Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

07:01PM Thu 29 Jan, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

کچھ خبریں صرف خبر نہیں ہوتیں، وہ دل پر بوجھ بن کر اترتی ہیں۔ جب سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کا ذکر سنائی دیتا ہے تو ذہن بے اختیار اُن چہروں کی طرف لوٹ جاتا ہے جو کبھی ہمارے ساتھ تھے اور آج صرف ان کی یادیں ہیں۔ سلطانی محلہ اور اس کے اطراف کی گلیاں ایسی ہی کئی خاموش جدائیوں کی گواہ ہیں۔

جب بھی سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کی خبریں کانوں کے پردوں سے ٹکراتی ہیں تو ذہن بے اختیار چند برس پیچھے چلا جاتا ہے، اور سلطانی محلہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے اُن نوعمر نوجوانوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جو مختلف ادوار میں سڑک حادثات کا شکار ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔

وہ نوجوان جو اپنے پیچھے گھر والوں، اہلِ محلہ اور عزیز و اقارب کو غم و اندوہ میں مبتلا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

انہی میں سے ایک دردناک واقعہ یکم اپریل 1987ء کا ہے، جب امتحانِ سالانہ میں امتیازی نمبرات حاصل کر کے خوشی خوشی گھر لوٹنے والے دونوں بہن بھائیوں میں سے عاطف ابن عبدالستار قاضیا (کالاڑا عبدالستار بھاؤ کے فرزندِ ارجمند) سڑک حادثے میں انتقال کر گئے۔

کہا جاتا ہے انہی سالوں کے آس پاس سلطانی محلہ کے چند نوجوان شازلی ندی میں تیراکی کی مشق کر رہے تھے۔ اسی دوران پٹّو ہاؤس سے تعلق رکھنے والے فہد ابن محمد اسلم شابندری گہرے پانی کی نذر ہو گئے اور ڈوب کر انتقال کر گئے۔

اور یہ اندوہناک واقعات علاقے میں رنج و غم کی فضا چھوڑ گئے

اسی کے چند سالوں بعد سلطانی محلہ کے ایک ہی خاندان کے تین افراد ایک المناک حادثے کا شکار ہوئے:

ایمن بنت محمد جنید صدیقہ گھاٹی (زوجہ نظام الدین حاجی فقی، جناب جعفر، جناب مبین ، جناب رضوان صدیقہ کی بہن )،

انس ابن نظام الدین حاجی فقی

اور نظام الدین حاجی فقی ،

جبکہ اسی سفر میں جناب رافت اور  مولوی رحیق شاہ بندری کے والد محترم  مولانا رحمت اللہ ابن محمد حسن شاہ بندری بھی رمضان المبارک 1416ھ، مطابق 26 جنوری 1996ء کو کیرلا سے واپسی پر بس حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

 

اسی سلطانی محلہ کی ایک ننھی اور معصوم جان، جناب عادل باشاہ شاہ بندری کے فرزندِ ارجمند اسمعیل ابن عادل شاہ بندری، سن 2001ء میں ایک افسوسناک سڑک حادثے کے باعث اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔

اسی تسلسل میں شبانہ پروین بنت عبدالغفور یس ایم (زوجہ محمد اشفاق کولا ، اشعث کولا کی والدہ محترمہ) 9 نومبر 2009ء بروز جمعہ مینگلور سے واپسی پر بیندور کے قریب سڑک حادثے کا شکار ہوئیں۔

ایڈوکیٹ وکیل نوشاد بن حسن بن محمد احمد قاسم جی شہید

منگلور، بھٹکل (کرناٹک) کے تاریخی سلطانی محلہ سے تعلق رکھنے والے ایک جری، بااصول اور نامور وکیل تھے۔ وہ بالخصوص انسانی حقوق کے دفاع اور مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے کے سبب جانے جاتے تھے۔ اپنی بے باک وکالت اور حق گوئی کی وجہ سے انہوں نے عدالتی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔

9 اپریل 2009ء کو منگلور میں ان کے گھر کے قریب انہیں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت قانون، انصاف اور انسانی وقار کے لیے ایک ناقابلِ فراموش قربانی ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

نوجوانی کے عالم میں رخصت ہونے والوں میں جناب میراں باشا ابن محی الدین شاہ بندری (فرزند اِنَّمَا باپا بھاؤ) بھی شامل ہیں، جن کا انتقال محض 23 سال کی عمر میں ہوا۔

چند برس بعد عمر اعمش ابن محمد معین محتشم ( حافظ علی وائل محتشم کے بڑے بھائی) 21 سال کی عمر میں 30 اپریل 2013ء کو مینگلور کے قریب سورتکل میں سڑک حادثے میں وفات پا گئے۔

اسی طرح فیاض ابن فضل الرحمن شاہ بندری  20 سال کی عمر میں  18ستمبر 2015 ء ہبلی کے قریب کار حادثے میں اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔

2 دسمبر 2015ء بروز بدھ سید مظفر سید ہاشم یس ایم شیربڑی( مولوی محمد ثانی ندوی اور محمد ثالث  اکرمی کے بڑے ماموں جان )شمس الدین سرکل بھٹکل میں ایک لاری کی ٹکر سے انتقال کر گئے۔

پھر اس کے جناب فاروق ابن اسمعیل صدیقہ (کاکڑا فاروق بھاؤ۔ جناب معروف، جناب شارق ، جناب خلیل صدیقہ کے والد محترم) 14 اگست 2020 ءکو ایک افسوسناک سڑک حادثے میں شدید زخمی ہوئے۔ چند ماہ تک علالت کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

بعد ازاں سید ثوبان بن سید رضوان یس ایم( مولانا سید علی رضا یس یم صاحب کے چھوٹے بھائی) 15 ربیع الاول 1442ھ، مطابق یکم نومبر 2020ء بروز اتوار شام چھ بجے ساگر روڈ کے اندرونی علاقے میں سڑک حادثے کا شکار ہوئے۔پھر‌اس کے چند سالوں بعد سید یحییٰ بن سید عثمان یس ایم ( جناب عبدالحمید، سلیمان، عبداللہ کے چھوٹے بھائی)27 جون 2023ء بروز منگل ساگر روڈ پر ایک المناک سڑک حادثے میں ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے۔

 اور ایک دہلانے والا واقعہ 31 دسمبر 2016ء کو ہمارے‌‌ محلے کے ہونہار نوجوان جناب نفیل ابن محمد اسمٰعیل ہلارے ایک دردناک سڑک حادثے کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کی بینائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ خوشیوں کی وہ رات ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوئی۔ 

آج اس حادثے کو دس سال مکمل ہوچکے ہیں، مگر نفیل بھائی آج بھی صبر، حوصلے اور مضبوط ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بینائی کی بحالی کی دعائیں کر رہے ہیں۔

 

*آزمائش ہے نشانِ بندگان محترم*

*جانچ ہوتی ہے انہی کی جن پہ ہوتا ہے کرم*

 

اسی کے ساتھ حالیہ دنوں سلطانی محلہ کے معزز فرد اور سلطان یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے رکن جناب عبدالسلام ابن غلام محی الدین اکرمی کے فرزندِ ارجمند محمد ایان ابن عبدالسلام اکرمی اور ان کی بہن محترمہ تسنیم اکرمی (زوجہ محمد اشرف رکن الدین) کے فرزندِ ارجمند محمد بلال رکن الدین، 28 رجب المرجب 1447ھ مطابق 18 جنوری بروز اتوار بھٹکل ہی میں ایک افسوسناک کار حادثے میں اپنے حقیقی رب سے جا ملے۔

ایک ہی گھرانے کے دو مضبوط سپوتوں کی یہ ناگہانی جدائی پورے شہر کو غمزدہ کر گئی۔

یہ المناک حادثات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ زندگی نہایت ناپائیدار اور ہر لمحہ اللہ کی امانت ہے۔ نہ عمر کی ضمانت ہے اور نہ ہی اگلے لمحے کی خبر۔ جو نوجوان کل اپنے خوابوں اور امیدوں کے ساتھ ہمارے درمیان تھے، آج وہ صرف یادوں اور دعاؤں کا حصہ بن چکے ہیں۔

 

*اے محلہ کے نوجوانو*! تم ہمارے آج کی طاقت اور کل کی امید ہو۔ رفتار، جوش اور لاپرواہی لمحوں میں سب کچھ چھین سکتی ہے۔ اپنی زندگی کو ثابت کرنے کے لیے نہیں، محفوظ رکھنے کے لیے جیو۔ ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ، احتیاط اور دعا یہ کمزوری نہیں، دانائی کی علامت ہیں۔ یاد رکھو، تمہاری ایک غلطی صرف تمہاری نہیں، پورے گھر کی آزمائش بن سکتی ہے۔

*اہلِ محلہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنیں*۔ نوجوانوں کی رہنمائی کریں، غلطی پر ٹوکیں، درست رویّے کی حوصلہ افزائی کریں اور اجتماعی طور پر سڑک تحفظ کا شعور بیدار کریں۔ مسجد، محفل اور گھروں میں 

احتیاط کا پیغام عام کیا جائے، 

کیونکہ محفوظ معاشرہ صرف دعاؤں سے نہیں، عملی احساسِ ذمہ داری سے بنتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سواری کے دوران احتیاط کو لازم پکڑیں، اپنی اور دوسروں کی جان کی قدر کریں اور ہر آغاز اللہ کے نام سے کریں۔ ساتھ ہی ہمیں ان مرحومین کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ نیکی ہے جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔