عبد اللہ لنکا ۔ قوم کے ایک حوصلہ مند فرد کا فراق۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys

Published in - Other

07:58PM Tue 15 Oct, 2019

کوئی دس ماہ قبل ۱۳ دسمبر  کو نوائط محفل کی ایک نشست تھی، احباب کی اطلاع پر کہ عبد اللہ لنکا صاحب بھی اس میں شرکت کرنے والے ہیں میں بھی ان کو ایک نظر دیکھنے کے لئے شام گئے حاضر ہوا ، لنکا صاحب ایک کرسی پر اٹھا کر لائے گئے ، وہ کئی سالوں سے صاحب فراش تھے، خود سے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے تھے، اس دور ان ان پر ایسے وقفے باربار آتے تھے جب   وہ کسی کو پہنچاننا بھی مشکل ہوتا، اب جو لائے گئے تو ہشاش بشاش تھے، اپنے چاہنے والوں پہچاننے  کا اشارہ بھی دے رہے تھے، شاید یہ بجھتی ہوئی شمع کی آخر ی لو تھی ، جو بھڑکی اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی ، اس کے بعد دوست واحباب میں سے کسی سے ملنے کی اطلاع موصول نہیں  ہوئی ، اور پرسوں ۹/ اکتوبر  کو خبر آئی کہ آپ   ہمیشہ کے لئے اس دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے  آزاد ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جاملے، اور بھٹکل کی ہنستی بولتی محفلوں کو سونا کرکے چلے گئے، اب صرف ان کی یاد ہی دلوں میں زندہ رہے گی۔

لنکا صاحب ایک خوش مزاج اور صاحب خیر انسان تھے، انہوں  نے بھٹکل کی سماجی اور معاشرتی میں بھرپور کردار ادا کیا ، وہ ایک کامیاب تاجر تھے، ان کا  رواں رواں خیر کے جذبات سے پر تھا،  انہوں نے تعاون کا ہاتھ ہرضرورت مند کے لئے پھیلایا ، اور جب یہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے تو ان کی نیکیاں یاد آرہی ہیں ، کیسا خوب آدمی تھا وہ۔

انہوں نے  زندگی کے اس سفر میں ۸۴ سال گزارے ، انہوں نے ایک بہت ہی غریب گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں، ان کی ابتدائی زندگی بڑی ہی کسم پرسی میں گزری ،گھر کے  معاشی حالات ایسے تنگ تھے کہ دو وقت کا کھانا ڈھنگ سے میسر نہیں تھا، والد کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا، ماموں جان  سرپرستی کرتے تھے، ایسے میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کبھی ندی کنارے جاتے ، دو چار چھوٹی موٹی  مچھلیا ں شکار کرکے لاتے ، اور کبھی سادہ سالن  اور اچار سے چاول تناول کرتے۔

ابھی کم عمری کازمانہ تھا، پڑھنے کے دن تھے، ان دنوں آم ، تربوز کی قاشیں اور مولود نامہ ، ایکاگے سیانو وغیر ہ گھروں میں رائج نائطی کتابچے ٹوکری میں رکھ کر گھر گھر آواز دیتے ، ایک مال ستی، گلابی ، گلابی اطلس ، ایک مال برگوش، کالنگ  کالنگ ، یا پھر صدا لگاتے ، کتابے کتابے ۔ بھوک  کی آگ اس طرح مٹانے کے اسباب  پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ  انجمن میں تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔

ابھی میٹرک کا امتحان سر پرتھا ایک روز نما ز جمعہ سے  سے قبل حسب عادت نہانے  شاہدلی ندی گئے، یہاں کی مسجد میں اب  تبلیغی مرکز واقع ہے، ہم نے ۱۹۶۴ کے آس پاس وہ زمانے بھی دیکھا ہے جب  ندی کی طغیانی میں اتنا پانی  اوپر کو چڑھتا تھاکہ قریبی محلہ تکیہ کے مکانات کی ڈیوڑھیوں تک پہنچ جاتا تھا، اس وقت پانی چڑھ کر مسجد کی چھت سے لگ جاتا تھا، یہ ندی اڑوس پڑوس کے  بچوں کے لئے تیرنے کی سب سے پسندیدہ جگہ تھی ، اب کبھی مارچ اپریل میں اس ندی میں ایک قطرہ پانی نظر نہیں آتا تو  اس دور کی یاد پلکوں سے دو قطرےضرور ٹپکا دیتی ہے۔ بھرے پانی میں عبد اللہ لنکا نے  سر کے بل  پانی میں چھلانگ لگا دی ، غلطی سے ایک تیرتے ہوئے بچے کے سر پر پیٹ کے بل گر گئے،   شدت الم سے بے قابو ہوکر پانی میں  ڈوب گئے،  جائے وقوع پر ماہر تیراکوں کی تلاش سے    جسم اس حالت میں ملا کہ کپڑے کا کوئی ٹکڑا اس پر نہیں تھا، مادر زاد ننگے جسم  کو میت کی  طرح کندھوں پر لادکر لے جایا گیا ، قسمت کے لکھے کو کون بدل سکتا ہے؟ابھی وقت نہیں آیا تھا، موت کے فرشتے کو ان کی   روح قبض کرنے کے لئے مزید ستر سال انتطار کرنا پڑا۔البتہ  چٹخی ہوئی  پسلیوں کو درست ہونے کے لئے چار ماہ بستر پکڑے  رہنے پر مجبور ہوئے۔ اس وقت شمس الدین جوکاکو وغیرہ بزرگوں نے لاکھ سمجھایا کہ ابھی تم کمزور ہو،  امسال امتحان نہ دو،میٹرک امتحان کے لئے ایک سال انتظار کرو، لیکن آپ  نے اس کڑے وقت میں امتحان بھی دیا اور کامیاب بھی ہوئے۔

یہاں سے تلاش معاش کے سلسلے میں آپ  کیرالا کے شہر تلشری  روانہ ہوئے، وہاں پر آپ کے بھائی نے کوشش کرکے گھوٹانی مل کے کپڑوں کی ایجنسی حاصل کی  تھی، اس وقت ملبار اور کیرالہ میں  بھٹکلی تاجروں کا ایک جھمگھٹا تھا، ان کی کالیکیٹ میں تیس چالیس کپڑوں کی دکانیں تھیں ،قوم کے  فرد ہونے کے ناطے ان دکان داروں نے سامان کی بکری میں ساتھ دیا، لیکن یہ سلسلہ چار پانچ ماہ سے زیادہ نہ چل سکا، یہاں سے آپ اڈپی روانہ ہوئے جہاں آپ نے  چائے کی پتی کا کاروبار شروع کیا ، یہ کاروبار بھی زیادہ نہ چل سکا، پھر آپ کالیکٹ روانہ ہوئے، اور بھٹکل کی گھڑی ساز جابر  صاحب کے ساتھ گھڑی کے اجزاء کی فروخت کے لئے کمرشل واچ کمپنی قائم کرنے کی کوشش کی،  لیکن یہ بیل بھی مونڈھے نہیں چڑھی،  دس بیس روز کے بعد دوبارہ ایجنسی شروع کی ، اور ۱۹۷۰ ء کے آس پاس ممبئی روانہ ہوئے اور  باقاعدہ تجارت کا آغاز کیا، یہاں ۱۹۷۴ ء تک آپ  کا قیام رہا ۔ جو زندگی  کی رعنائیوں سے بھرپور تھا۔

 ممبئی میں آپ کو اپنے ہم زلف ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی کی رفاقت نصیب ہوئی، دونوں میں ذہنی ہم آہنگی تھی، رشتہ بھی محبتوں بھرا تھا، ادارہ تربیت اخوان ہویا بھٹکل مسلم جماعت ممبئی، آپ نے  قومی اور ملی کاموں میں بھرپور حصہ لیا، یہاں آپ جماعت کی بچت اسکیم کے کنوینر بھی رہے، اور اسے فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ، اس دوران آپ نے بھٹکل میں شمس نرسری اسکول کے قیام اور پندرہ روزہ النوائط  کے اجراء میں  شریک رہے،  انجمن گولڈن جوبلی کے موقعہ پر النوائط کے جس پہلے شمارے کا اجراء کیا گیا تھا، اس  شمارے کی نصف کتابت آپ ہی کے قلم سے تھی۔

پھر جب  روزگار اور معاش کی ترقی کے لئے خلیجی ممالک کے دروازے کھلے تو آپ   نے سعودی عرب منتقل ہوکر دمام میں اپنا کاروبار شروع کیا ، پھر اپنے برادر نسبتی مشتاق محتشم کٹک کے ساتھ ریاض کو مستقر بنا یا اور  اپنے کاروبار کو پھیلایا ،  یہاں بھی آپ نے قومی و سماجی و اجتماعی زندگی کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی صلاحیت  اور وقت دیا ، دامے درمے بھی آگے بڑھتے رہے، ریاض میں بھٹکل مسلم جماعت کے قیام اور اسے مستحکم کرنے میں آپ کا اہم کردار رہا۔ ان خدمات کے طفیل آپ کو بھٹکل کے مقامی اداروں میں سے مجلس اصلاح و تنظیم اور جماعت المسلمین کے نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز کیا گیا ۔

 ۱۹۸۰ کے دہے میں جب اسلامک ویلفیر سوسائٹی بنیاد  پڑی، اور کچھ عرصہ بعد اس کی باگ ڈور   مرحوم سید عمر برماور کے ہاتھ میں آئی تو  اس سے لوگوں کا اعتماد اس ادارے پر بڑھ گیا ، مرحوم نے جن ہم خیال افراد کو اس ادارے  کے مالی استحکام کی جانب خاص طور پر متوجہ کیا  تھا،ان میں عبد اللہ لنکا اور سید حسن برماور کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے، یہ وقت ان کے تجارتی عروج اور کشادہ دستی کا تھا، ان دونوں نے سوسائٹی کے ابتدائی دور میں اسے مالی طور پر مستحکم کرنے کے لئے بہت جدوجہد کی، جس کا پھل قوم کو آج مل رہا ہے۔

عبد اللہ مرحوم میں وسائل کی کمی کے باوجود بڑے منصوبے بنانا اور اسے کامیاب کرنے کے لئے جد وجہد کرنا  اور وسائل کی فراہمی کی کوشش کا خاص ملکہ حاصل تھا، یہ انہی کا حوصلہ تھا کہ آپ کےد ور صدارت میں ویلفیر سوسائٹی نے اپنے دائرہ کار کو بڑھا کر بھٹکل میں علاج معالجہ کی اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے زوال پذیر کولاکو اسپتال کو خرید کر اسے جاری و ساری رکھا۔ آپ کو اس بات کی بڑی فکر رہتی تھی کہ ہمارے بچے جب عیسائی مشنری  یا غیر مسلموں کے اسپتالوں میں جنم لیتے ہیں تو ان نوزائیدہ  نونہالوں کے  بپتسمہ اور دوسری  مشرکانہ رسومات  اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں گزرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ویلفیر اسپتال اور آسیہ اسپتال    کو اپنے زیر انتظام لینے میں آپ کی یہی سوچ غالب تھی، آپ کی عہد صدارت میں سوسائٹی کے انسانی خدمات کے اعتراف میں   ویلفیر سوسائیٹی کو باوقار پیریا درشنی ایوارڈ ملا۔

 مرحوم ایک خوش مزاج اور ہنس مکھ انسان تھے، آپ کے وجود سے محفلیں خوش گوار ہوجاتی تھیں، مجلسی تھے، لطیفے  باز تھے، آپ کو نائطی زبان و تہذیب سے بڑی محبت تھی ، اس زبان و ادب کو زندہ رکھنے اور نونہالان قوم کو اس سے وابستہ کرنے کے لئے نوائط محفل کے نام سے جو ادارہ قائم ہوا، وہ اس کے بانیان میں تھے، اور تادم آخر آپ اس سے وابستہ اور متحرک رہے۔ صاحب فراش ہونے سے ایک سال قبل خلیج ممالک میں مقیم اہل بھٹکل کے رفاہی ادارے بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے صدر بھی رہے۔

مرحو م نے اس دنیا میں ایک طبعی عمر گذاری ، باوجود اس کے قوم کی اجتماعی فکر ، اس کی ترقی کے لئے   کوشاں ، ہمدرد  انسان جب دنیا سے  اٹھ جاتا ہے، تو اس کی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں ، جن سے معاشرے پروان چڑھتے ہیں، اور عروج  کی منزل کی طرف  رواں دواں ہوتے  ہیں، اللہ مرحوم کی بال بال مغفرت کرے اور ان کے درجات بلند کریں۔

15-10-2019