عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ ۔ قسط ۰۱- تحریر: عبدالمتین منیری

Bhatkallys

Published in - Other

08:13PM Sun 15 Sep, 2019

یہ مضمون ۱۹۷۹ء  میں مولانا عبد الحمید ندوی علیہ الرحمۃ کی  رحلت کے بعد نقش نوائط ممبئی میں قسط وار شائع ہوا تھا، پھر اسے بانی جامعہ ڈاکٹر علی ملپاعلیہ الرحمۃ اور حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم سرپرست جامعہ کی موجود گی میں سنہ ۱۹۹۸ء جامعہ آباد میں منعقدہ سیمنار میں پیش کیا گیا تھا۔ استاذ محترم مولاناعبدالحمیدصاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکرخیرہو اوراس کاآغازانجمن حامی مسلمین کے تذکرہ سے نہ ہوکیوں کرممکن ہے! بھٹکل میں اسلامی نشأۃ ثانیہ کی داغ بیل تویہیں پرڈالی گئی تھی، تعلیمی بیداری کی نیویہیں سے اٹھائی گئی تھی اورمولاناندوی اسی ادارے کے مخلص ذمہ داران کی کوششوں سے عطیہ خداوندی بن کرپہلے پہل یہاں تشریف لائے تھے ۔ یہ بات دہراتے رہنے میں مضائقہ نہیں کہ ۱۹۱۹ء میں انجمن خفیہ جسے بعد میں مجلس اصلاح وترقی کانام دیاگیا تھا کے بعض اراکین نے جن میں جناب یف اے محمد حسن صاحب جاکٹی پیش پیش تھے انجمن کی طرف سے ایک ایسے مدرسہ کی بنیادکی تحریک کی جہاں مذہبی اورمغربی دونوں علوم کی تعلیم دی جائے، بعض اراکین نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کوملتوی کرناچاہاتوجناب محمدحسن مرحوم وشرکاء انجمن خفیہ سے علاحدہ ہوگئے اورقوم کی مادرعلمی انجمن حامی مسلمین کی بنیادرکھی۔ مارچ  ۱۹۲۱ء میں جناب یس یم سیدعلی مرحوم کے قائم کردہ مدرسہ اسلامیہ کواس شرط پرانجمن میں ضم کیا گیا کہ انجمن دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کاانتظام لازمی حیثیت سے برقراررکھے گی، انجمن ایک دہائی تک پرائمری اسکول کی حیثیت سے کام کرتارہا،جب ۱۹۲۹ء میں پرائمری اسکول پرسے انجمن انتظامیہ کاکنٹرول ختم ہوکراس کانظام سرکارکے ہاتھ میں چلاگیاتودل دردمندرکھنے والے ذمہ داران انجمن جناب حاجی حسن صاحب صدرانجمن، جناب یم یم صدیق صاحب سکریٹری انجمن اورآئی ایچ صدیق صاحب ہیڈماسٹرانجمن اسکول کوفکرلاحق ہوئی کہ انجمن کے مقصد تاسیسی پراس ضرب کاری کے بعداب قوم کی خیرنہیں، انجمن کے اسلامی تشخص کی بقا، اس کی ترقی، اس میں اعلی درجات کے اضافہ، اس کے معیارکوبلند کرنے کی فکرانہیں لاحق ہوئی اوراسی فکرمندی میں جناب اسماعیل حسن صدیق کی قیادت میں ایک وفد سوئے لکھنؤروانہ ہوا، تاکہ دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤکی خدمات اس سلسلہ میں طلب کی جائیں، آئی ایچ صدیق مرحوم کی تحریک خلافت سے وابستگی رہی تھی، حضرت حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی ؒ وغیرہ اکابرین امت کی آپ نے صحبتیں اٹھائی تھیں، شاید اسی ناطے آپ کے تعلقات دارالمصنفین اعظم گڑھ کے منتظم اعلی مولانامسعودعلی ندوی ؒ سے قائم تھے، مولانااس وقت ندوہ کے معتمدتعلیمات تھے اورمسجد ندوہ کی نیواٹھارہے تھے، آگے بڑھنے سے پہلے ذرامولاناعبدالحمید صاحب ندویؒ کی زبانی وفدکے ارکان کاتعارف سن لیجئے، یہ مولاناکی دستیاب معدودے چندتحریروں میں سے ایک ہے، فرماتے ہیں۔ حق تعالی کامزید کرم یہ ہواکہ اوائل کارہی میں اللہ پاک نے قوم کوایک نیا اورسب سے پہلاگریجویٹ عطافرمایا، جسے کارکنان انجمن نے پوری قدردانی کے ساتھ اپنی رفاقت میں لے لیا، گریجویٹ سے آپ دھوکہ نہ کھائیں، اس کوبھٹکل کے تنگ وتاریک گھرمیں رہنے والی ماں نے پالاتھا، انہیں ماؤں میں سے ایک نے جن کی تعلیم وتربیت کی برکتوں کاابھی اوپرناتمام ساتذکرہ کیاجاچکاہے اورجن ماؤں کواب آپ ترسیں مریں جب بھی نہ پائیں گے، انہیں کی تربیت کااثرتھا کہ یہ نوائط گریجویٹ اپنی دینداری، تقوی وطہارت، خداترسی وسادہ لوحی، ایثاروقربانی وغیرہ صفات اسلامی کاجامع اپنی نظیرآپ تھا، تہجدگذار، غریب نوازاورسب سے بڑھ کریہ کہ قوم کاپہلاگریجویٹ ہونے کے باوجودمغرب اورمغربیت سے سرتاسربیزار، نفورو گریزاں ایساکہ اتناکہنے سے آپ موصوف کے اخلاق کاصحیح تصورنہیں کرسکیں گے، ہمارے اورآپ کے تصورسے کہیں زیادہ نیک اورمسلم ومنیب قلب کے مالک، جس طرح اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوصنم خانہ میں رکھ کرصنم شکن بنایا، اسی طرح اللہ تعالی نے اس نوائط گریجویٹ کومغربیت میں غوطہ دیکربھی اس کے اثرات سے بال بال بچایابلکہ اس سے مغربیت کے استعمار کاکام لیا، دین بچپن سے ایسارگ وپے میں بس چکاتھاکہ نہ نکلتاتھا، نہ نکلااورروح اسلام کے خلاف کوئی رنگ نہ چڑھناتھانہ چڑھا، اب کیاتھامرحوم یس حاجی حسن  نوراللہ مرقدہ جیساپیکرسنت صدرانجمن اورمرحوم ائی ہیچ صدیق جیسا فدائے دین وملت انجمن اسکول کامختارکل ہیڈماسٹر، سونے پہ سہاگہ، اسکول اورہیڈماسٹرکاالفاظ کہیں یہاں بھی دھوکہ نہ دے دیں، واضح رہے کہ یہ انجمن اسکول تھاتوانگریزی ہی اسکول لیکن اپنی معنویت میں کسی عربی دارالعلوم سے کم نہ تھااورنہ ہیڈ ماسٹرہی کسی دینی جامعہ کے مہتمم سے فروتر، انگریزی تعلیم کاانتظام ہوا لیکن دینی تعلیم کے اہتمام پرخصوصی نظررہی، انگریزی کے ساتھ عربی زبان اوردینیات کی تعلیم کاخاص انتظام کیاگیا، مستندعلماء کی خدمات حاصل کرکے دینیات کی تعلیم کواوربھی اہمیت دی گئی، دینی تعلیم کے معیارکااندازہ کرنے کیلئے اتناہی کافی ہے کہ دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤسے خصوصی طورپرعلماء کی خدمات حاصل کی جاتی رہیں (روداد اجلاس اول) مولانامسعودعلی ندوی جنہیں مولانادریابادی نے بجاطورپرسالارغازی کے لقب سے یادکیاہے، ان کوایسے ارکان پرمشتمل وفد کیونکرمتاثرنہ کرتا، مولانا کی مزاج شناسی اوراہل بھٹکل سے محبت نے اثردکھایا اورآپ کی نظرانتخاب بارہ بنکی کے قصبہ جیسکھ پورکے نوجوان فاضل مولوی عبدالحمید پرجاپڑی، بلایااورکہاکہ بھٹکل کاوفد باہرانتظارکررہاہے، انہیں تمہاری ضرورت ہے، بوریہ بسترباندھواورچھ ماہ کیلئے بھٹکل ہوآؤ، اس حکم پرمولاناعبدالحمید ندوی ششدررہ گئے، پیرومرشد کاحکم تھا، بجالا لانا ضروری تھا، گاؤں قریب ہی تھا لیکن بال بچوں سے اجازت لینے کی فرصت کہاں تھی، کھڑے کھڑے بسترباندھا، ضروری کپڑے لئے اوربھٹکل کیلئے روانہ ہوگئے ۔ مولاناندوی پہلے پہل جب بھٹکل کے لئے روانہ ہوئے تھے،توکوئی معاشی مسئلہ آپ کودامنگیرنہ تھا، لکھنؤمیں ہومیوپیتھی دواخانہ ٹھیک ٹھاک چل رہاتھا، گاؤں میں قابل کاشت آباء واجداد سے چلی آرہی زمینیں تھیں، دوست ہم جولی لکھنؤہی میں تھے، آپ مسجد ندوہ کی تعمیرمیں مولانامسعودعلی ندوی کاہاتھ بھی بٹارہے تھے، اس وقت کا لکھنؤملی تحریکات کا مرکزبناہواتھا، چاروں طرف چہل پہل تھی، ایک مجلسی مزاج کے آدمی کواس سے زیادہ کیا چاہئے تھا، ایسے میں ہفتہ بھرسفرکی صعوبتیں برداشت کرکے ایک پسماندہ قصبہ میں جہاں پرمالی بدحالی کایہ عالم ہوکہ ابھی چند روزپیشتراخراجات پورے نہ ہوسکنے کی وجہ سے اکلوتاپرائمری اسکول سرکارکی تحویل میں دے دیا گیا ہو، اودھ کے کھیت کھلیانوں کی کھلی فضا کوچھوڑکرتنگ وتاریک گلیوں میں اجنبی لوگوں میں رہنے میں سوائے جذبہ قربانی کے اورکیا کشش ہوسکتی تھی۔ http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/