محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا سعید احمد اکبرآبادی


مولانا سعید احمد اکبرآبادی ولادت:آگرہ،۱۳۲۶ھ ،مطابق ۱۹۰۸ء مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا آبائی وطن بچھرایوں ضلع مرادآباد تھا۔ان کے والد سرکاری ملازمت کی وجہ سے اکبرآباد (آگرہ) میں مقیم تھے،وہیں مولانا کی پیدائش ہوئی،اور اسی نسبت سے اکبر آبادی مشہور ہوئے۔مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی،مولانا اکبرآبادی کے ماموں زاد بھائی تھے۔عربی اور انگریزی تعلیم ساتھ ساتھ شروع ہوئی،پھر دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوکر وہاں سے سند فراغ حاصل کی۔اس کے بعد اورینٹل کالج لاہور سے مولوی فاضل کا امتحان دیا۔تحصیل علم کے بعد ابتداء ڈابھیل میں تین سال تدریسی خدمات انجام دی،پھر دہلی یونیورسٹی میں عربی کے استاد مقرر ہوئے۔۱۹۴۸ء مین مدرسہ عالیہ کلکتہ کے پرنسپل ہوئے۔۱۹۵۹ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ دینیات کے صدر منتخب ہوئے۔۱۹۷۲ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔۱۹۳۸ء میں مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی اور مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی کے ساتھ دہلی میں ندوۃ المصنفین کی بنیاد رکھی۔اسی کے تحت ماہنامہ برہان نکالا،اور اپنے انتقال تک یعنی کل سینتالیس سال اس کی ادارت کے فرائض انجام دئے،برہان کا شمار ملک کے وقیع رسائل میں ہوتا تھا۔مولانا اکبرآبادی ندوۃ العلماء کے تخیل کے بڑے مؤید ،اور دیوبند میں تعلیم پانے کے باوجود دبستان شبلی سے بہت متاثر تھے۔مولانا علمائے دیوبند میں پہلے شخص ہیں،جنھوں نے علوم جدیدہ کی طرف توجہ کی،اور اس میں مہارت بہم پہنچائی۔علاج کے سلسلے میں اپنی بیٹی کے پاس کراچی تشریف لے گئے تھے،وہیں انتقال کیا۔ وحی الہی،صدیق اکبر،حضرت عثمان ذی النورین،فہم قرآن،غلامان اسلام،اسلام میں غلامی کی حقیقت،مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے ناقد وغیرہ تصنیفات ہیں۔ وفات:کراچی،۳ /رمضان ۱۴۰۵ھ،مطابق ۲۴/ مئی ۱۹۸۵ء مدفن:قبرستان دارالعلوم کورنگی،کراچی
میری اردو اور فارسی کی پوری ،اور پھر عربی اور انگریزی کی ابتدائی تعلیم آگرہ میں گھر پر ہوئی۔وجہ یہ تھی کہ میرے والد صاحب قبلہ (اللہ ان کی عمر دراز تر کرے) آگرہ کے نامی گرامی سرکاری ڈاکٹر ہونے کے باوجود انتہا درجے کے مذہبی اور دین دار بزرگ تھے۔اور وہ تعلیم سے زیادہ تربیت کو مقدم سمجھتے تھے۔انھوں نے میری عربی تعلیم کے لئے دیوبند سے ایک عالم کو معقول مشاہرے پر بلالیا تھا،جو ہر وقت میرے ساتھ رہتے تھے۔اور تعلیم کے علاوہ اکثر بزرگان دین کی حکایتیں اور تاریخ اسلام کے مؤثر واقعات سناتے تھے۔شام کے وقت ایک ماسٹر انگریزی اور حساب وغیرہ پڑھانے آتے تھے۔یہ سلسلہ تین سال تک قائم رہا۔اس وقت تک اگرچہ مذہبی اعتبار سے میں نیک،اور اسلامی عقائد کا پابند تھا،لیکن کوئی خاص علمی ذوق پیدا نہیں ہوا تھا۔اکثر احباب کے اصرار پر ۱۹۲۲ء میں جب کہ میں پندرہ سال کا تھا،ابا نے بڑے اہتمام وانتظام سے مجھے دیوبند کے مدرسے میں داخل کرادیا۔یہاں آکر میں درسی کتابیں تو پڑھتا ہی تھا،لیکن مجھ کو خود بخود عربی ادب کا ذوق پیدا ہوگیا،اورخارج اوقات میں ،میں مصر کے جرائد ورسائل ،اور عربی ادب کی قدیم وجدید کتابیں بکثرت پڑھتا تھا۔ابا،میرے ماہانہ اخراجات کے لئے کافی روپئے بھیجتے تھے،اس لئے مجھے اپنے اس شوق کی تکمیل میں کوئی دشواری بھی نہیں ہوتی تھی۔میں نے اس سلسلے میں کامل للمبرد،اغانی،نہایۃ الارب،صبح الاعشیٰ،یہ سب کتابیں دیکھیں اور پڑھیں،لیکن البیان والتبیین للجاحظ نے مجھ پر سحر کا کام کیا،اس کی ایک ایک فصل کئی کئی بار پڑھتا تھا،اور ہر مرتبہ نیا حظ لیتا تھا۔نظم میں کتاب الحماسہ سے مجھ کو بڑی محبت تھی،اس کے سیکڑوں اشعار نوک زبان ہوگئے تھے۔درسیات میں منطق،فلسفہ،فقہ،تفسیر،ہیئت،تاریخ،معانی وبیان اور عروض وغیرہ سب کچھ پڑھا،لیکن ادبی ذوق کی وجہ سے معانی وبیان پر جتنا وقت صرف کرتا تھا،کسی اور علم پر نہ کرتاتھا۔فلسفہ اور منطق کے اسباق میں بادل ناخواستہ شرکت کرتا تھا،لیکن جب امام غزالیؒ کی مقاصد الفلاسفۃ اور پھر تہافۃ الفلاسفۃ میں نے خود مطالعہ کی،تو فلسفے میں بھی لطف آنے لگا۔اور اس ذوق نے یہاں تک ترقی کی کہ ابن سینا کی اشارات،امام رازی اور محقق طوسی کی شرحوں سے حل کی،اور اس کو اول سے آخر تک خود ہی پڑھا۔ عربی نظم میں درسی کتابوں کے علاوہ ابوالعلاء معری کا ’’سقط الزند‘‘اور ’’لزوم مالایلزم‘‘ اور دیوان حسان بن ثابتؓ کا میں بہت ہی گرویدہ تھا۔اکثر یہ کتابیں میرے ساتھ رہتی تھیں،لیکن میرا یہ شوق وذوق محض طالب علمانہ تھا۔مجھے اعتراف ہے کہ بعد میں جو میرا سنجیدہ ذوقِ علم تعمیر ہوا،اس میں مولانا شبلی مرحوم اور مولانا سید سلیمان ندویؒ کی بعض کتابوں کو بڑی حد تک دخل ہے۔میں اردو کے ادبی رسالے،افسانے اور ناول ہی پڑھتا تھا۔مولانا ابوالکلام کے الھلال کی بھی جلدیں پڑھیں،اور ان کا تذکرہ اور مسئلۂ خلافت بھی پڑھا،اور بعض مضامین کئی کئی دفعہ پڑھے۔لیکن یہ اثر عارضی تھا،دو ایک برس کے بعد اتر گیا۔مولانا شبلی کی کتابوں میں سب سے پہلے غالباً میں نے المامون اور الغزالی پڑھیں۔مولانا کے اندازِ نگارش،طرز تحقیق اور طریقۂ بحث نے دل پر عجیب اثر کیا۔اور میں مولانا کی تحریروں کا ایسا گرویدہ ہوگیا کہ میں نے آپ کی سب کتابیں خریدکیں،اور پڑھیں۔الفاروق اور سیرت النبیﷺ کی جلد اول کئی بار پڑھیں،اور ان دونوں کے مقدمے تو خدا جانے کتنی مرتبہ پڑھے ہیں،ٹھیک یاد بھی نہیں۔اسی تقریب سے ارض القرآن کی دونوں جلدیں اور سیرت عائشہؓ وامام مالکؒ مطالعہ کیں ،اور دل پر مولانا سید سلیمان ندویؒ کی کاوش و محنت ،جمع وترتیبِ واقعات کا حسن سلیقہ اور ان کے شبلوی انداز تحریر نے بھی دل پر گہرا اثر کیا۔اب میں رسالہ معارف کا خریدار بھی بن گیا،اور بجائے محض ادبی رسالوں کے ،سنجیدہ اور ٹھوس رسالے پڑھنے لگا۔معارف خود خریدتا اور جامعہ،اردو اور زمانہ مانگے تانگے کا پڑھتا تھا۔اب طبیعت ادب لطیف اور لسّانی ولفّاظی کے بجائے سنجیدہ علمی حقائق کی جویا ہوگئی۔میں اس زمانے میں معارف کے سب مضامین سمجھتا نہیں تھا،لیکن یہ جانتا تھا کہ جب معارف میں چھپا ہے تو یقیناً بلند معیار کا ہوگا،اور مضمون نگار نے اس کے لکھنے میں کوشش کی ہوگی!اس لئے دل میں قدر، ان نہ سمجھے ہوئے مضامین کی بھی ہوتی تھی۔معارف کا یک ایک پرچہ محفوظ رکھتا تھا،اور جلد کے ختم پر اسے مجلد کرالیتا تھا۔۱۹۲۶ء میں تمام علوم وفنون درسیہ سے فارغ ہونے کے بعد ،مجھ کو حضرت مولانا سیدمحمد انورشاہ مرحوم سے بسلسلۂ دورۂ حدیث بخاری اور ترمذی کا درس لینے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت شاہ صاحب کا درس کیا تھا،علوم وفنون کا بحر ذخار تھا،جو شروع سے آخر تک پوری تیزی سے موج زن رہتا تھا!حضرت شاہ صاحب اپنی تقریر میں کثرت سے نامور مصنفین وائمہ اسلام کے حالات،ان کے علمی وعملی کارنامے،اجتہادات اور ان پر تنقید وغیرہ بیان فرماتے رہتے،خصوصاً علامہ ابن جوزی،حافظ ابن تیمیہ،حافظ ابن قیم،حافظ ابن حجر وغیرہم کا ذکر تو بہت ہی رہتا تھا۔حضرت شاہ صاحب کی ان تقریروں سے ہی مجھ کو حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی کتابوں کا شوق ہوا،اور میں نے ان دونوں اماموں کی متعدد کتابیں پڑھیں،کچھ سمجھ میں آئیں اور کچھ نہیں آئیں،بہر حال پڑھیں سب۔مولانا شبلی مرحوم کی تصنیفات نے جس سنجیدہ علمی ذوق کی طرح ڈال دی تھی،حضرت شاہ صاحب کے درس نے اس میں پختگی پیدا کردی۔درس کے علاوہ میں یوں بھی حضرت کی پرائیویٹ مجلس میں شریک ہوتا رہتا تھا۔آپ کی عام گفتگو بھی درس سے کم نہیں ہوتی تھی،میں اس سے استفادہ کرتا تھا۔ جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا ہے،ابا نے انگریزی اور عربی دونوں ساتھ شروع کرائی تھیں،لیکن دیوبند پہنچ کر انگریزی کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا،اب فارغ التحصیل ہونے کے بعد خیال آیا کہ لاؤ انگریزی کی بھی تعلیم مکمل کرلوں!بعض امتحانات پرائیویٹ اور بعض کالج میں داخل ہوکر دئے۔سب میں سکینڈ کلاس کے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔آخر میں ایم۔اے میں فرسٹ کلاس فرسٹ رہا۔بی۔اے میں میرے استاد آگر ہ یونیورسٹی کے ایک بنگالی پروفیسر تھے۔وہ انگریزی کے بڑے اچھے ادیب تھے۔انھوں نے مجھ میں بھی انگریزی لٹریچر کا شوق پیدا کردیا۔مین نے اس سلسلے میں زیادہ تر ادبی کتابیں پڑھیں،برک کا انقلاب فرانس،مکالے کے مقالات اور تاریخ ہند اورسیاسیات پر بھی بعض کتابوں کا مطالعہ کیا،لیکن امیر علی کی اسپرٹ آف اسلام کئی بار مطالعہ کی،اور اب تک اپنے دل میں اس کی نمایاں وقعت پاتا ہوں۔ فارسی میں میرا مطالعہ،شعراء کے دواوین اور چند تاریخی کتابوں تک محدود ہے۔دواوین میں میں نے عراقی،خسرو،نظامی،جامی، نظیری،عرفی،خاقانی وغیرہم سب کو پڑھا ہے،لیکن دیوان حافظ اور دیوان غالب مجھ کو سب سے زیادہ عزیز ہیں،اور خصوصاً دیوان حافظ کو تو میں اپنا مونس تنہائی،شریک رنج وراحت اور پریشانی میں ہم درد وغم گسار سمجھتا ہوں۔میں نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ دل پر کسی وجہ سے سخت اضطراب و پریشانی کی کیفیت طاری ہے،اسی حالت میں دیوان حافظ پڑھنے لگتا ہوں،دو ایک غزلوں کے بعد ہی محسوس کرتا ہوں کہ گویا کوئی اضطراب تھا ہی نہیں!ایک مرتبہ تو لسان الغیب نے پیرو مرشد ہی کا کام کیا ۔اللہ تعالیٰ ستار عیوب ہے،اس لئے تفصیل سے بتانے کی ضرورت نہیں،لیکن واقعہ یہی ہے کہ ایک مرتبہ میں سخت فتنہ میں مبتلا ہوگیا تھا،اگر حضرت لسان الغیب ایک شعر کے ذریعے میری رہنمائی نہ فرماتے تو میں ارتکاب معصیت کے علاوہ شدید جانی ومالی نقصان سے دوچار ہوجاتا!بلبلِ شیراز کا یہ احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس سے کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتا،اور اسی لئے میں ان کا دیوان سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ دیوان سے فال بھی نکالی ہے اور وہ صحیح ہوئی ہے۔ آخر میں عرض یہ کرنا ہے کہ جو کچھ بھی میں نے لکھا پڑھا،یا اب جو کچھ لکھتا پڑھتا ہوں،وہ میرے نزدیک فیض وبرکت ہے میرے والد صاحب قبلہ کے حسن نیت وعمل کا،جنھوں نے عربی تعلیم کو برا سمجھنے والے لوگوں کی سوسائٹی میں رہنے کے باوجود محض خالصتاً لوجہ اللہ مجھ کو عربی تعلیم دلوائی،اور اس پر اتنا ہی خرچ کیا جتنا کہ کوئی مالدار اپنے اولاد کی انگریزی تعلیم پر خرچ کرسکتا ہے۔اور یہ سب صدقہ ہے میری والدہ محتر مہ کی دعاؤں کا، جنھوں نے تہجد کی نمازوں میں میرے حسن علم و عمل کے لئے بارگاہِ ایزدی میں رو رو کر التجائیں کی ہیں۔اور انھوں نے کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ مجھے کوئی جاہ ومنصب ملے۔اللہ ان دونوں کی عمر دراز کرے اور مجھ کو ان کی تمناؤں کے مطابق حسنِ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔