Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"
سلطانی محلہ کی ادبی فضا کے سب سے روشن چراغ جناب سید عبدالرحیم ارشاد ابن سید محمد باپو صاحب یس یم(١٩٣١ء تا ١٩٩٦ء) ہیں، جنہوں نے نوائطی زبان میں شاعری کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری نے نہ صرف جذبات کی ترجمانی کی بلکہ زبانِ نوائط کو بقا، اس کے حسن، اس کی نرمی اور اس کی ثقافتی روح کو دوام بخشا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے اشعار نوائطی تہذیب کے دل کی دھڑکن بن گئے۔
جناب عبدالرحیم ارشاد صاحب کی ادبی خدمات کا سب سے بڑا ثمرہ اخبار نقشِ نوائط کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس اخبار نے نوائطی زبان اور ثقافت کو وہ پلیٹ فارم فراہم کیا، جس نے کئی نسلوں کے دلوں میں اپنی زبان و تہذیب کے لیے فخر اور محبت کا جذبہ پیدا کیا۔ یہ اخبار صرف خبروں کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بن گیا۔ زبان کی حفاظت، ادب کے فروغ اور سماجی شعور کی بیداری کی تحریک بن گئ۔
وہ نوائطی زبان کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی گہری دسترس رکھتے تھے اور پیشہ ور صحافی ہونے کی حیثیت سے کئی انگریزی اور اردو اخبارات و رسائل میں لکھتے تھے۔
نوائط برادری کا پہلا انگریزی اخبار “The Message” سنہ ١٩٥٣ء میں جاری ہوا، جس کے مدیر جناب سید عبدالرحیم ارشاد صاحب تھے۔ یہ اخبار اپنے سنجیدہ اسلوب اور معیاری صحافت کے باعث جلد ہی علمی و ادبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کرگیا ۔
جناب سید عبدالرحیم ارشاد یس. یم کی تحریریں جامع اسلوب، واضح اظہار اور شائستہ طرزِ بیان کا خوبصورت امتزاج ہوا کرتی تھیں، جو ہر قاری پر دیرپا اثر قائم کرتی تھیں۔
نقش نوائط کا اجراء ممبئی میں ١٥/ اپریل ١٩٧٦ء کو محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرارلحق صاحب ہردوئی (١٩٢٠ء - ٢٠٠٥ء) کے ہاتھوں عمل میں آیا، اس کے پہلے مدیر جناب سید عبدالرحیم ارشاد ایس یم ، طابع وناشر مولانا عبدالعلیم قاسمی ابن حاجی محمود مولوی تھے۔ جناب عبدالرحیم ارشاد کے انتقال کے بعد کچھ مدت تک اس کے مدیر محمد علی قمر ابن ابو محمد آرمار (١٩٣٣ء - ستمبر ٢٠٠٠ء) تھے ۔ پھر اس کے بعد مولانا عبدالعلیم قاسمی صاحب اس کے ذمہ دار بنے اور اب تک اس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی محنت اور بصیرت نے نقش نوائط کو نہ صرف برقرار رکھا، بلکہ اسے ایک مؤثر اور باوقار ادبی و ثقافتی پلیٹ فارم کی حیثیت دلائی۔ سلطانی محلہ کے کنارے پر اس کا دفتر کئ سال سے موجود ہے ۔
(جاری)
(ضروری نوٹ: اس مضمون میں درج کسی بھی بات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)