عظیم معلم،مربی اور اولین معتمد جامعہ - ۰۳- تحریر: عبد المتین منیری

جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا قیام
انجمن ستارہ حسنات اور مدرسہ اسلامیہ کے بند ہونے، پرائمری تعلیم کا نظم ونسق قوم کے ہاتھوں سے مکمل طورپرختم ہونے، بورڈ اسکول کی ناقص کا رکردگی اورتقسیم ہند کے بعد فروغ پانے والے قومی بگاڑنے بھٹکل میں ایک دینی مدرسہ کے قیام کی تحریک کوجنم دیا، اوراﷲ تعالی نے جناب ڈاکٹرملپاعلی صاحب کوتوفیق دی کہ اس تحریک کوآگے بڑھائیں، آپ نے دل درد مند رکھنے والے اپنے دوسرے رفقاء کے ساتھ اس سلسلہ میں مشورہ کیا کہ اگردینی مدرسہ قائم کیا گیا تواس کا م کوسنبھالنے والاکون ہوگا؟ اس کا م کیلئے تودینی علم رکھنے والے کی ضرورت ہے، پھریہ بھی ہوگا کہ وہ ہرطرف سے کٹ کراپنی زندگی اس کا م کیلئے وقف کردے ‘‘۔رودا د اجلاس اول ۔ص ۴۲
’’تائیدغیبی سے اس وقت سب کے دماغ میں مولانا ندوی کی ذات مستحضر ہوگئی اورسب کی رائے ہوئی کہ مولانا بھٹکل سے پورے واقف ہیں اورتعلیم وتربیت کا تجربہ بھی رکھتے ہیں، اس لئے مولانا سے ہی اس سلسلہ میں رائے لینی چاہئے ‘‘ص ۴۲
’’مولانابھٹکل تشریف لائے اورآپ کی قیادت اورجناب ڈی اے اسماعیل، سعداجعفری، ماسٹرعثمان حسن اورڈاکٹرصاحب کی حاضری میں ابومحل میں گفتگوہوئی اور ۱۰/شوال ۱۳۸۱ ھ مطابق ۱۷مارچ ۱۹۶۲ء بھٹکل میں دینی تعلیم کیلئے ایک عربی دارالعلوم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس فیصلہ کے دس روزبعد بمبیٔ میں ۱۹/شوال ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۶/مارچ ۱۹۶۲ء جناب الحاج محی الدین صاحب کی صدارت میں بھٹکل مسلم جماعت بمبیٔ کا جلسہ ہوا جس میں منیری صاحب کوجامعہ کے قیام کیلئے فوراً کا م شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی‘‘ ۔ ص ۴۵
’’اس اجلاس میں طے پایا کہ جامعہ کے کا م کومستقل شروع کرنے سے قبل پہلے اس کا م کوعارضی وتجرباتی طریقہ پرکیا جائے اورابتدائی ایک سال عبوری دور تصورکرلیاجائے‘‘ ۔ص ۴۵
منیری صاحب نے افتتاح جامعہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہی اپنے پیرومرشد کی رہنمائی میں منصوبہ کی تکمیل کی کوششیں تیز کردیں، أستاذ وشاگرد اور محرکین کی شبانہ روزدلچسپی وتگ ودو سے مقررہ ایک سال کے بجائے پانچ ماہ کے اندرجامعہ کا افتتاح ۲۱/ربیع الاول ۱۳۸۲ھ مطابق ۲۰/اگست ۱۹۶۲ء مولانا ارشاداحمد مبلغ دارالعلوم دیوبند کے ہاتھوں ہشت سالہ لڑکے عبداﷲ کوبٹے کی بسم اﷲ خوانی سے عمل میں آیا، اس افتتاح کے دوسرے روزکی کیفیت خود مولانا کی زبانی ملاحظہ فرائیں
’’ صبح ہوئی گوائی میراں صاحب کے مکا ن کی بالائی منزل پراچھے خاصے ہال کی شکل میں ہے ابھی کل تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، آج راقم سطورعبدالحمید معلم اورعبداﷲ بن محمد کوبٹے متعلم کے سواکچھ نہ تھا ۔
سماں کل کا رہ رہ کے آتاہے یاد ابھی کیا تھا اورکیا سے کیاہوگیا
کیسی حوصلہ شکن اورصبرآزما گھڑی تھی، ۲۰/اگست ۶۲ ء کی صبح آپ ہی آپ سوال پیداہوتاہے، کیا یہی درسگاہ تھی جس کی کل اوپننگ ہوئی تھی، کل اسی کیلئے وہ سارے پیام سنے گئے تھے؟ بزرگوں کی دعاؤں کا حاصل اورنیک تمناؤں کا مرکزیہی ہے؟ اس کیلئے زبان ہلتے ہی دردمندان قوم نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ہزارپیش کردئے؟ کیاعبداﷲ ہی کیلئے حضرت قبلہ مولانا ندوی مدظلہ کی خدمات کا ریزرویشن ہورہاتھا؟ علی ملپا، سعداجعفری،ڈی اے اسماعیل کی دلی تمناؤں اورمخلصانہ آرزؤں کا حاصل یہی ہے؟منیری صاحب کے زورقلم، سعی پیہم اورحسن تدبیر کے نتیجہ میں عبداﷲ اورعبدالحمید کے سوا کچھ نہ تھا، بظاہرخواب اورافسانہ کے سوااس کا نام آپ اورکیا دیںگے؟۔ص ۶۵
اس مایوس کن صورت حال کوبدلنے کیلئے مولانا نے منیری صاحب ، ماسٹر عثمان حسن اورڈی اے اسماعیل وغیرہ احباب کے مشورہ سے درس قرآن کی ابتدا کی، اس کی برکت سے بھٹکل میں قرآن سے تعلق کی جوفضا پیداہوئی مولانا اس کا حال یوں بیان کرتے ہیں
’’ انجمن ہائی اسکول کے اونچے کلاسوں کے طلبہ اووردلچسپی رکھنے والے شہر کے دوسرے حضرات جوق درجوق شریک ہوتے حتی کہ گوائی میراں کے مکان کے بالاخانے میں تل دھرنے کی گنجائش نہ رہتی، بیرونی گیلری اورزینے تک بھرجاتے، قرآن اورمضامین قرآن سے انجمن ہائی اسکول کے طلبہ کی دلچسپی کا بیان میرے بس کا نہیں، فرط اشتیاق کا یہ عالم کہ درس شروع ہونے سے پہلے ہی پوراہال بھرجاتا، سمجھدارطلبہ کا یہ عالم تھا کہ پسندیدہ مضامین پرمضمون لکھ کرلانے اوراصلاح کیلئے پیش کرنے لگے، قرآن کوڈائریکٹ طورپرعربی سمجھنے کے شوق میں کتنوں نے عربی شروع کرڈالی، سننے اورسنانے والے سب کے سب مست ومسحور، جی چاہتا کہ زندگی کا یہی ایک دھندا ہوتا توکیاہی اچھا ہوتا‘‘۔ ص ۶۶
جامعہ کی دستوری اوپننگ کے دومہینے پانچ روزبعد ۲۵/جمادی الاولی ۱۳۸۲ء مطابق ۲۵/اکتوبر۱۹۶۲ء جامعہ کوباقاعدہ عربی جماعت کا پہلا طالب علم ملا محمد اقبال کی شکل میں نصیب ہوا اورکچھ دنوں بعد مزید تین طلبہ اس میں شامل ہوگئے
مولانااس وقت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
’’ہم لوگ جامعہ کی پہلی ششماہی سے گذررہے ہیں، لیکن جامعہ میں پڑھنے کیلئے بچے ناپید ہیں، جناب دامداصاحب اپنے پیروں کے درد میں مبتلا،محی الدین منیری بمبیٔ کب تک نہیں جاتے؟ حضرت مولانا ارشاد صاحب مبلغ دارالعلوم کورخصت کر کے چند دن بعد خود بھی تشریف لے گئے ، چاردن کی چاندنی پھراندھیراتھا ، اب سابقہ ڈاکٹرملپاعلی صاحب سے تھا یا پھرجناب عثمان حسن صاحب سے، طلبہ کی طرف سے مایوسی کے عالم میں ان ہی سے پوچھتا کہ آخرطلبہ کہاں سے آئیں یاکہاں سے لائے جائیں؟ کوئی تشفی بخش جواب کسی سے نہیں ملتا، بالآخرماسٹرصاحب نے مجبورہوکرایک مکتب کھول لینے کا مشورہ دیاکہ انہیں کوحسب دل خواہ پڑھالکھا کرپاس پوس کرپروان چڑھا کرجامعہ میں پڑھنے کے لائق بنائے، سمجھنے والاخوب سمجھ سکتاہے کہ جواں عمروجواں ہمت ہیڈ ماسٹرکی یہ تجویزجوموصوف کے نزدیک نہ صرف مجبوری کے علاج کے طورپرتھی بلکہ واقعی بہت سی خوبیوں اورمصلحتوں کی حامل بھی تھی، مجھ ضعیف ناتواں کیلئے کتنی ہمت شکن، روح فرسا اورساتھ ہی کتنے بڑے طول امل کی حامل تھی، میں توقبرمیں پیرلٹکا ئے حیات مابقی کے اندرہی اندربدست خود جامعہ کوجامعہ بنانے اوربچشم خوداس کے نتائج وثمرات کودیکھنے کا آرزومند اورمشورہ اس قدرطول وطویل، وقت کتنا تھوڑااورکا م کتنا بڑا، مقصد براری کی راہ کتنی لمبی، اتنی کہ ہم جیسے سن سفید لوگوں کے دماغ میں کا میابی کی جھلک بھی نہ پیدا کرسکے، اس راہ سے تومنزل تلک پندرہ برس سے کم میں رسائی نہ ہوگی‘‘ ۔ ص ۶۹
ابتداء میں مولانا کی جامعہ میں تقرری بالکل عارضی محض عبوری دورکیلئے تھی ، چند ماہ بعد جناب ڈی اے ابوبکراورڈی اے اسماعیل صاحبان نے بمبیٔ جاتے ہوئے کا سرکوڈ میں ندی پارکرتے وقت رمضان بعد واپس آنے اورجامعہ کے خاطربھٹکل کومستقل مستقربنا لینے پراس قدرزوردیا کہ ایک طرف سننے کوتیارنہ ہوئے۔ ۷۲ص
مؤرخہ ۷/اکتوبر۱۹۶۳ء جناب یس یم سید محی الدین صدربلدیہ ونائب صدرانجمن حامی مسلمین بھٹکل کی صدارت میں ہمدردان جامعہ کا ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں انتظامی امورسے متعلق مندرجہ ذیل تجویزمنظورہوئی
الف ۔ جامعہ کے تعلیمی وانتظامی جملہ امورکوسنبھالنے اورچلانے کیلئے ہمارایہ جلسہ متفقہ طورپرجناب مولاناعبدالحمید صاحب ندوی کومنتخب کرتاہے اورموصوف پرپورا اعتماد کرتے ہوئے کا مل اختیاردیتاہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق جامعہ کے جملہ امورکوچلائیں اورپوری ذمہ داری کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کریں ۔
ج۔ یہ جلسہ بالاتفاق طے کرتاہے کہ دفتری امور کے انتظام وانصرام کیلئے مولانا عبدالحمید صاحب ندوی کواختیارہوگا کہ جسے چاہیں آنریری یا بالمعاوضہ مقررکرلیں لیکن ذمہ داری تمام ترموصوف ہی پررہے گی۔ ص۵۹
ابتدائی دورمیں جامعہ کے تئیں ذمہ داریوں کا کونسا بوجھ پڑااس کا نقشہ ذرا مولانا ہی کی زبانی سنئے
’’ابھی توکیفیت یہ ہے کہ دینی تعلیمی تحریک ڈاکٹرعلی کے ذہن سے زبان پر آئی ، قریب کے دوایک نے بات اٹھائی، منیری صاحب نے کس طرح ڈھانچہ کھڑا کردیا، ندوی صاحب ہاتھ لگ گئے توسارابوجھ ان پرڈال دیا گیا، اب وہ ہیں اور جامعہ، رب کریم کا کرم ہے قوم کے دریا دلوں پرکہ جس نے قوم کی دینی ضرورت کیلئے بے دریغ روپیہ دیا، دوڈھائی برس سے دیتے چلے آرہے ہیں، پوچھتا تک نہیں کہ اسے کیا کیا؟ یہ ہے کیفیت اورحقیقت حال جامعہ اسلامیہ کی، ابھی نہ جامعہ کا کوئی ضابطہ ہے ، نہ کوئی مینیجنگ باڈی ہے، نہ صدروسکریٹری ہیں، نہ منتظم ، نہ مہتمم ، نہ آفس، نہ آفس بیرر، نہ منصرم ، نہ متولی، نہ کلرک نہ پیون، کچھ بھی تونہیں، کام بالکل گھریلوطریقہ سے چل رہاہے اوراﷲ کے فضل سے نہایت خوبی وخوش اسلوبی کے ساتھ چل پارہاہے ۔ ص۳۵
سنہ ۱۹۶۷ تک جملہ ۵ سال سے زیادہ عرصہ مولانا نے جامعہ کا نظم با اختیارمعتمد کی حیثیت سے چلایا، حالانکہ آخری ایام میں جامعہ کی ایک مجلس منتظمہ تشکیل پا چکی تھی لیکن اس کے ارکا ن عموماً مولانا کے شاگردتھے، اس پرمستزاد مولانا کی شان جلالی پرکون غالب آسکتا تھا ۔
مولانا کے نظم ونسق کا اپناایک جداگ انہ اندازتھا، اس میں رکھ رکھاؤاوررعب وداب کا سنگم تھا اورانجمن میں درس وتدریس سے ایک عشرہ تک وابستگی سے بھٹکل میں معززین شہرکی معتد بہ تعداد آپ کے حلقہ تلمذ میں آچکی تھی، لہذا تعلیم وتربیت کا وہ قدیم اصول کہ ہڈی اور چمڑی والدین کی اورباقی سب أستاذ کا ،مولانا اس تہذیب کی آخری نشانیوں میں سے تھے ۔
اداروں کی تاریخ میں پانچ سال کا عرصہ کوئی طویل مدت شمارنہیں ہوتے، باوجوداس کے مولانا نے جامعہ کوجو منہج دیا، جس ڈگرپر اسے ڈالا، مولانا کے جانے کے بعد جامعہ کے مسلسل بحرانوں سے دوچارہونے کے باوجود اس کا تسلسل ٹوٹنے نہیں پایا، اوراﷲکی ذات سے قوی امید ہے کہ آئندہ بھی اس میں سرمو فرق نہیںآئے گا ۔۔۔۔ جاری