عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ۔ ۰۵۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys

Published in - Other

08:14PM Sun 13 Oct, 2019

  مولانا عبد الحمید ندوی  کوجامعہ چھوڑے ایک عشرہ بیت چکا تھا، اس عرصہ میں مولانا کا دوبارہ بھٹکل آنا نہیں  ہوا، البتہ منیری صاحب ودیگرمتعلقین سے مراسلتی ربط و تعلق برقرار رہا، ۱۹۷۷ء میں جامعہ اپنی تاریخ کے ایک بدترین بحران سے دوچارہوا اوراپنے عظیم القدرمہتمم کے ساتھ ساتھ قربانی دینے والے چند قیمتی اساتذہ کی تدریسی خدمات سے بھی محروم ہوگیا، ان اساتذہ میں وہ بھی شامل تھے جن کے ہاتھوں میں آئندہ جامعہ کی باگ ڈوردینے کی غرض سے مولانا نے خصوصی تربیت کی تھی، ان ہی ایام میں مولانا کی شریک حیات داغ مفارقت دے گئیں، مولانا کی تنہائی دورکرنے اورجامعہ میں ایک سرپرست بزرگ کی موجودگی کااحساس جگانے کی غرض سے منیری صاحب نے مولانا کوبھٹکل آنے کی دعوت دی ۔

       مولانا نے بھٹکل میں قدم رکھتے ہی جامعہ آباد منتقل ہونے سے  پیشترابومحل میں جہاں پرکبھی جامعہ کی تاسیس کے فیصلے ہوا کرتے تھے اپنے ان شاگردان عزیزکو بلایا اورنصیحت کی کہ میں نے تمہیں جامعہ کانظام سنبھالنے کیلئے تیارکیاتھا، جامعہ کی مسند تدریس پرواپس لوٹ آؤ، یہاں آنے سے پیشترجامعہ کے سرپرست  حضرت مولانا علی میاں صاحب سے بات ہوچکی ہے اور سرپرست اعلی حضرت مولانا ابرارالحق صاحب سے بھی رابطہ قائم کررہا ہوں ، وہاں سے بھی اس تنازعہ کوختم ہونے کی امید ہے، ان ایام میں مولانا کے چہرے پررنج والم کے اثرات نمایاں تھے، ذمہ داران جامعہ سے بھی وہ ان اساتذہ کی جامعہ میں دوبارہ واپسی کی بات کرتے رہے کہ میں نے اتنی محنت سے انہیں  تیارکیا تھا، تم نے انہیں  کیسے جانے دیا؟کچھ روزبعد مولانا نے ہم اساتذہ کوخوش خبری دی  کہ حضرت مولانا ابرارالحق صاحب کی جانب سے بھی ان اساتذہ کی واپسی سے متعلق اعتراض ختم ہوچکا ہے، مولانا چند روزاورجامعہ میں رہتے توشاید جامعہ کی تقدیربدل جاتی لیکن قدرت کوکچھ اورہی منظورتھا،مختلف أسباب سے یہاں وہ زیادہ دیر نہیں ٹہر سکے۔

       مولانا کوہم نے جب جامعہ کے دوراول میں دیکھا تھا تومجال تھی جومولانا کے سائے کے قریب بھی پھٹکتے، ایساجاہ وجلال ایسا رعب داب کہ بڑے بڑوں کا پتہ آپ کے سامنے پانی ہوجاتا، ۱۹۶۲ء کے آس پاس کا وہ منظرتواب بھی نظروں کے سامنے تیررہاہے، مین روڈ پرواقع گودام میں جہاں مکتب جامعہ قائم تھا اور اسے سوداگر بخار کہا جاتا تھا،  داخلہ کیلئے پہلے پہل اس ناچیز کو لے جایا گیا تھا، یسرناالقرآن سے (اولئک)کا حرف مولانا نے پڑھنے کو کہا تھا، اس وقت میری زبان مارے خوف کے تالوسے چپک گئی تھی اورچہرہ خشک ہوگیا تھا ۔

       مولانا بڑی بارعب شخصیت کے مالک تھے، آوازمیں گھن گرج تھی جوبہت دورتک سنائی پڑتی تھی، درازقد، میانہ جسم، کتابی چہرہ، گھنی داڑھی،مونچھیں ترشی ہوئی،رنگ کھلا گندمی، دوپلی ٹوپی، لنگی پرکلی دارگھٹنے سے نیچی قمیص پہنتے ۔

       دس سال بعد مولانا بھٹکل لوٹے تواب شیربوڑھا ہوچکا تھا، دل کے دورے نے اب جسم سے طاقت وتوانائی چوس لی تھی، گولی کے سہارے کی باربارضرورت پیش آتی، لیکن ہمت کا یہ عالم کہ ہم لوگوں کے ساتھ لائٹ ہاؤس کی پہاڑی پرچڑھ گئے ۔

       حادثات نے مولانا کادل گدازکردیاتھا، اس میں رقت غالب آگئی تھی، طلبہ پرشفقت ورفقت کا پہلوچھا گیاتھا، اب کے وہ طلبہ میں گھل مل گئے تھے ، ایک مرتبہ منیری صاحب کی مجلس میں جگرمرادآبادی کی نعت سرکارمدینہ کا تذکرہ چل نکلا، منیری صاحب سے جگر صاحب جب بھی ملتے تو ان  سے اسی نعت کوسنانے کا اکثرتقاضہ کیا کرتے تھے، نعت کے چند قطعات سنے تھے کہ آنسوجاری ہوگئے ، رقت سے رونے لگے۔

       ایک روز ہم لوگ مولانا کے ساتھ کمرے میں باتیں کررہے تھے کہ ماسٹرعثمان حسن، سابق ہیڈ ماسٹر انجمن ہائی اسکول اور جامعہ کے اولین فکرمندوں میں سے ایک کی رحلت کی خبرپہونچ گئی، شدت غم سے دل دہلادینے والی ایک چیخ اٹھی اورکچھ لمحات کیلئے بے ہوشی طاری ہوگئی، ہم سب اس ناگہانی سے گھبرا اٹھے، جامعہ کے ابتدائی ایام میں ماسٹر صاحب سے مولانا کا گہراتعلق رہا تھا ۔

       مولانا کے نیازمندوں کی دلی تمنا تھی کہ مولانا کے آخری ایام ان کے درمیان بھٹکل میں گذریں، لیکن ایسا نہ ہوسکا، واپسی کے کچھ دنوں بعد یہ ناگہانی خبر پہنچی کہ رمضان ۱۳۹۸ھ میں مولانا ایک ہفتہ ہردوئی اورایک ہفتہ رائے بریلی میں گزارنے کی غرض سے ہردوئی ہوتے ہوئے ندوہ آئے، مولانا معین اﷲ صاحب ندوی سے ملاقات کی اورمولاناعبدالعزیزوغیرہ بھٹکلی احباب کی تلاش میں سلیمانیہ ہوسٹل جارہے تھے کہ راستے میں ندوہ کی مسجد کے دروازے پردل کا دورہ پڑا، ڈاکٹرکوبلایا گیا، معاینہ ہوا، انجنکشن لگے، آکسیجن پہونچی، بارہ بج کردس منٹ پرمولانا نے ڈاکٹروں سے فرمایا کہ آپ لوگ ناکام ہوگئے ہیں ، اورآنکھیں ہمیشہ کیلئے بند ہوگئیں ۔

       ندوہ کی مسجد سے مولانا کی زندگی کا بڑاتعلق تھا، پیرومرشد کے حکم کو یہیں پرلبیک کرایک ویرانے کوآپ نے آباد کیا تھا، نصف صدی کے بعد جب مولانا یہاں سے گذرے ہونگے توپرانی یادیں لوٹ آئی ہونگی، وہ چہرے یہاں پرچلتے پھرتے نظرآئیں ہونگے جن کی صورتیں کبھی کی خاک میں پنہاں ہوچکیں، خلوتوں اورجلوتوں کے وہ لمحات نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہوںگے جن کو اب آنکھیں ترس گئی تھیں، اب مولانا تھے اورپیرانہ سالی کی ڈسنے والی تنہائیاں، مولانا مسعودعلی ندوی کی روح نے آواز دی ہوگی، بہت دیرہوگئی بہشت میں آکرگلے مل لو، مولانا نگرامی بڑی دیرسے انتظارمیں ہیں  ، مولانا دریابادی بھی ابھی ابھی آئے ہوئے ہیں ۔

       ۱۹۳۲ء سے ۱۹۷۸ء تک مولانا نے وقفہ وقفہ سے تین باربھٹکل کوفیض یاب کیا، پہلاوقفہ دس سال پر، دوسراچھ سال پر، تیسراچند مہینوں پر،تینوں مرتبہ بدقسمتی سے مولانا کی واپسی خوش گواراندازسے نہیں ہوسکی، نہ ہی رخصتی پرکوئی سپاس نامہ پیش کیا جاسکا، مولانا کوداغ مفارقت دئے بھی طویل عرصہ بیت چکاہے،ہمارے ناقدرشناس معاشرے میں مولانا کی ایک دھندلی سی شبیہ چند افراد کے ذہنوں میں موجود رہنے کے علاوہ آپ کویادرکھنے کے اسباب معدوم نہیں تونایاب ضرورہوگئے ہیں ، باوجود اس کے مولانا کا نام اب تک ذہنوں میں محفوظ ہے ، یہی مولانا کی بہت بڑی کرامت ہے ۔

       مولانا نے بھٹکل میں اپنے جوآثارچھوڑے، مختصرعرصہ ہونے کے باوجود جامعہ میں آپ کی خدمات کا پہلونمایاں ہے لیکن یہاں پرمولانا کے مقام کے تعین میں بڑا الجھاؤپایا جاتاہے اوراس کا سب سے بڑاسبب بھٹکل والوں کی یہ ستم ظریفی ہے کہ یہاں پر تنخواہ پاکرخدمت کرنے والے کی قربانی کااعتراف نہیں کیاجاتا ،اعزازی عہدیداروں کوہرحال میں یہاں فوقیت حاصل رہی، آئی ایچ صدیق،عثمان حسن مرحوم تنخواہ دارملازم ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی میں وہ مقام نہ پاسکے جس کے بجاطورپروہ مستحق تھے ، مولانا ندوی کے ساتھ بھی یہی المیہ پیش آیا ۔

       روداداجلاس اول کے مطابق ۱۷مارچ ۱۹۶۲ء قیام جامعہ کافیصلہ ہونے سے پیشترجامعہ کے قیام کے مشوروں میں مولانا شریک رہے اور۲۰اگست ۱۹۶۲ء باقاعدہ افتتاح سے قبل ہی مولانا تحریک جامعہ سے وابستہ ہوچکے تھے، اورقرارداد جامعہ ۱۷/اکتوبر ۱۹۶۳ء کے مطابق مولانا جامعہ کے مختارکل قرارپائے تھے، روداد اجلاس اول میں ثبت ان شواہد کے بعد یہ بحث کہ مولانا جامعہ کے بانیان میں شمارہوسکتے ہیں یا نہیں  بے معنی ہوکررہ جاتی  ہے۔

       علامہ شبلی نعمانی اورمولانا ندوی کے حالات میں یک گونہ مشابہت پائی جاتی ہے ،علامہ شبلی ندوہ سے علحدگی پرمجبورہوئے، ندوہ کی چہاردیواری میں آپ کے مخالف حاوی رہے لیکن علامہ نے ندوہ کوجومنھج دیا یہی منھج ندوہ کا طرہ امتیازبن گیا اور اس سے ندوہ کی چہاردانگ عالم میں شہرت ہوئی ۔

       مولانا ندوی کی جامعہ سے علاحدگی کے بعد جامعہ بھی کئی ایک بحرانوں کے دلدل میں پھنس گیا لیکن مولانا کے دورمیں ندوی فکرسے جامعہ کی جووابستگی ہوئی اس میں سرموانحراف نہ ہوسکا بلکہ ان تعلقات میں روزبروزاستحکام آتاگیا اوربھٹکل میں اس کی جڑیں اتنی مضبوط وپائیدارہوگئیں کہ ناظم ندوہ حضرت مولانا سید محمدرابع صاحب حسنی ندوی نے اپنے ایک مضمون میں اظہارخیال کرتے ہوئے فرمایا کہ وطن عزیزمیں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی کہ چند ایک کوچھوڑکر شہر کی جملہ مساجد میں جامعہ وندوہ کے فضلاء کی اتنی بڑی تعداد امامت وخطابت پرفائزہو ۔

       مولانا ندوی کوہم سے جداہوئے برسوں بیت گئے،یہی قانون قدرت ہے، ماہ وسال اس طرح گذرجاتے ہیں ،مولانا کودیکھنے والے بھی اب بھٹکل میں بہت کم رہ گئے ہیں لیکن مولانا کی یادوں کی قندیل دلوں میں اب بھی روشن ہے،مولانا نے بھٹکل میں نہ آنکھیں کھولیں نہ یہاں کی خاک میں پنہاں ہوئے، نہ آپکا یہاں پرکوئی عزیز یا خونی رشتہ پایا جاتا ہے لیکن مولانا نے جوشمع روشن کی ، جودیپ جلائے ان کی ضوفشانی جاری ہے،دیوں سے دئے جل رہے ہیں اورذات خداوندی سے امید ہے کہ روشنی پھیلنے کا یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا، بارگاہ یزدی میں اسے قبولیت نصیب ہو اورمولانا کی بلندی درجات کاذریعہ بنے ۔

٭٭٭