استادِ محترم مولانا عبدالعلیم ندوی مرحوم کی یاد میں ۔قسط- ۰۱- از : محمد راشد شیخ.کراچی

تقسیم برصغیر سے قبل برصغیر کے تین تعلیمی ادارے اپنی تعلیم ،تربیت اور دیگر محاسن کے لیے معروف تھے۔یہ ادارے دارالعلوم دیوبند، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو تھے۔تقسیم کے نتیجے میں یہ ادارے تو ہندوستان ہی میں رہ گئے اور آج تک تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور تینوں سو سال سے زائد قدیم ہو چکے ہیں۔ تقسیم سے قبل کشمیر سے راس کماری اور مدراس سے پشاور تک تقریباً ہر علاقے کے طلبہ وہاں تعلیم حاصل کرتے بلکہ بیرون ممالک کے بھی۔ان اداروں سے فارغ التحصیل حضرات جو پاکستان منتقل ہوئے انھوں نے یہاں بھی دینی ،علمی اور تعلیمی میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔جن حضرات نے ان اداروں کی تاریخ کا کسی حدتک مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیت سے آگاہ ہیں کہ ان کا سنہری دور وہی تھا جب برصغیر تقسیم نہیں ہوا تھا۔اس دور میں ان اداروں سے پڑھنے والوں کے کارہائے نمایاں کتب و رسائل کی شکل میں محفوظ ہیں اور اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ان اداروں کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ان سے جو شخص بھی تعلیم حاصل کرتا ،پھر عمر بھر اس کی شخصیت میں وہاں قیام کے دوران تعلیم،تہذیب اور تربیت کے اثرات نظر آتے اور یہ اثرات عمر بھر قائم رہتے۔
اردوزبان کے معروف شاعر اکبر الہ آبادی نے آج سے تقریباً سو سال قبل ان تین تعلیمی اداروں اور ان کی انفرادی خصوصیات کے بارے میں اپنے مخصوص اور دلچسپ انداز میں یہ اشعار کہے تھے
ہے دلِ روشن مثالِ دیوبند
اور ندوہ ہے زبانِ ہوش مند
ہاں علی گڑھ کی بھی تم تشبیہ لو
اِک معزز پیٹ بس اس کو کہو
پیٹ ہے سب پر مقدم اے عزیز
گو کہ فکرِ آخرت ہے اصل چیز
ان اداروں میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کو یہ اختصاص حاصل تھا کہ یہاں کے فارغ التحصیل حضرات میں دین اور دنیا کا بہترین امتزاج نظر آتا ۔جن جن حضرات نے یہاں تعلیم حاصل کی وہ اپنے نام کے ساتھ ’ندوی ‘ کالاحقہ لگاتے اور اس ادارے سے انتساب پر فخر کرتے تھے۔ندوی حضرات کی علمی ،تحقیقی اور خصوصاً تاریخ اسلام کے حوالے سے کتب اور ان کی خدمات سے اہل علم بخوبی آگاہ ہیں۔یہ ندوی حضرات ہی تھے جنھوں نے دارالمصنفین اعظم گڑھ جیسے معروف علمی اور تحقیقی ادارے کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کیں اور وہاں سے تاریخ اسلام و دیگر موضوعات پرجو کتب شایع ہوئیں انھوں نے برصغیر ہی نہیں عالم اسلام کے علمی حلقوں میں نمایاںمقام حاصل کیا۔ پاکستان کے کئی ندوی حضرات سے ان سطور کے عاجز راقم کا قریبی تعلق رہا،ان سے استفادے کے مواقع حاصل ہوئے ،ان سے شرف تلمذ حاصل رہا اور ان پر کچھ لکھنے کے مواقع بھی ملے۔آج قارئین کرام کی خدمت میں ایک ایسے ہی محترم ندوی بزرگ کے بارے میں لکھتا ہوں جن سے راقم کو تلمذ کا شرف حاصل رہا اور جن کی شخصیت ،محاسن اور طرز تعلیم کے بارے میں یادوں کے کچھ نقوش پیش کروں گا۔اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ استاد محترم مولانا عبدالعلیم ندوی کے بارے میں ان کے انتقال کے بعد کوئی جامع مضمون نظر نہیں آیا صرف ایک مضمون ان کے صاحب زادے ڈاکٹر عبدالمقیت شاکر علیمی مرحوم نے پیش نظر مضمون کے بعد لکھا تھا جو ان کے لکھے خاکوں کے مجموعے ’’سبد ِ گل ‘‘ میں اشاعت پذیر ہوا۔
زندگی کے مختلف مراحل میں ہر انسان کا واسطہ مختلف مزاج، عمر اور رتبے کے انسانوں سے ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض انسانوں کی یادیں تلخ اور بعض کی شیریں ہوتی ہیں۔ ان شیریں یادوں والے بزرگوں میں بھی بعض ایسے ہوتے ہیں جنھیں وقت گزرنے کے ساتھ ہم بھلادیتے ہیں جبکہ بعض بزرگ اور محبت کرنے والی شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ خواہ کتنے ہی ماہ و سال گزر جائیں، ان کی یادیں حافظے کی لوح سے محو نہیں ہوپاتیں بلکہ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ان کی یادوں کے نقوش مزید گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ آج میں ایسے ہی ایک محترم استاد کی یادوں کے چراغ روشن کررہا ہوں جن سے آج سے تقریباً ۴۲ برس قبل رابطہ ہوا، دو سال تک ان سے شرفِ تلمذ حاصل رہا اور جن کی یادیں اور باتیں بھلانا تو رہا ایک طرف رہا، ان کی شخصیت اور یادوں کے نقوش وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں۔
یہ تھے ہمارے استادِ محترم مولانا عبدالعلیم ندوی مرحوم جن سے تعلق اور تلمذ کی کہانی اور مضمون کے آخر میں ان کے مختصر حالاتِ زندگی اور علمی خدمات ہم بیان کریں گے۔ مولانا سے اولین تعلق اس وقت قائم ہوا جب راقم علامہ اقبال ہائی اسکول لطیف آباد نمبر۹ (حیدرآباد،سندھ) میںساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس اسکول کی عمارت نہایت سادہ، اکثریت غریب طلبہ پرمشتمل لیکن پڑھائی اور نظم و ضبط مثالی تھا۔ہمارے اسکول کے ہیڈماسٹر سید مشتاق علی صاحب تھے، جو دیانت داری، نظم و ضبط، فرض شناسی اور تعمیر سیرت و کردار کی بنا پر پورے حیدرآباد میں مشہور تھے اور اب بھی ہیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ تا دیر انھیں صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔ مشتاق صاحب کی پوری کوشش ہوتی کہ اسکول میں بہترین اساتذہ جمع کیے جائیں جو نہ صرف طالب علموں میں حصول علم کی سچی لگن پیدا کریں بلکہ ان کی کردار سازی بھی کریں۔ ان کی اسی کوشش کے نتیجے میں مولانا عبدالعلیم ندوی صاحب نے زیل پاک اسکول سے علامہ اقبال ہائی اسکول آنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
یادش بخیر، یہ ۱۹۷۸ء کے موسم سرما کی ایک سہانی صبح تھی۔ ہمیں پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ ایک مولانا ہمیں پڑھانے آرہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ذہن میں بھی ان کا وہی روایتی مولانا والا تصور تھا جس کی تفصیلات سے عموماً لوگ واقف ہیں۔دوسرے ہی دن مولانا عبدالعلیم ندوی صاحب تشریف لائے لیکن نہ جانے کیوں انہیں دیکھ کر احساس ہوا کہ عام مولوی حضرات اور ان مولانا صاحب میں زمین آسمان کافرق ہے۔ یہ سردیوں کے دن تھے مولانا کو دیکھا تو ایک جاذب نظر شخصیت بالکل صاف او ر نفیس کتھئی رنگ کی شیروانی اور سفید رنگ کے شلوار قمیص میں ملبوس نظر آئی۔ نکلتا ہوا قد، کسرتی بدن نہ موٹاپے کی طرف مائل اور نہ ہی دبلا، مونچھیں صفائی سے کتری ہوئی، داڑھی سفید اور نہایت خوبصورتی سے شرعی حدود کے اندر ترشی ہوئی، بال پٹے دار جن میں سفید زیادہ اور سیاہ کم، سر پر صاف ستھری جناح کیپ، پائوں میں صاف ستھرے جوتے معلوم ہوتا ابھی ابھی پالش کیے ہیں۔ ہونٹ پتلے اور خوبصورت، آنکھوں پر ہلکے نیلے رنگ کا خوبصورت چشمہ جس میں سے دو ذہین اور روشن آنکھیں ہر وقت حرکت کرتی نظر آتیں۔ راقم کو پہلی نظر میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ مولانا کی صفائی پسندی اور سر سے پیر تک ہر چیز سے نفاست پسندی کا مظاہرہ تھی۔ یہ تو خیر سردیوں کے دن تھے گرمیوں میں بھی مولانا کا لباس عموماً یا تو سفید کڑھا ہوا ململ کا کرتا اور علی گڑھ کٹ پاجاما یا ہلکے نیلے رنگ کا خوبصورت شلوار قمیص ہوتا۔ پائوں میں حسب معمول عمدہ پالش کیے ہوئے جوتے اور سر پردوپلی ٹوپی ہوتی جو عموماً ندوی حضرات سر پر پہنتے ہیں اور جیسی مولانا ابوالحسن علی ندوی مرحوم بھی ہمیشہ پہنتے تھے۔ یہ تو تھا مولانا سے متعلق پہلا تاثراور سچ تو یہ ہے کہ پہلی ہی نظر میں مولانا نے نفاست پسندی کا جو تاثر قائم کیا،اس کا اثر آج تک ذہن سے محو نہیں ہو سکا۔ راقم کلاس کا مانیٹر تھا اس لیے پوری کلاس میں مولانا سے سب سے زیادہ تعلق میرا ہی رہا اور اسی تعلق پر کچھ مشتمل یادیں اس مضمون میں پیش کی جارہی ہیں۔
چند روز بعد ہی مشتاق علی صاحب نے مولانا سے خواہش ظاہر کی کہ طلبہ کی ذہنی تربیت کے لیے وہ صبح کی دعا (جس میں تلاوت قرآن کے بعد علامہ اقبال کی مشہور نظم ’بچے کی دعا‘ تمام طلبہ کورس کی شکل میں پڑھتے تھے) کے بعد مختصر خطاب فرمایا کریں تاکہ اساتذہ و طلبہ مولانا کے وسیع علم سے مستفید ہوں۔ چنانچہ مولانا کے خطاب کا آغاز ہوا۔ پہلے ہی دن خطاب کے دوران ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے مولانا کی بذلہ سنجی، حاضر جوابی، اور ترکی بہ ترکی جواب دینے کی عادت کا پہلی مرتبہ علم ہوا اور بعد کے دو برسوں میں تقریباً روز انہ ہوتارہا۔ مولانا کی مستقل عادت تھی کہ کوئی نہ کوئی دلچسپ فقرہ یا کوئی دلچسپ بات اس انداز سے بیان کرتے جس سے حاضرین و سامعین میں ہنسی اور مسرت کے شگوفے کھل اٹھتے۔ ہوا یہ کہ دوران تقریر مولانا نے ایک شعر پڑھا جس پر بعض شریر طلبہ نے (جن کی سمجھ میں نہ تو تقریر آرہی تھی اور نہ ہی شعر آیا بلکہ جو تقریر سے اکتاہٹ اور بوریت محسوس کررہے تھے) داد دینے کے انداز میں باربار ’واہ واواہ وا‘ کہنا شروع کیا۔ مولانا اس حرکت کو سمجھ گئے اور ان شریر طلبہ کو ایسا مسکت جواب دیا کہ آئندہ کبھی ان کو ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ پڑی۔ مولانا نے فرمایا کہ تمہاری اس واہ وا پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک مرتبہ ایک شاعر کو غزل سنانے کے لیے کافی تلاش کے باوجود کوئی سامع نہ ملا۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ سامنے ایک گدھا کھڑا ہے ۔شاعر نے سوچا کیوں نہ گدھے کو ہی غزل سنا دوں چنانچہ پوری غزل سنا دی ۔غزل سنتے ہی گدھے نے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آوازیں نکالنی شروع کردیں۔ اس پر وہ شاعر بہت مسرور ہوا اور سمجھا کہ گدھے نے غزل پر داد دی ہے مگر درحقیقت گدھا غزل کے ایک شعر تو کیا ایک مصرع کو بھی نہ سمجھ سکا تھا۔ تم بھی بالکل اس گدھے کی طرح واہ وا کرتے ہو جبکہ شعر سمجھے بغیر شعر پر داد دینا بجائے خود ایک احمقانہ حرکت ہے۔ مولانا یہ الفاظ غصے سے نہیں بلکہ دلچسپ انداز میں ادا کیے جس پر تمام حاضرین ہنسنے لگے اور شریر طلبہ کی سبکی ہوئی۔ بعد کے دو برسوں کے دوران معلوم ہوا کہ یہ مولانا کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے کہ ہر محفل میں کوئی نہ کوئی دلچسپ بات ضرور کرتے جس سے محفل زعفران زار ہوجاتی ہے ۔ اس کے باوجود مولانا کے وقار اور ہیبت کا یہ عالم تھا کہ جب مولانا خراماں خراماں کلاس کی جانب آتے تو طلبہ کے دل دھک دھک کرتے۔ دراصل ان کی شخصیت میں غصے اور اپنائیت کا ایک عجب امتزاج تھا ۔اسی وجہ سے بہت سے طلبہ مولانا کے غصے سے ڈررتے تھے لیکن جب مولانا اپنائیت اور بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے تو طلبہ بھی کھل کر مولانا سے سوالات کرتے اور مولانا بھی کھل کر جوابات دیتے۔
اب اپنی یادوں کے ذخیرے سے مولانا سے متعلق چیدہ چیدہ واقعات تحریر کرتا ہوں جن سے مولانا کی شخصیت کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
۔ایک مرتبہ اسکول میں امتحانات کے دوران ہماری کلاس میں مولانا موجود تھے۔ پرچہ سندھی زبان کا تھا جس کے استاد عاشق صاحب تھے۔ پرچے میں کوئی ایسی مشکل بات تھی جس کے لیے عاشق صاحب سے معلومات درکار تھیں۔ ایک طالب علم نے مولانا سے گزارش کی کہ عاشق صاحب کو بلائیے جو نزدیک ہی دوسری کلاس میں موجود تھے۔ اب جیسے ہی مولانا نے ’عاشق‘ کا لفظ سنا تو ان کی رگِ ظرافت فوراً بھڑک اٹھی اور بلند آواز میں فرمایا ’’عاشق صاحب جلدی آئیے یہاں آپ کے معشوق آپ کو یاد کررہے ہیں‘‘۔ مولانا کے اس جملے پر نہ صرف کلاس کے تمام طلبہ بلکہ خود عاشق صاحب بھی کافی دیر تک مسکراتے رہے۔
۔ایک مرتبہ اساتذہ نے آپس میں رقم جمع کرکے دعوت کا پروگرام بنایا جس میں مولانا بھی شریک تھے۔ ایک صاحب کی ذمہ داری مرغی ذبح کرنے پر لگائی گئی۔ چھری کچھ زیادہ ہی تیز تھی چنانچہ مرغی کی پوری گردن کٹ گئی۔ اب مسئلہ یہ سامنے آیا کہ پوری گردن کٹی مرغی حلال ہے یا حرام چنانچہ اس بارے اساتذہ نے مولانا سے رجوع کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مشکوۃ شریف کی حدیث کے مطابق تو یہ مرغی حلال ہے لیکن اگرآپ لوگ اسے حرام سمجھ چکے ہیں تو اسے مجھے دے دیں، میں اسے حلال سمجھ کے پوری خود کھالوں گا۔ اس پر ایک قہقہہ بلند ہوا۔
۔عموماً کلاس میں مولانا یوں تو تمام طلبہ کو ایک ہی نظر سے دیکھتے اور سب سے یکساں سلوک کرتے، اگر سزا دینی ہوتی تو سب کو سزا دیتے اور تعریف کرنی ہوتی تو اس سے دریغ نہ کرتے لیکن پوری جماعت میں ایک طالب علم ایسا تھا جس کو مولانا نے کبھی سزا نہ دی ۔مولانا کا طریقہء کار یہ تھا کہ جو طلبہ گھر کا کام یعنی Home Work نہیں کر کے آتے ان کے لیے کہتے کہ وہ کھڑے ہو جائیں۔جب ایسے طلبہ کھڑے ہوجاتے تو عموماً اس طالب علم کا نام بھی ان میں شامل ہوتا اور وہ بھی کھڑا ہوتا۔ اس موقع پر مولانا کے چہرے پر ایک خاص ہمدردانہ کیفیت نظر آتی اور اس طالب علم کا نام لے کر اسے بٹھا دیتے اور سزا سے بچالیتے۔دیگر طلبہ کی طرح راقم الحروف بھی طویل عرصے تک یہ سمجھتا رہا کہ یہ طالب علم جس کا نام محبوب تھا مولانا کا حقیقی بھتیجا ہے اور مولانا اس معاملے میں ڈنڈی مار کر اپنے بھتیجے کو ہمیشہ سزا سے بچالیتے ہیں ۔ برسوں بعد مولانا کے برادر اصغر جناب مظفر لطیف صاحب (مقیم کراچی)کے ذریعے جب اصل حقیقت کاعلم ہو اتو دل میں مولانا کی عظمت اور ان کا احترام اور بڑھ گیا۔انھوں نے مطلع فرمایا کہ یہ طالب علم مولانا کے استاد ِ محترم حضرت مولانا حیدر حسن خاں ٹونکی (شیخ الحدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) کا حقیقی پوتا ہے۔ مولانا حیدر حسن خان کے صاحبزادے مولانا سعد حسن خان، پبلک اسکول حیدرآباد میں استاد تھے۔ محبوب ان ہی کا بیٹا ہے اور آج بھی حیدرآبا د میں مقیم ہے۔اب پتہ چلا کہ مولانا عبدالعلیم ندوی کے دل میں اپنے استاد کا کس قدر احترام تھا جس کی بنا پر ان کے لیے یہ ناممکن تھا کہ استاد کے پوتے پر ہاتھ اٹھاتے۔مولانا حیدرحسن خان صاحب کے بارے میں مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ’پرانے چراغ‘ اوررئیس احمد جعفری نے ’دید و شنید ‘ میں بڑے معلومات افزا مضامین لکھے ہیں۔
۔ایک مرتبہ کلاس میں مولانا تشریف لائے تو بعض طلبہ انگریزی زبان کا سبق اکٹیو پیسسیو کرنے میں مصروف تھے۔ مولانا نے پوچھا کیا کررہے ہو تو انھوں نے یہی بتایا ،مولانا نے ڈانٹتے ہوئے کہا، بند کرو اس ایٹھو پیٹھو کو۔مولانا کے منہ سے اکٹیو پیسسیو کو ایٹھو پیٹھو سن کر بڑا لطف آیا۔
۔ ایک مرتبہ مولانا نے گھر کے لیے کام دیا جسے ایک ذہین طالب علم کسی وجہ سے نہ کرسکا۔ اگلے روز مولانا نے فرمایا جن لوگوں نے کام نہیں کیا وہ کھڑے ہوجائیں۔ ڈرتے ڈرتے وہ طالب علم بھی کھڑا ہوا۔ مولانا نے پہلے تو غور سے اسے دیکھا پھر پرلطف انداز میں فرمایا ’’بلبل پھنسی، مینا پھنسی، تو کیوں پھنسی ڈڈو‘‘ اس پر کلاس میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔۔۔جاری۔۔۔