سچی باتیں ۔۔۔ محرم کی بدعتیں۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریاباد
مسجد کی مسافت طے کرنا اپنی قوت سے باہر سمجھتے تھے ، تعزیوں کے ساتھ گشت کرنا اپنی عین سعادت تصور کریں گے۔ وہی مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کے لئے ہر روز پانچ مرتبہ پکار کو سنتے تھے، اور ہرپکار کو ٹال جاتے تھے، بِلا کسی پکار اور بغیر کسی بُلاوے کے، اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے کاغذی گھروندوں کے سامنے اپنی حاضری لازمی سمجھیں گے۔ وہی مسلمان جو زکوٰۃ تک اداکرنے کی مقدرت نہ رکھتے تھے، تیل اور بتی ، حلوے اور شربت ،نذرونیاز میں خرچ کرنے میں دل کھول کر اپنے حوصلے نکالیں گے۔ وہی مسلمان جن کے دل، کعبۃ اللہ اور رسول کریمؐ کی آخری خوابگاہ پر کافروں کے قبضہ ہوجانے سے ذرا نہ پسیجے، عشرۂ محرم میں ہرپیپل کے درخت کی لٹکتی ہوئی شاخوں کو دیکھ کر فرطِ غیرت وحمیت سے بیخود ہوجائیں گے، اور ا س اہم ترین معاملہ میں جان تک کی پروا نہ کریں گے۔