سچی باتیں۔۔۔ روزہ کی روح۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys

Published in - Other

08:48PM Wed 22 Apr, 2020

روزہ کی روح

مسلمان کے لئے سال بھر میں سب سے زیادہ متبرک مہینہ یہی رمضان کا ہے۔ قرآن مجید وحدیث نبویؐ دونوں اس کی بزرگیوں اور فضیلتوں پر گواہ ہیں۔ آپ اپنی جگہ پر سوچئے، کہ خود آپ کہاں تک اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں؟ آپ خود اورآپ کے گھر والے روزہ دار ہیں؟ اور اگر کسی عذر شرعی کی بنا پر مجبورًا ترک روزہ کئے ہوئے ہیں، تو اس کی قضا، یا مسکینوں کے کھلانے پر مستعد ہیں؟ آپ کے محلہ ، اور آپ کی بستی کی مسلمان آبادی میں، روزہ داروں، اور غیر روزہ دارون کی تعداد میں کیا تناسب ہے؟ شبرات ومحرم کے مراسم جس وسیع پیمانہ پر مسلمانوں میں گھر گھر منائے جارہے ہیں، عید وبقرعید کے موقع پر ہر گھر میں جو سامان جشن ہوتاہے ، کیا اسی مناسبت سے ہم اور آپ، رمضان مبارک کے اہتمام واحترام میں مصرو ف رہتے ہیں؟

اس ماہ مبارک کے اہتمام واحترام کے یہ معنی نہیں، کہ دن کا بیشتر حصہ سونے اور بدمزاجی میں، اور شب کا بڑا حصہ معدہ کی خاطر داریوں میں بسر کیا جائے، اور شام کے وقت افطاری کے نام سے ہر قسم کی فضول خرچی اور بد احتیاطی روارکھی جائے۔ روزہ تو اس واسطے ہے، کہ ہم کو سادگی کا سبق دے اور طبیعت کو صبر وتحمل کا خوگر بنائے۔ ہمارے جو بھائی عام طور پر شام کو ایک یا دوچیزیں کھانے کے عادی ہیں، اور رمضان میں محض افطار کے وقت پانچ پانچ سات سات کھانے ضروری سمجھتے ہیں، وہ خود اپنے دل میں ذرا غور کریں کہ وہ روزہ کی غرض کہاں تک پوری کرتے ہیں! روزہ تو خواہشوں کے ضبط کے لئے ہے، وہ اس لئے کہ انہیں کئی گنا بڑھا اور پھیلا دیا جائے۔ الہ آباد میں کئی سال ہوئے ایک ذی علم اور مشہور صوفی بزرگ تھے، وہ اس مہینہ بھر گوشت اور دوسری لذتوں کا استعمال بالکل ترک کردیتے تھے۔ روزہ کی روح وغایت کو وہ ہم لوگوں سے کہیں بہتر سمجھے تھے، جو افطاری کی بے اعتدالیوں جو جزو رمضان بنائے ہوئے ہیں۔

روزہ ، جسم وروح، دونوں کا قدرتی مصلح، اور صحت بدنی وصحتِ اخلاقی دونوں کا ضامن ہے۔ ہم نے اپنی شامت وبدبختی سے، اس کی یہ دونوں خوبیاں زائل وبرباد کردی ہیں، اول تو ایک بڑی آبادی سرے سے روزہ رکھتی ہی نہیں پھر جو روزہ دارہوتے ہیں ، وہ دن میں ہر قسم کی بدمزاجی اور چڑچڑاہٹ کو روزہ کے عذر پر اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں، اور افطار کے وقت سے لے کر سحری تک کھانے پینے کی ہر بے اعتدالی روا رکھتے ہیں۔ اس کا نام روزہ نہیں۔ روزہ دار کی شان تو یہ ہونی چاہئے کہ غیبت، حسد، غصہ، طمع، ہر قسم کی اخلاقی گندگی سے اپنے تئیں پاک رکھے، غصہ اور اشتعال کے موقع پر بھی ضبط وصبر سے کام لے، اور بدگوئی وسخت کلامی کے مقابلہ میں نرمی وفروتنی اختیار کرے۔ یہ روزہ روح کا ہوا۔ جسم کا روزہ یہ ہے ، کہ افطار کے وقت اور افطار کے بعد غذا میں افراط واسراف سے بچے۔ ماہ رمضان میں ہم سے بہتوں کی صحتیں بجائے درست ہونے کے خراب ہوجاتی ہیں، اور اکثروں کو جو معدہ کی شکایات پیدا ہوجاتی ہیں، وہ سب انھیں بد پرہیزیوں اور بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہیں۔

1925-04-03