Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

10:06PM Wed 4 Feb, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

    بھٹکل کی قدیم تاریخ باہمی محبت، رواداری اور خاندانی اتحاد کی دلکش تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک ہی گھر میں کئی خاندان الگ الگ کنبہ (بیڑاڑ کوڑیو) میں رہائش پذیر ہوتے تھے، مگر رہن سہن میں یگانگی اور دلوں میں بے لوث محبت ہوتی تھی۔ وسائل محدود تھے لیکن صبر، قناعت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ ہر دل میں موجود تھا۔ دکھ سکھ میں سب شریک ہوتے اور رشتوں کی قدر کی جاتی تھی۔

وقت کے ساتھ بدلتے حالات، جدید طرزِ زندگی اور انفرادی سوچ نے اس خوبصورت روایت کو کمزور کر دیا۔ آج سہولتیں بڑھ گئی ہیں مگر وہ خلوص، قربت اور باہمی اعتماد کم نظر آتا ہے جو کبھی بھٹکل کی پہچان تھا اسی طرح کا ایک عجیب منظر آج بھی سلطانی محلہ میں دار المکہ ( میڈیکل ہاؤس سلطانی مسجد کے پیچھے۔ نزد عمارت سلطان یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن عمارت) میں دیکھنے کو ملتا ہے ( جناب عبد السمیع میڈیکل کا پرانامکان ، جناب مظفر ، جناب جمیل اور جناب اقبال  میڈیکل کا مکان ،حافظ مولوی عرفہ ابن محمد الیاس میڈیکل ، مولوی جیزان طاہرا کی رہائش گاہ )

سلطانی محلہ کا یہ گھرانہ محض ایک خاندان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی علامت ہے۔ اس خاندان کی روح دارالمکہ مرحوم محمد جعفر ابن محمد حسین میڈیکل ‌( زوجہ بی بی ہاجرہ بنت محمد عمر چامنڈی) کی ذاتِ گرامی تھی، جنہوں نے دینداری، خدمتِ انسانیت اور علم سے محبت کو اپنی عملی زندگی میں اس طرح سمویا کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک زندہ مثال بن گئے۔ مسجد سے گہرا تعلق، ذکر و دعا کی پابندی، مطالعے کا ذوق اور عالمِ اسلام کے حالات سے باخبر رہنا ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔

اس خانوادے کی سب سے نمایاں خوبی باہمی ربط و محبت ہے۔ ایک ہی گھر میں قریب چالیس افراد( ایک کوڑی میں ) بزرگ، نوجوان، عورتیں اور بچے ایسے نظم و ضبط کے ساتھ رہتے ہیں کہ ہر فرد دوسرے کا سہارا اور ہر دل ایک دوسرے کے لیے کشادہ نظر آتا ہے۔ 

      گھر کی فضا صبح فجر کے بعد بیدار ہو جاتی ہے۔ بچوں کی تیاری، ناشتہ کی خوشبو اور دن بھر کے کاموں کی منصوبہ بندی ایک منظم ترتیب کے ساتھ انجام پاتی ہے۔ وقت کی پابندی یہاں محض اصول نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے، یہاں تک کہ دوپہر اور شام کا کھانا بھی مقررہ وقت سے پہلے تیار ہو جاتا ہے۔

 

کہا جاتا ہے کہ جناب محمد جعفر ابن محمد حسین میڈیکل صاحب اپنے بچوں اور بچیوں کو ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ محبت اور پیار کے ساتھ اس گھر میں رہ کر اسے آباد رکھنا، اور لڑائی جھگڑے سے ہرگز اسے برباد نہ ہونے دینا۔ انہی سنہرے اصولوں کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج بھی یہ خاندان ایک ہی گھر میں محبت، اخوت اور باہمی احترام کے ساتھ رہ رہا ہے، جہاں تقریباً چالیس سے زائد افراد ایک ساتھ( ایک ہی کوڑی میں ) خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں، اگرچہ یہ تعداد وقت کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، مگر یہ منظر دل کو بے اختیار دعا پر آمادہ کر دیتا ہے۔ کاش ہمارے گھروں میں بھی ایسا ہی ماحول ہوتا، جہاں محبت کی خوشبو، باہمی احترام اور مل جل کر رہنے کا حسن ہر رشتے کو مضبوط بنا دیتا۔

 

یوں یہ گھرانہ سادگی، نظم، دینی اقدار اور خلوصِ رشتہ کا ایسا پیکر ہے جو نہ صرف ماضی کی یاد دلاتا ہے بلکہ حال کے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کرتا ہے۔

(ضروری ہدایت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا یا نا ہونا ضروری نہیں۔)