی شخص کو قرض حسن دے گا۔

یہ مسئلہ بار بار زیر بحث آیا متعدد سمینار منعقد ہوئے لیکن اسے حل کرنے پر فقہاء کرام کی رائے ایک نہ ہوسکی بعض لوگوں نے امام ابویوسفؒ کی رائے کو اختیار کرنے پر زور دیا لیکن اس پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا۔

اکیڈمی نے افراط زر کے موضوع پر مقالات وابحاث کا جائزہ لینے اور بحث ومباحثہ کے بعد اس بارے میں جو تجاویز منظور کی ہیں ان کا حاصل یہ ہے:

اکیڈمی نے اپنی سابقہ قرار داد نمبر ۴۲،۴،۵ جو اس کے پانچویں اجلاس میں معمولی افراط زر سے متعلق پاس ہوئی تھی اس کی توثیق کی اور اسے برقرار رکھا اور طے کیا کہ:

  • افراط زر معمولی ہے یا زیادہ اس کا فیصلہ آپس کی بات چیت یا کسی ثالث کی تحکیم یا پھر زیادہ اختلاف کی صورت میں قضا کے ذریعہ ہوگا۔
  • اگر افراط زر بہت زیادہ ہو تو قرض کی ادائیگی کے بارے میں قرض دار اور قرض خواہ باہم اتفاق کرکے قضا کے ذریعہ ادا کرسکتے ہیں یا ہونے والے نقصان کو دونوں بانٹ لیں یا پھر تحکیم اور قضا کی راہ لیں اور اس کے ذریعہ معاملہ طے کرالیں۔
  • ساتھ ہی اکیڈمی نے مسلم حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اسباب اختیار کریں کہ ملک میں افراط زر یا یا کسادبازاری کی شکل پیدا نہ ہوسکے اور جہاں ہو اسے کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
  • عقود الفیدک (FIDIC Contracts) ماہر انجینئروں کے گروپ کی طرف سے تیار کردہ تعمیراتی پروجیکٹ کے نمونے جو آجروں اور پروجیکٹ کو نافذ کرنے والے بلڈروں کے گروپس کے درمیان کنٹراکٹ کے ضوابط پر مبنی ہوتے ہیں جن کی اساس پر پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد تمام شروط کی پابندی کے ساتھ تکمیل کے بعد صاحب معاملہ کے سپرد کیا جاتا ہےخاص طور پر بڑے پروجیکٹ روڈ بنانے پل کی تعمیر یا ایرپورٹ اور پاور اسٹیشن کی تعمیر میں اس طرح کے عقود کی ضرورت پیش آتی ہے
  • اس موضوع سے متعلق مقالات وابحاث پر بحث ومناقشہ کے بعد فقہ اکیڈمی کا فیصلہ ہے کہ اس طرح کے عقود شرعاً جائز ہیں بشرطیکہ انہیں متعینہ شروط اور شرعی احکام کی پابندی کی جائے۔

اکیڈمی کی نظر میں ‘‘عقود الفیدک’’ کی حیثیت عقود استصناع اور عقود اجارہ کی طرح ہے کہ اس کے مشابہ معاملات ہیں۔

ایسے ہی ان عقود کی طرح جن میں پروجیکٹ کی تنفیذ کے دوران محل عقد کی تبدیلی سے باہمی رضامندی بھی بدل جاتی ہے تاکہ کسی طرح کا اختلاف یا باہمی نزاع پیدا نہ ہو، کیونکہ اس طرح کی تبدیلی کے بارے میں اتفاق پہلے ہی ہوچکا ہوتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ اس میں تمام فریقوں کے لئے قابل قبول تحکیم یا ثالثی کی نوبت آجائے۔

اس طرح کے معاملہ میں کنٹراکٹ کے وقت باہم طے شدہ رقم سے کبھی زیادہ لاگت آجاتی ہے جو کبھی ادائیگی میں تاخیر کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔

یا پھر کسی ایک فریق کو لاحق ہونے والے نقصان کی تلافی کے لئے ہوتی ہے جس کا سبب کوئی دوسرا فریق ہوسکتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ پروجیکٹ کی تنفیذ کے دوران حالات کے بدل جانے کے نتیجہ میں زیادہ لاگت آگئی ہو، واللہ اعلم۔

جنیٹنگ انجینئرنگ سے متعلق اسلامی فقہ اکیڈمی کی سابقہ کئی قراردادیں ہیں لیکن موروثی امراض سے بچنے کے لئے بعض نئی تدبیریں ڈاکٹروں نے پیش کی ہیں اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ فقہی حیثیت سے ان پر غور کرکے ان کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔

اکیڈمی کے ۲۴؍ویں اجلاس میں ان قراردادوں اور نئی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا اور اتفاق رائے سے طے کیا گیا کہ:

اکیڈمی نے اپنی سابقہ قرارداد نمبر ۲۰۳؍۹؍۲۱ جو ریاض میں منعقد ہونے والے اجلاس ۱۴۳۵ھ مطابق ۲۰۱۳ء میں منظور کی گئی تھی ان کو برقرار رکھتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ:

جنیٹک تبدیلی کے لئے استعمال کی جانے والی ٹکنالوجی موسوم ‘کاسبر کاسو’ جس کے ذریعہ بہت سے مزمن امراض کا علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے بارے میں شرعی رائے دینے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اگر اس کی کامیابی یقینی ہوجائے تو اس کے استعمال کی اس وقت شرعی طور پر اجازت ہوگی جب درج ذیل شروط پائی جائیں:

میڈیکل سائنس کے معتمد ادارے اس کی تصدیق کریں اس کا استعمال صرف موروثی امراض سے بچنے کے لئے کیا جائے۔

اس کا استعمال صرف ان امور میں ہوگا جو ضرورت کے دائرہ میں آتے ہوں ‘تحسین وتجمیل’ کے مقصد سے اس کا استعمال ہرگز جائز نہیں ہوگا۔

اس ٹکنالوجی کے استعمال میں پوری احتیاط برتنے کی ضمانت ہو تاکہ اس کا کسی حال میں غلط استمعال نہ ہوسکے۔

 میتو کوندریا کو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل کرنا ایک نئی ٹکنالوجی ہے جو درحقیقت ‘خلیہ’ کو طاقت پہنچانے کا کام کرتا ہے۔

چنانچہ ایک تندرست خاتون کے ‘بیضہ’ (انڈے) سے ‘حمض نووی’ کے ساتھ اسے دوسری ایسی عورت میں منتقل کیا جاتا ہے جس کے ‘میتوکوندریا’ اور حمض نووی میں خرابی ہو اور اس کا علاج ممکن نہ ہو۔

منتقل کرنے کا مقصد صحح الجسم تندرست بچہ کی پیدائش ہے۔

اکیڈمی کی رائے میں شرعاً اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

خلاصہ

بین الاقوامی فقہ اکیڈمی کے ۲۴ویں اجلاس میں فقہی موضوعات پر جو قراردادیں منظور ہوئی ہیں ان کو ایک نظر میں اس طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے:

بٹکوین اور اس قبییل کے جتنے سکے ہیں ان کے لئے اکیڈمی ‘‘عملات مشفرہ’’ یا عملات مرمدہ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے اور اس طرح کے الکٹرانک سکوں کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے لئے اس کا انتظار کرے گی۔

ان کی مالیت متعین ہوجائے اور ان کو متقوم تسلیم کرلیا جائے۔

افراط زر کی صورت میں جب کسی سکہ کی قیمت انتہائی کم ہوجائے اور لوگوں کو بہت زیادہ نقصان ہونے لگے تو ایسی صورت میں اکیڈمی اپنے سابقہ فیصلہ کو الدیون تقضی بأمثالھا میں اس وضاحت کو ضروری سمجھتی ہے کہ ‘‘غبن فاحش’’ یا ‘‘تضخم فاحش’’ کی صورت میں دائن اور مدیون کے لئے باہم یہ اتفاق کرلینا جائز ہوگا کہ امثال کے بجائے ‘‘قیمت’’ کے ذریعہ قرض کی ادائیگی کریں۔

یہ فیصلہ وہ دونوں باہم مشورہ سے کریں یا ثالثی اور تحکیم کے ذریعہ کریں، یا پھر کورٹ کا سہارا لے کر قضاء کے ذریعہ فیصلہ کرلیں لیکن اس بارے میں قرض لیتے وقت کسی طرح کا معاہدہ کرلینا جائز نہیں ہوگا۔

فیدک یعنی انجینئروں کے گروپ کی طرف سے تیار کردہ پروجیکٹ کے تعمیراتی نمونے کے مطابق معاملہ کرنا ‘‘عقد استصناع’’ یا ‘‘عقد اجارہ’’ کی طرح کا معاملہ ہوگا لہذا شرعاً اس طرح کے کنٹراکٹ کی گنجائش ہے۔

باہم قرض کا تبادلہ کہ تم مجھے قرض دو اور اس کے مقابلہ میں ہم تمہیں قرض دیںگے کے اصول پر معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے اس معاملہ میں تمام فقہی مذاہب کا اتفاق ہے۔

چیک ایشو کرنے والے کی طرف سے کمی کی صورت میں قرض دینے کی شرط رکھنا جائز نہیں ہے۔

صرف’’ اور تورق کے معاملہ میں مرابحہ کے لئے باہم وعدوں کی پابندی کی شرط شرعاً جائز نہیں ہے۔

عقد ‘صرف’ کی صورت میں طویل عرصہ تک برقرار رہنے والے ایجاب کی بھی شرعاً گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں باہم تقابض کی شرط پوری نہیں کی جاسکتی۔

صرف کی قیمت میں کمی بیشی کے اندیشہ سے باہم تورق کا معاملہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ اس کی نوعیت تورق منظم کی ہوجاتی ہے جو ناجائز اور حرام ہے۔

بدلتی ہوئی قیمت کی وجہ سے تورق در تورق کا طریقہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں منظم تورق کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

ایسا وعدہ جو لازمی ہو عقد مرابحہ میں اس کا معاوضہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

ان کے علاوہ تین قراردادیں باہمی رواداری، مسلم ممالک میں پانی اور غذا کی قلت اور اسلامی ملکوں میں تعلیم کے نصاب ونظام میں حالات کے مطابق اضافہ اور ترمیم سے متعلق ہیں۔

پہلے دونوں موضوعات پر بہت سے مقالات بھی پیش کئے گئے۔

باہمی رواداری کے موضوع پر مداخلت کے دوران میں نے عرض کیا تھا کہ بین الاقوامی تعلقات پر امام محمد بن الحسن الشیبانی نے ‘‘السیر الکبیر’’ جیسی کتاب لکھی اکیڈمی جو مسلم ممالک کی نمائندہ ہے اور اس کی باتوں اور قراردادوں کا وزن ہے اسے چاہئے کہ مسلم اقلیتوں پر زیادتیوں کے بارے میں آواز اٹھائے۔ فقہی حیثیت سے  تسامح یا باہمی رواداری کی حدود متعین کرے۔

اپنی قرارداد میں اکیڈمی نے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی  ہے کہ وہ دنیا میں نسل پرستی، الحاد، اور دوسری منافرت کی باتوں سے دنیا کے ممالک کو باز رکھنے کی کوشش کرے۔

مسلم ممالک پانی کے صحیح استعمال اور استعمال شدہ پانی کے دوبارہ استعمال کے پروجیکٹ پر کام کریں اور تعلیم میں الحاد وغیرہ کے رجحان سے بچانے کی کوشش کریں۔