ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب۔۔۔ قسط -۰۲--- از: محمد راشد شیخ

علامہ خلیل عرب تمام عمر عربی کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ،انھیں شاگردوں میں صحیح عربی ذوق پیدا کرنے کی صلاحیت تھی ۔علامہ کی عربی کے فروغ کی کوششوںکا ذکر مولانا ماہر القادری نے بھی اپنے رسالے فاران بابت اکتوبر ۱۹۶۶ء میں ان الفاظ میں کیا تھا
’’ایک ملاقات میں درس نظامی سے ہٹ کر نئے انداز پر عربی پڑھانے کا ذکر آیااور اس کے بعد علامہ خود غریب خانے پر تشریف لے آئے،عربی نصاب کی کتاب بھی ان کے ساتھ تھی،ہاتھ کے ہاتھ پڑھائی شروع ہوگئی۔چند دن بعد جناب ظفر احمد انصاری کے مکان پر صاحب موصوف،سید حسن ریاض اور راقم الحروف کا جمائو ہونے لگا بلکہ یوں سمجھیے کہ چھوٹا سا ’’مکتب‘‘قائم ہو گیا ۔علامہ بڑ ی شفقت کے ساتھ درس دیتے۔اس دھن میں ان کی پوری عمر گزری تھی۔طلباء میںعربی زبان و ادب کی استعداد پیدا کرنے کا انھیں بڑا ملکہ اور تجربہ تھا،طلباء کی کمزوریوں سے بھی وہ باخبر تھے۔تقریباً ڈیڑھ سال یہ سلسلہ جاری رہا جو آخر زمانے میں کلیلہ و دمنہ،مقدمہ ابن خلدون اور ریاض الصالحین تک پہنچ گیا ۔پھر و اپنی پیرانہ سالی کے باعث آنے جانے میں بڑی زحمت محسوس کرنے لگے۔بڑھاپااور اس کے ساتھ بہت سے امراض،اس حالت میںکراچی کی بسوںمیںسفر،یہ مرحلہ بڑا سخت تھا۔‘‘
راقم الحروف نے ڈاکٹر صاحبہ سے متعدد مرتبہ گزارش کی کہ وہ عربی بحیثیت زندہ زبان کی تدریس کا انتظام کریںکیونکہ ان کے بعد ان کے خاندان میں عربی زبان و ادب کا صحیح ذوق رکھنے والی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی اور خطرہ ہے کہ صدیوں سے عربی کا جو ذوق نسل در نسل ان کے خاندان میں چلا آرہا تھا وہ ختم ہو جائے گا۔ عربی زبان بحیثیت زندہ زبان سے ہماری مراد یہ ہے کہ عربی کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ اس زبان میں لکھنا ،پڑھنا اور بولنا آسان ہو جائے۔افسوس ہے کہ ہمارے عربی مدارس میں عربی کی تعلیم کا یہ نہج موجود نہیں۔انہیں اس بات کا احساس تھا اور فرماتی تھیں کہ اب ضعیف العمری اور علالت کی بنا پر عربی پڑھانا مشکل ہے البتہ ’’المطالعۃ العربیۃ‘‘ کے مطالعے سے یہ ذوق کسی حد تک پیدا کیا جاسکتا ہے۔جب’ المطالعۃ العربیۃ‘ کے جدید ایڈیشن کی انھوں نے تکمیل کی تو اس موقع پر بھی راقم کو فراموش نہیں کیا اور عاجز کے بارے میں درج ذیل کلمات تحریر فرمائے جو راقم کے لیے سرمایہء افتخار ہیں:
’’اس کتاب کی تیاری میں بھرپور تعاون کے لیے ہم برادر عزیز راشد شیخ کے ممنون و مشکور ہیںجو کسی ستائش و صلے کی تمنا سے بے نیازہوکرمحض والد مرحوم اور علی بھائی(مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی)سے بے پناہ محبت کے ساتھ آغاز سے انجام تک شامل حال رہے۔وہ ہم سے بھی اسی حوالے سے عقیدت رکھتے ہیں۔اللہ تعالی ٰان کو مزید توفیق دے او رفلاح دارین عطا فرمائے‘‘(ماخوذ از ’اساتذہ کرام کے لیے ضروری ہدایات ‘ از ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب)
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب عربی زبان میں مہارت کے باوصف اردو زبان کی عمدہ نثر نگار اور شاعرہ بھی تھیں ۔انھوں نے مختلف اوقات میں اردو زبان میں جو مضامین لکھے یا جن کتب کے تراجم کیے وہ ان کی اردو دانی میں مہارت ظاہر کرتے ہیں۔ان کے یہ مضامین جن اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے ان میں روزنامہ جنگ،اردو ڈائجسٹ،سیّارہ،فاران،تعمیر حیات،ماہ نو،ادبیات،تہذیب،لیل و نہار و دیگر رسائل شامل ہیں۔کاش کوئی باہمت طالب علم ان کی بکھری ہوئی تحریروں کو جمع کرے اور انھیںکتابی شکل میںمحفوظ کرلے۔راقم نے اپنی کوشش سے ان کے جن جن مضامین کا سراغ لگایا ہے ان کی مختصر اور نامکمل فہرست در ج ذیل ہے
۔قرآن حکیم سے براہ راست رہنمائی حاصل کیجیے
۔اسلامی معاشرے میں نکاح کی اہمیت
۔خطبہء نکاح کی تشریحات
۔تاریخ غلاف کعبہ
۔عکس جمال مصطفیﷺ
۔قرآن کی روشنی میں عورت کی گواہی
۔اسلام پر چند آنسو
۔الوسیلہ کا حقیقی مفہوم
۔روایت و درس و تدریس میںخواتین کا حصہ
۔عربی شاعری میںعورت کاتصور
۔جاہلیت کی شاعری میں عورت کے رنگ اور چہرے کاتصور
۔شنفریٰ الازدی
۔المفضل الضبی
۔عربی شاعری کا قدیم ادبی ورثہ اور لغوی دستاویزی مجموعہ
۔قدیم عربی شاعری کی روایت و تدوین میں کوفہ و بصرہ کے مدارس کا فکری کردار
۔المفضلیات کا اصل راوی اور جامع
۔حضرت زینب ؓ
۔معتمد بن العباد
۔نزار قبانی
۔لغزش از یوسف السباعی کا اردو ترجمہ
۔عبدہ بن الطبیب
۔چشمے والا باغ
۔مولانا ابو الحسن علی ندوی
۔محترمہ فاطمہ جناح
جیسا کہ ذکر آیا یہ فہرست ابھی نامکمل ہے ۔اگر کوشش کی جائے تو مزید مضامین دریافت ہو سکتے ہیں۔اس فہرست کا سرسری مطالعہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو عربی زبان و ادب اور عربی شعراء و ادباء کے حوالے سے کس قدر عبور حاصل تھا۔
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب چند برس قبل اپنے صاحبزادے کے پاس دبئی چلی گئیں تھیں جہاں مورخہ 4 جنوری 2016ء کو ان کا انتقال ہوا اور وہیں تدفین ہوئی۔راقم کی معلومات کی حد تک عربی زبان و ادب کا صحیح ذوق رکھنے والے’عرب خاندان‘کی وہ آخری ہستی تھیں۔ جب بھی ان کی باتیں ،عربی زبان میں مہارت اور ان کے علمی مقام کا خیال آتا ہے تو غالب کا یہ شعر حافظے کی لوح پر جگمگانے لگتا ہے
داغِ فراقِ صحبت ِ شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں بلند جگہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نیک نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جیسا کہ ذکر آیا ڈاکٹر صاحبہ کو عربی سے اردو میں ترجمے پر بھی بڑی مہارت حاصل تھی۔یہاں ہم نمونۃً سورۃ الفیل سے ماخوذ ان کی نظم ’’ اصحابِ فیل ‘‘ پیش کرتے ہیں ۔اس کی نقل ڈاکٹر صاحبہ نے راقم الحروف کو عطا فرمائی تھی:
زمانہ کتنی ہی کروٹیں لے،خدا کا دستور بھی اٹل ہے
جہاں بھی دنیا میں ظلم ہوگا،جہاں بھی گستاخیاں بڑھیں گی
جہاں کوئی اپنی حد سے بڑھ کر ،خدا کے قانون اس کی عظمت کے سامنے آکے سر اٹھائے
وہیں پہ اللہ ربّ العزت،اسے ٹھکانے لگا ہی دے گا،نشانِ عبرت بنا ہی دے گا
کہ ہے تکبّراسی کی چادر،اسی کو زیبا ہے کبریائی
کہاں ہیں اصحابِ فیل بولو؟کدھر گیا ابرہہ کا لشکر؟
وہ ایک مغرور حکمراں تھا،خدا کے گھرکو جو ڈھانے آیا،اسی کو رسوا کیا خدا نے
وہ دیو پیکر سیاہ ہاتھی،کہا تھا جس سے گرادے کعبہ،لگائے آنکس چبھوئی برچھی
مگر وہ ایسا جھکا رہا تھا،کہ ربّ کعبہ کے سب سے پہلے ،عتیق یعنی قدیم گھر پر ،عظیم در پر ،وہ جیسے سجدے میںگر گیا تھا
خدائے بر تر ہے اپنے گھر کا اکیلا مالک ،وہ اپنے کعبے کا خود محافظ
وہ ربّ کعبہ ہے جس نے بھیجے تھے ،آسماں سے بلا کی صورت ،پرند ایسے جو پھر کبھی بھی نظر نہ آئے
یہی ابابیل یہ پرندے ،عذاب لائے جو کنکروں کا
انھی پرندوں نے سارے لشکر کے جسم چھلنی کیے تھے ایسے کہ جیسے کھایا ہوا بھوسہ
یہی ہے انجام ظالموں کا،یہی ہے انجام غاصبوں کا
خدا کا قانون بھی اٹل ہے ،خدا کا دستوربھی ہمیشہ اٹل رہا ہے اٹل رہے گا
کبھی نہ بدلے گا تا قیامت ،نہ کوئی اس کو بدل سکے گا
آخر میں ہم ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب مرحومہ کے شعری مجموعے’سایہ ہے کہ تم ہو ‘ سے چند منتخب اشعار قارئین کی خدمت میںپیش کرتے ہیںجن سے اندازہ ہوگا کہ ایک حساس شاعرہ کی طرح کس خوبی سے انھوں نے داخلی کیفیات اور خارجی حالات حال کا اپنی شاعری میں اظہار کیا ہے
ہم آج بھی منزل سے پرے قافلے والو
ایک ایک سے منزل کا پتہ پوچھ رہے ہیں
وہ لوگ جو واقف نہیں آدابِ جنوں سے
آج آپ سے آئینِ وفا پوچھ رہے ہیں
……٭٭٭……
ترا خیال یونہی میرے ساتھ ساتھ رہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو ہو، دل میں بات رہے
وہ بیکسی ہے کہ دشتِ بلا میں تنہا ہیں
وہ بے بسی ہے کہ تشنہ لبِ فرات رہے
……٭٭٭……
میں نے موجوں سے الجھتے ہوئے جینا سیکھا
کیوں نظر آگئے تم آج کناروں کی طرح
تم کہ منرل پہ ہو، آباد رہو شاد رہو
میں تو گردش میں ہوں قسمت کے ستارے کی طرح
تم قرارِ دل و جاں ہو تو مرے ساتھ رہو
ڈوبنے والے کو تنکے کے سہارے کی طرح
……٭٭٭……
دیکھنا ہے نئی تہذیب کے ایوانوں میں
کتنے انسان نظر آتے ہیں انسانوں میں
……٭٭٭……
دھرتی اپنی مقتل اپنا، اپنے خوں سے رنگیں ہاتھ
قاتل اپنے منصف اپنے کچھ نہ کہو بیگانوں کو
……٭٭٭……
اب تو آنکھوں کی جھیلیں بھی پتھرا گئیں
اشک آئے ہوئے اک زمانہ ہوا
زخمِ جاں ہے کہ اب تک بھرا ہی نہیں
تیر کھائے ہوئے اک زمانہ ہوا
……٭٭٭……
رویا ہو کوئی آنکھ ہماری ہی نم ہوئی
ہم تو اسیرِ غم تھے رہائی ستم ہوئی
یوں لب کشا ہوئے کہ زباں کاٹ دی گئی
ہم سرکشیدہ لوگ تھے گردن نہ خم ہوئی
……٭٭٭……
یہ جگہ اجنبی وہ فضا اجنبی
ہم جہاں میں رہے ہیں سدا اجنبی
ہر نظر اجنبی، ہر ادا اجنبی
آپ کے شہر میں ہے وفا اجنبی
……٭٭٭……
چاند تاروں کی تسخیر دیکھا کیے
اب زمیں پر زوالِ بشر دیکھنا
جن کو سورج بھی دن میں دکھائی نہ دے
لوگ ان کو کہیں دیدہ ور دیکھنا
……٭٭٭……