Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

06:17PM Wed 18 Feb, 2026

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

بھٹکل کے وسط میں تاریخی چوک بازار  میں سینڈو حلوہ دوکان کے پچھلے حصے میں سلطانی محلہ کا وہ گھرانہ آباد تھا جس نے نہ صرف اپنی دینداری، شرافت اور وضع داری سے شہر میں ایک نمایاں مقام پیدا کیا، بلکہ اپنے ذوقِ ہنر اور فنِ تجارت سے بھی ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ یہ گھرانہ " خوبوسا گھرے" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اہلِ بھٹکل کی اجتماعی یادداشت میں آج بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔

1909ء میں اس خاندان کے معزز بزرگ محترم جناب محی الدین ناخوا رکن الدین مرحوم نے بھٹکل میں ایک منفرد قسم کا حلوہ تیار کرنا شروع کیا۔ جلد ہی ان کے تیار کردہ اس لذیذ و مخصوص ذائقے کے حامل حلوے کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ لوگ اس گھرانے کو محبت و احترام سے "حلوائی" کہنے لگے اور یہی مٹھائی آگے چل کر بھٹکل سینڈو حلوہ کے نام سے معروف ہوئی۔

محترم محی الدین صاحب کے انتقال کے بعد ان کے ہونہار فرزندان جناب باپصائب رکن الدین اور  جناب شاہ الحمید رکن الدین حلوائی نے اپنے والد کے اس فنّی ورثے کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید ترقی اور پذیرائی سے ہم کنار کیا۔ مگر شاہ الحمید صاحب کی شخصیت صرف ایک کامیاب حلوائی تک محدود نہ تھی؛ وہ قومی، سماجی اور سیاسی میدانوں کے بھی درخشندہ ستارے تھے۔ آپ مختلف قومی اداروں سے وابستہ رہے اور اپنی دکان کو سماجی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔

 

اس چھوٹی مگر پررونق دکان میں روزانہ سیاسی و سماجی مسائل پر گفتگو ہوتی، لوگ اخبار و رسائل کا مطالعہ کرنے آتے، اور وہ زمانہ جب گھروں میں ریڈیو عام نہ تھا، اہلِ محلہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے اسی دکان میں جمع ہوتے۔ یوں یہ جگہ صرف ایک مٹھائی کی دکان نہ رہی، بلکہ بھٹکل کے شعور، آگہی اور بیداری کا مرکز بن گئی۔

اب یہ دکان بھٹکل سینڈو حلوہ جناب عبدالرحیم رکن الدین صاحب نہایت خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھال رہے ہیں اور ان کے صاحبزادگان  ڈاکٹر عبدالحمید اطہر رکن الدین، مولانا ابراہیم رکن الدین اور جناب اسماعیل رکن الدین اپنے والد صاحب کا ساتھ دے رہے ہیں، اب اس تجارت کے ساتھ محی الدین ناخوا صاحب کی پانچویں پیڑی بھی شامل ہو رہی ہے۔ مزید برآں تقریباً سترہ سال قبل جناب عبدالرحیم رکن الدین کے فرزندان نے بھٹکل میں “سینڈو بیکری” کے نام سے ایک دوسری دکان کا آغاز کیا، جو قلیل مدت میں عمدہ معیار اور منفرد پہچان کے باعث خوب شہرت حاصل کرچکی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بھٹکل میں  محی الدین ناخوا مرحوم نے خوبس (Bread) بنا کر فروخت کرنے کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں یہ ایک بالکل نیا کام تھا، اس لیے جلد ہی ان کا خوبس پورے بھٹکل میں مشہور ہوگیا۔ ذائقہ، معیار اور محنت نے انہیں دوسروں سے ممتاز بنا دیا، یہاں تک کہ لوگ انہیں اسی کام کی وجہ سے پہچاننے لگے۔ رفتہ رفتہ یہی پہچان ان کی شناخت بن گئی اور لوگ احترام و محبت سے ان کے گھرانے کو “خوبوسا رے” کہہ کر پکارنے لگے۔

یوں ایک سادہ سی محنت نے نہ صرف روزگار دیا بلکہ اس خاندان کو بھٹکل کی تاریخ میں ایک منفرد مقام بھی عطا کیا۔

’’خوبوسا رے‘‘  کا یہ روشن باب بھٹکل کی تہذیبی تاریخ میں ایک یادگار مقام رکھتا ہے—جہاں محنت، دینداری، خدمتِ خلق اور فکری بیداری ایک ہی خانوادے میں جمع ہو کر ایک مثالی ورثہ رقم کرتی ہے۔

 

(نوٹ: اس مضمون میں درج تمام معلومات مضمون نگار کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)