Riyazur Rahman Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"
۔
سلطانی محلہ بھٹکل کی جن شخصیات نے اپنے کاروباری ذوق، محنت اور جدت پسندی سے ایک منفرد مقام حاصل کیا، اُن میں محمد میراں بن حسن باپا صاحب شاہ بندری (عرف بھٹی میراں بھاؤ ) کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ بھٹی ہاؤس، سلطان محلہ کے اس باوقار گھرانے سے تعلق رکھنے والے مرحوم نے ٹھنڈے مشروبات اور آئس کریم کی صنعت میں وہ بنیادیں رکھیں جنہوں نے پورے علاقے میں ایک نئی روایت قائم کی۔
آپ کے فرزندوں میں جناب عبدالرحمن صاحب شابندری قوم کے ممتاز اور کامیاب تاجروں میں شمار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے فود و ہارڈویئر (Hardware) کے شعبے میں اپنی محنت، دیانت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے اور اپنی پہچان مستحکم کی ہے ۔
مزید برآں، جناب محمد حسین، جناب حسن شبر، اور جناب عبدالکلام بھی آپ کے فرزندوں میں شامل ہیں*۔
تقریباً 1938ء میں انہوں نے شہرِ بھٹکل میں پہلی مرتبہ "گلزار سوڈا فیکٹری" کے نام سے سوڈا شربت اور ٹھنڈے مشروبات کی دکان کا افتتاح کیا۔ یہ دکان اردو گورنمنٹ اسکول (بوٹ اسکول) مین روڈ، نزد عائشہ پلازہ کے قریب واقع تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب حالات اور ضروریات بدلیں تو انہوں نے بھی جدت کو اپنایا اور آئس کریم سازی کی طرف قدم بڑھایا۔ اُن کے ہاتھ کی تیار کردہ آئس کریم، فروٹ آئس کریم، فالودہ، گڑبڑ اور سوڈا شربت نے پورے علاقے میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ذائقہ، معیار اور صفائی کے اعتبار سے ان کی مصنوعات بڑی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں منفرد شناخت رکھتی تھیں۔
بعد ازاں انہوں نے "دربار" کے نام سے ایک نئی دکان قائم کی، اور پھر نیشنل ہائی وے پر نور مسجد کے بالمقابل تقریباً چالیس سال قبل "سمر کریم پارلر" کا آغاز کیا، جس نے ان کے کاروبار کو مزید وسعت اور شہرت بخشی۔ آئس کریم وہ خود تیار کرتے تھے، اور یہی ان کے ذوق و کمال کا سب سے روشن پہلو تھا ۔
مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے باصلاحیت صاحبزادے ابو الکلام ابنِ محمد میراں شاہ بندری (عرف بھٹی کلام بھاؤ ) نے اس تجارت کو نئی جہت دی اور دیرینہ وراثت کو پوری محنت اور خوش اخلاقی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ آج یہ خاندان اُن کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اگلی نسل تک منتقل کر رہا ہے، اور اب محمد شاہد اور عبدالباعث شاہ بندری اس کاروبار کو سنبھال رہے ہیں۔
یہ داستان صرف ایک کاروبار کی نہیں بلکہ محنت، مشقت، خلوص اور ذوقِ خدمت کی وہ تاریخ ہے جس نے سلطان محلہ اور بھٹکل کے لوگوں
کے دلوں میں ایک لازوال مقام پیدا کیا۔
(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالا مضمون نگار کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)