Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

09:20PM Fri 9 Jan, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

بھٹکل میں ایک زمانے تک فطرہ کی تقسیم کا کوئی نظام نہیں تھا٬ عیدالفطر کی رات مستحقین فطرہ لینے کے لیے گھر گھر جاتے اور کئی لوگ شرم اور عزتِ نفس کی وجہ سے اپنے گھروں سے نہیں نکلتے تھے اور ان تک صدقہ فطر نہیں پہنچ پاتا تھا۔ 

لہذا یہ صورتِ حال  نوجوانوں کے لیے فکر کا باعث بنی کہ اس کام کو  بہتر، باعزت اور منظم طریقے سے کیا جانا چاہئے۔

اسی سوچ  کے ساتھ سب سے پہلے علوا محلہ میں شوال المکرم 1405ھ مطابق جون 1985ء میں فطرہ جمع کرنے کا آغاز کیا گیا اس کے بعد اسی فطرہ نظام کو سلطانی محلہ میں بھی شروع کیا گیا۔

سلطانی کے ایک درد مند نوجوان نے جب اس نظام کو دیکھا تو نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور مشورہ دیا کہ اس نیک کام کو باقاعدہ ایک بہتر نظام کی شکل دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ 

اور پھر انھی کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے چند پرعزم نوجوانوں نے مل کر اجتماعی فطرہ کمیٹی کی بنیاد رکھی ۔

اس سلسلے کی پہلی میٹنگ علوا محلہ میں منعقد ہوئی، جبکہ بعد کی میٹنگیں سلطانی مسجد میں منعقد ہوئیں۔ ان میٹنگوں  میں نشیبی محلوں کے نوجوان بھی شریک ہوئے اور سب نے مل کر ایک سادہ اور واضح لائحہ عمل تیار کیا، تاکہ فطرہ کی وصولی اور تقسیم ایمانداری،اور شفافیت کے ساتھ انجام پائے اور مستحق افراد تک ان کا حق بآسانی پہنچ سکے۔

 فطرہ کی وصولی کے لئے بھٹکل میں مخصوص مقامات مقرر کیے گئے،-

جس میں خاص طور پر سلطانی محلہ میں (یس یم ہاؤس عرف بالڈی ہاؤس ) جناب سید ذاکر ابن سید محمد صاحب یس یم ،جناب سید فیاض ابن سید فقی باشاہ  کا پرانا گھر ،حالیہ جناب نبیل ابن محمد اشرف قاضیا کا مکان ) وہاں فطرہ جمع کیاجاتا اور عید کی رات مستحقین تک فطرہ انتہائی احترام کے ساتھ پہنچایا جاتا

یہ سارا نظام ان نوجوانوں کے اخلاص، محنت اور بے لوث خدمت کا نتیجہ تھا جنہوں نےاس کے لئے انھوں اپنا وقت بھی دیا اور اپنے آرام کی قربانی بھی دی-

 وقت کے ساتھ ساتھ یہ پہل ایک منظم طریقہ اختیار کر گئی اور اب یہ نظام مرکزی فطرہ کمیٹی کی نگرانی میں نہایت کامیابی سے چل رہا ہے۔

 

 رپورٹ کے مطابق اپریل 2025ء میں مرکزی فطرہ کمیٹی کی سرپرستی میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار کلو چاول جمع ہوا۔ اس کی تقسیم کے لیے 58 حلقے بنائے گئے۔ مقامی محلّوں کے نوجوانوں اور اسپورٹس سینٹروں نے بھرپور تعاون کیا، اور علماء کرام نے بھی اس مین اپنا خصوصی تعاون پیش کیا ۔

شیرور سے لے کر انکولہ تک مجموعی طور پر 1859 خاندانوں میں چاول تقسیم کیا گیا۔ ہر خاندان کو اوسطاً 50 کلو چاول، جبکہ معذور اور بڑے خاندانوں میں  ایک کوئنٹل تک تقسیم کیا گیا 

چوتھے سال بھی ہر خاندان کو 5 کلو باسمتی چاول دینے کا سلسلہ برقرار رہا۔ اس سارے نظام کی نگرانی اسی محلہ  کے روشن چراغ اور فطرہ کمیٹی کے کنوینر *مولانا محمد الیاس فقی احمدا ندوی*  انجام دے رہے ہیں ۔

آج بھٹکل میں صدقہ فطر کی تقسیم  ایک مضبوط نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 

یہ نظام دلیل ہے اس بات کی کہ جب نوجوان اخلاص کے ساتھ کام کریں گے  تو ایک چھوٹا سا قدم بھی شہر کی  بہت بڑی خدمت بن سکتا ہے اور آج  تقریباً چالیس سال سے یہ نظام زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے ۔

 

یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ  جناب سید احمد بن سید میراں بن سید فقیہ صاحب سید محی الدینا —( *عرف پوڑ خاندان*) نے دینی تعلیم و تربیت کے فروغ کے لیے جو خدمت انجام دی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے والدین اور وارثین کی طرف سے ساڑھے بارہ ایکڑ رقبہ زمین خالصتاً اللہ کی رضا اور امت کے علمی مستقبل کے لیے وقف کیا، جو آج جامعہ آباد کے نام سے مشہور ہے اور جامعہ اسلامیہ کا ایک بنیادی حصہ اور ان کے اخلاص کی روشن دلیل ہے

اور یہ بھی سلطانی محلہ ہی کے رہنے والے تھے

*(" پوڑ ہاؤس" )ان کے  فرزندوں میں جناب ناصر یس یم ، جناب صابر یس یم، جناب صادق یس یم، جناب ناطق یس یم اور جناب توفیق دامودی  کے والدہ کا خاندان)*  

اس باوقار خاندان کا یہ مخلصانہ عمل صدقۂ جاریہ کی ایک روشن و منفرد مثال ہے

یہ انہی کا اخلاص اور جذبۂ خیر ہے کہ آج وہ زمین  دین، علم اور روحانی اقدار کا مرکز بنی ہوئی ہے جو نسلوں تک علم کی روشنی بانٹتا رہے گا 

اور اسی گھرانے کی ایک سخاوت شعارخاتون ‌محترمہ بی بی فاطمہ سیدانی زوجہ یس یم سید علی صاحب کے عطیہ سے *اردو گورنمنٹ زنانہ اسکول* کی تعمیر عمل میں آئی اور ان کی یہ خدمت بھی نہ صرف سلطانی محلہ بلکہ پورے بھٹکل کے لیے ایک تاریخی صدقہ جاریہ ہے۔

 

سلطانی محلہ کی یہ روداد اس بات کی روشن مثال ہے کہ اخلاص، اتحاد اور خدمتِ خلق سے ایک محلہ کس طرح پورے شہر کے لیے نمونہ بن سکتا ہے۔ منظم فطرہ نظام، نوجوانوں کی محنت اور بزرگوں کے صدقۂ جاریہ نے اس بستی کو دین و علم کا مرکز بنایا۔ یہی جذبہ بتاتا ہے کہ جب نیتیں زندہ ہوں تو دیوار و در بھی دوبارہ جی اٹھتے ہیں۔

 

(ضروری نوٹ: اس مضمون میں درج تمام خیالات اور معلومات مضمون نگار کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا یا نہ ہو نا ضروری نہیں ۔ ادارہ بھٹکلیس)