استادِ محترم مولانا عبدالعلیم ندوی مرحوم کی یاد میں  ۔ قسط ۰۲۔ ۔۔ از  :  محمد راشد شیخ ۔کراچی

Bhatkallys

Published in - Other

08:55PM Sat 21 Sep, 2019

۔بعض اوقات مولانا کلاس میں اپنے عہد شباب اور دور طالب علمی کے قصے بڑے پرلطف انداز میں بیان کرتے۔ان کی شخصیت میں ایک عجب طرح کی بے تکلفی تھی جس کی بنا پرمولانا کا موڈ دیکھ کرہم طلبہ بھی مولانا سے ہر طرح کے سوالات کرتے۔ ایک مرتبہ ایسی ہی گفتگو کے دوران ایک طالب علم نے پوچھا ’’کیا مولاناسیّد سلیمان ندویؒ آپ کے استاد تھے؟‘‘ مولانا نے کڑک کر جواب دیا ’’سیّد سلیمان ندوی ہمارے استاد تھے نہیں، ہمارے استاد ہیں‘‘۔ استاد ہیں پر خوب زور دیا۔

۔طلبہ کی ذہنی تربیت کے لیے مولانا اپنی زندگی کے واقعات بھی بڑے دلچسپ انداز سے بیان کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ رزقِ حلال کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ دہلی میں مولانا کے ایک دوست تاجر تھے۔ انگریزی عہد میں حکومت نے اعلان کیا کہ مقررہ تاریخ تک جن لوگوں کے پاس ہزار کے نوٹ ہیں، وہ بینک سے بدلوا لیں کیونکہ ہزار کا نوٹ ختم ہونے والا تھا۔ مولانا کے یہ دوست ایمان دار تاجر تھے۔ کسی وجہ سے وہ ہزارکے چند نوٹ بدلوا نہ سکے اور مقررہ تاریخ گزر گئی۔ مولانا سے جب ان کی ملاقات ہوئی تو مولانا نے اس نقصان پر ان سے افسوس کا اظہارکیا مگر ان تاجر دوست پر افسردگی کے کوئی آثار نہیں تھے ۔انہوں نے مولاناسے کہا کہ یہ رقم رزق حلال سے حاصل کی ہے، ان شاء اﷲ ضائع نہ ہوگی۔ مولانا فرماتے تھے کہ یہ رزق حلال کی برکت ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد انگریزی حکومت نے اعلان کیا کہ ہزار روپے والے نوٹ دوبارہ قابل استعمال ہیں۔ اس طرح ان دوست کی رقم ضائع ہونے سے بچ گئی۔

۔اس زمانے میں مولانا کی رہائش لطیف آبادنمبر ۱۰ میں محمدی مسجد کے بالکل نزدیک تھی۔ہماری جماعت میں حیدرآباد کی معروف شخصیت میاں محمد شوکت (معروف صحافی جناب مجیب الرحمن شامی کے سسر)کا بیٹا بھی تھا۔ایک روز جب مولانا کو پتہ چلا کہ میاں شوکت صاحب کا بیٹا بھی زیر تعلیم ہے تو انھوں نے اس سے کہاکہ میاں صاحب کو میرا سلام کہنا۔اس نے پوچھا میں آپ کے بارے میں کیا بتائوں ؟مولانا نے کہا کہ ان سے صرف اتنا کہنا کہ دس نمبری مولانانے سلام کہاہے،وہ سمجھ جائیں گے۔دس نمبری مولانا کا سن کر طلبہ مسکرانے لگے۔

۔ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے والے دیگر بزرگوں کی طرح مولانا بھی ہندوستان میں گزرے وقت کو بڑے تاثر سے یاد کرتے اور وہاں کے مختلف واقعات سناتھے تھے ۔لطیف آباد نمبر ۱۰ میں مولانا کی رہائش کے نزدیک ہی ایک معروف مٹھائی فروش کی دکان تھی ۔مولانا رس گلے کھانا پسند کرتے تھے۔جب بھی مٹھائی فروش سے رس گلے لے کر کھاتے تو اس سے کہتے کہ بھئی تم معروف مٹھائی فروش ہو لیکن ایسے رس گلے نہیں بناتے جیسے ہم نے جوانی میں جے پور میں کھائے تھے۔مٹھائی فروش مولانا کا یہ شکوہ خاموشی سے سنتا اور مسکرا کر چپ ہو جاتا۔ایک مرتبہ مولانا کا حیدرآباد سے جے پور جانا ہوا۔جب واپس آئے تو مٹھائی فروش سے ملاقات ہوئی ۔اس نے کہا :مولانا آپ ہمیشہ مجھے یہ کہتے تھے کہ میں جے پور جیسے رس گلے نہیں بناتا،اب فرمائیں کہ آپ جے پور ہو کر آئے ہیں کیا اب بھی آ پ نے ویسے ہی رس گلے کھائے جیسے جوانی میں کھائے تھے؟مولانا اس سوال پر مسکرا دیے او ر فرمایا کہ نہیں اب جے پور میں بھی ویسے رس گلے نہیں بنتے جیسے ہماری جوانی کے دور میں بنتے تھے۔

۔مولانا ندوہ میں جب طالب علم تھے تو روزانہ شام کو فٹبال کھیلتے تھے ۔ایک مرتبہ انھوں نے فرمایا کہ فٹبال کھیلنے والے طلبہ میں ایک طالب علم کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی جو جسمانی طور پر بھی طاقت ور تھا اور بقیہ طلبہ اس سے کچھ سہمے سہمے رہتے تھے۔مولانا نے فرمایا کہ جب وہ فٹبال کھیلنے پہنچے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس طالب علم کا مقابلہ کریں گے اور طلبہ کے دل سے اس کا خوف دور کریں گے چنانچہ جب کھیل شروع ہوا تو مذکورہ طالب علم مخالف سمت میں تھا ۔جب مولانا اور اس کا آمنا سامنا ہوا تو مولانا نے اپنے کندھے سے ایسی ضربیں لگائیں کہ وہ طالب علم زمین پر گر گیا ۔مولانا نے جماعت میں اس تمام تفصیل کو اپنے ہاتھوں اور کندھوں سے اشارے کرکے اس طرح بیان کیا کہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔اس طرح اس طالب علم کی دھاک طلبہ میں ختم ہو گئی۔

۔مولانا کے مزاج میں بے تکلفی کے ساتھ ساتھ خود داری بھی تھی ۔کلاس میں اپنی زندگی کے واقعات بڑے دلچسپ انداز سے بیان کرتے ۔مولانا کے ہر واقعے میں کوئی نہ کوئی اخلاقی تربیت کا پہلو ضرور ہوتا۔ایک روز فرمانے لگے کہ ان کے ایک دوست آٹے کی بوری لے کر مولانا کے گھر آئے تاکہ مولانا کو پیش کریں۔مولانا نے دروازے پر آ کر ان سے پوچھا کہ یہ کیوں لائے ہیں؟ان صاحب نے کہا:آپ کو پیش کرنے کے لیے۔مولانا نے کہا:میں اسے صرف ایک شرط پر قبول کر سکتاہوں کہ آپ عہد کریں کہ مجھے زندگی بھر آٹا آپ ہی فراہم کریں گے ورنہ میں قبول نہیں کروں گا۔مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ ہمیں تو آٹا اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ وہی عمر بھر دے گا۔اب اگر آپ زندگی بھر دینے پر آمادہ ہوں تو لے سکتا ہوں۔ناچاران صاحب کو آٹے کی بوری واپس  لے جانی پڑی۔

                                                اب کچھ مولانا کے طریقہء تدریس کے بارے میں لکھتا ہوں۔دراصل مولانا ان اساتذہ میں شامل تھے جو صرف اور صرف نصابی کی کتابیں ہی نہیں پڑھاتے بلکہ اپنے شاگردوں کی تربیت اس انداز سے کرتے ہیں کہ علم کے ساتھ ساتھ ان میں عمل کی صلاحیت بھی پیدا ہو اور زندگی کے میدان میں وہ حالات و مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔وہ ا ن اساتذہ میں تھے جو شاگردوں سے قریبی قلبی تعلق قائم کر لیتے ہیں ۔ان کی شخصیت میںایسی کشش اور جاذبیت تھی کہ وہ خواہ خوشگورموڈ میں ہوں یا غصے کی حالت میں ،ہم شاگرد یہی سمجھتے تھے کہ وہ ہمیں دل سے قریب رکھتے ہیں اور ہمارے خیرخواہ ہیں۔ویسے مولانا عموماً خوشگوارموڈمیں ہی ہوتے لیکن کبھی کبھار جب غصے کی کیفیت طاری ہوتی تو ان کا جلال پورے عروج پر ہوتا ۔اس کیفیت میں اگر کوئی شاگردہتھے چڑھ جاتا تو اس کی خاطر خواہ دھنائی کرتے اور ساتھ ہی زبان سے ایسے الفاظ بھی ادا کرتے جنھیں سننا تو ممکن تھا، تحریرکرناممکن نہیں۔

                                                راقم الحروف سے مولان بڑی شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔اس زمانے میں والدئہ مرحومہ کی طبیعت اکثر ناساز رہتی اس لیے گھر کا سارانظام درہم برہم ہو چکا تھا۔انھی دنوں ایک روز مولانا نے راقم کواپنے پاس بلایا اور پوچھا :راشد،آج تمھاری قمیص کا کالر میلا کیوں ہے؟مولانا نے یہ سوال کچھ اس طرح پوچھا کہ راقم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور ان سے عرض کیا کہ والدئہ محترمہ کی علالت کی وجہ سے گھر پر کپڑے دھونے والا کوئی نہیں۔یہ سن کر مولانا نے جو بات کہی وہ آج تک بار بار یاد آتی ہے اورمیرا سر ان کے احترام سے جھک جاتاہے۔فرمایا:بیٹے والدہ بیمار ہیں تو کیا ہوا،اب تم اتنے بڑے ہو چکے ہوکہ اپنا کام خودکر سکو اس لیے اگر کپڑے میلے ہوجائیں توخود ہی دھولیاکرو۔مولانا کے اس نصیحت آمیز جملے نے راقم کے لیے ہمیشہ مشعل راہ کاکام کیا۔

۔مولانا کے طریقہ ء تدریس کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں ۔ایک مرتبہ مولانا عربی زبان کی کتاب میں سے حضرت شاہ ولی اللہ کے بارے میں سبق پڑھا رہے تھے۔سبق عربی میں تھا جس میں ایک مقام پر شاہ ولی اللہؒ کے قیام حرمین کاذکر تھا۔یہاں قیام کے حوالے حولین کاملین کے الفاظ بھی آئے جن کے معنی مولانا سبق پڑھتے وقت بتاچکے تھے۔اب اگلے روز مولانا جب کلاس میں آئے تو سب سے یہی پوچھا کہ  حولین کاملین کے کیا معنی ہیں۔مختلف لڑکوں نے ہاتھ اٹھائے۔باری باری جب جوابات سنے تو کسی نے کہا اس کے معنی ہیں دوسال بعد ،کسی نے دوسال پہلے ،کسی نے دوسال تک،کسی نے کہا دوسال۔مولاناکسی جوابات سے مطمئن نہیں ہوئے ۔آخر میں ایک نمایاں شاگردنے ہاتھ اٹھایا۔مولانا نے فرمایا تم بتائو ۔اس نے کہا حولین کاملین کے معنی ہیں حرمین شریفین۔یہ سننا تھا کہ مولانا نے غور سے اس طالب علم کی طرف دیکھا اور بولے:ماشاء اللہ ماشاء اللہ ، حولین کاملین کے معنیٰ حرمین شریفین،اگر ایسے ہی جوابات سننے کو ملے تو جو تھوڑی بہت عربی ہم نے سیکھی ہے اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔اس کے بعد کلاس کی طرف رخ کر کے بولے تم میں سے زیادہ ترنے حولین  کے معنی درست بتائے یعنی دوسال اب رہا کاملین تو ذراغور کرواس لفظ سے ہی پتہ چلتاہے کہ اس کے معنی کامل یا مکمل کے ہیں یعنی  حولین کاملین کے معنی ہوئے کامل دوسال یا مکمل دوسال اوریہی مدت حضرت شاہ ولی اللہ کے قیام حرمین کی ہے۔یہ ایک مثال تھی مولانا کے طریقہء تدریس کی جس میں وہ شاگردوں کے ذہن میں سوالات پیدا کرتے اور پھر ان کی رہنمائی کرتے تھے۔

۔مولانا حافظ قرآن بھی تھے۔ اسلامیات کے پیریڈ میں انبیاعلیھم السلام کے قصے بھی شامل تھے اور متعلقہ قرآنی آیات بھی۔ ہر نبی کا قصہ شروع کرنے سے قبل مولانا کافی پہلے سے (عموماً ابتدائے سورۃ سے) تلاوت شروع کرتے اور نہایت خشوع اور خضوع سے کافی دیر تک تلاوت فرماتے پھر مکمل قصہ بیان فرماتے۔ ایک مرتبہ جماعت میں ایک طالب علم اسلامیات کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس سبق میں کئی بار حضرت عمرو بن العاص کا ذکر موجود تھا۔ طالب علم ان کا نام عمرو بن العاص پڑھتا۔ اس پر مولانا نے ڈانٹا اور فرمایا یہ کیا عمرو پھمرو پڑھتے ہو۔ صحیح تلفظ عمرو ابن عاص ہے۔

۔بعض اوقات مولانا باتوں باتوں میں بڑی سبق آموز باتیں اپنے مخصوص اندازمیں بیان کرتے۔ایک مرتبہ نصیحتاً فرمایا کہ انسان کو غیر ضروری تکلفات سے دور رہنا چاہیے۔اس حوالے سے لکھنؤکے دونوابوں کایہ دلچسپ واقعہ سنایا:ایک مرتبہ لکھنو کے دو نواب ٹرین میں سفرکررہے تھے۔اتفاق سے دونوں کو بیک وقت قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا جانا پڑا ۔جب دروازے پر پہنچے تو پہلے نواب صاحب کہنے لگے :پہلے آپ ۔اب دوسرے نوا ب صاحب نے کہا:اجی نہیں پہلے آپ۔کافی دیر تک تکلفات کی وجہ یہ پہلے آپ پہلے آپ کی تکرار جاری رہی۔بالآخر پہلے نواب صاحب گویا ہوئے:اجی حضرت اب تو آپ چلے ہی جائیے ،میں کب کا فارغ ہوچکا۔مولانا نے یہ واقعہ اتنے دلچسپ انداز سے  سنایا اور مکالموں کی ادائگی بڑے ڈرامائی انداز سے کی کہ اس کا لطف اب تک باقی ہے۔

۔مولانا کی حاضر جوابی اور بذلہ سنجی کے مظاہرے تقریباً روزانہ ہی سننے اوردیکھنے کوملتے ۔اسی خصوصیت کی وجہ سے ہم طلبہ بلکہ بعض اساتذہ بھی مولانا سے کسی حد تک گھبراتے تھے کہ کہیں مولانا کاکوئی تیز جملہ سننے کونہ ملے ۔ایسے ہی ایک واقعے کاگواہ راقم ہے۔عموماً سردیوں میں تمام اساتذہ صحن میں کرسیاں لگا کر دھوپ میں بیٹھا کرتے تھے۔ایک مرتبہ راقم نے دیکھا کہ ایک نوجوان استادحنیف صاحب مولانا کے برابر بیٹھے تھے ،وہ پینٹ شرٹ اور پوری آستین کے سویٹر میں ملبوس تھے۔مولانا سے دوران گفتگو انھوں نے لباس کے حوالے سے نہ جانے کیا جملہ کہا کہ مولانا تیزآواز میں ان سے گویاہوئے:ارے میاں آپ ہمارے لباس کے بارے میں کیا جانتے ہیں،آپ ہماری جوانی دیکھتے تو اندازہ ہوتاکہ ہم کیسا مہنگا اورنفیس لباس پہنتے تھے،پھر انکے سویٹر کو ہاتھ لگا بولے:آپ لوگ تو لنڈے کے کپڑے پہن کر اتراتے پھرتے ہیں،آپ کو کیا علم لباس کس کو کہتے ہیں۔یہ جملے مولانا غصے کی حالت میں نہیں بلکہ ایک خاص مزاحی انداز سے کہہ رہے تھے جس سے نہ صرف حنیف صاحب بلکہ وہاں بیٹھے تمام اساتذہ دیر تک مسکراتے رہے۔

۔مولانا کی شخصیت میں ایسی اپنائیت تھی کہ ان کے پرانے شاگرد بھی ان سے نہ صرف ملنا چاہتے،ان کی پر لطف گفتگو سننا چاہتے بلکہ ان سے مسلسل تعلق برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ایک مرتبہ مولانا ہمیں پڑھارہے تھے اوران دنوں کسی قدر علیل تھے ۔ دو پرانے شاگردملنے آئے۔ان میں سے ایک صاحب نے شرارتاً مولانا سے اپنا تعارف کرایا کہ میرا نام یہ ہے اوران صاحب کانام یہ ہے اورہم یہاں صرف آپ کی خیر یت معلوم کرنے آئے ہیں۔مولانا نے جب ان کے منہ تعارف سنا تو ان سے یوں گویاہوئے:جی نہیں جی نہیں،ہم آپ سے بالکل واقف نہیں اسی لیے آپ اپنا تعارف کرا رہے ہیں۔ارے، ہم آپ کے نام ہی سے نہیں ،آپ کی رگ رگ سے واقف ہیں۔اس دن پتہ چلا کہ علالت کے باوجود مولانا کی شگفتہ مزاجی کا وہی عالم ہے۔

                                                جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیامندرجہ بالا واقعات اس دورکے ہیں جب راقم علامہ اقبال ہائی اسکول لطیف آباد میں ساتویں اورآٹھویں جماعت کاطالب علم تھا۔یہ اندازاً ۷۸۔۱۹۷۷ء کی بات ہے۔مولانا دوسال ہمیں عربی اور اسلامیات کی تعلیم دے کر دوبارہ زیل پاک اسکول جاچکے تھے لیکن ان کی باتوں اور یادوں کے نقوش تازہ تھے۔اس کے بعد ۱۹۸۱ء میں راقم نے اسی اسکول سے میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔کبھی کبھار مولانا سے لطیف آباد کے مختلف راستوں پر ملاقات ہوجاتی ۔ہمیشہ مولانا بڑ ی محبت اور بے تکلفی سے ملتے اور کافی دیر تک حال واحول پوچھتے۔۱۹۸۴ء میں راقم تمام گھر والوں کے ساتھ حیدرآباد سے کراچی منتقل ہوگیا لیکن حیدرآباد اور لطیف آباد جانا ہوتا اورمختلف ذرائع سے مولانا و دیگر اساتذئہ کرام کی خیرو عافیت کا علم بھی ہوتا۔کراچی میں قیام کے دوران مولانا کے حقیقی بڑے بھائی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی (وفات:۲۲؍اگست  ۱۹۹۹ء بمقام کراچی  )،ان کے چھوٹے بھائیوں مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی اورمولانا مظفر لطیف صاحب سے روابط بڑھے اور مولانا کی علمیت اور تقویٰ اور پرہیز گاری کے بارے میں کئی نئی باتوں کاعلم ہوا ۔مولانا نے ساری زندگی تقویٰ، پاکیزگی ،بے نفسی اور دنیا سے بے رغبتی سے گزاری۔وہ مستقل تہجد گزار تھے۔ایک مرتبہ حیدرآباد جانا ہوا تواسکول کے ایک دوست کے ذریعے علم ہوا کہ مولانا مورخہ ۲۹؍ستمبر۱۹۸۷ء کو لطیف آباد حیدرآباد میں انتقال کر گئے ۔یہ خبر سنتے ہی یوں لگاجیسے ہم کسی قریب ترین بزرگ سے بچھڑ گئے ۔

                                                کئی برسوں بعد مولانا کے بڑے صاحب زادے ڈاکٹر عبدالمقیت شاکر علیمی صاحب سے ملاقات ہوئی توانھوں نے اپنی خاکوں پرمشتمل کتاب ’سبد گل ‘ کا نسخہ پیش کیاجس میں مولانا پرمضمون بھی شامل ہے۔اس میں مولانا کے حالات پڑھے تو پتہ چلا کہ مولانا صرف ایک عالم دین اوراستا د ہی نہیں کئی علوم وفنون کے ماہرتھے۔وہ بیک وقت ایک ماہر تیراک،فن پہلوانی کے ماہر،لکڑی چلانا یعنی بنوٹ کے ماہر،نگینہ سازی کے ماہر،فن خطاطی کے ماہرہونے کے ساتھ ساتھ کبوتر بازی کے بھی ماہر تھے۔بعد میں مولانا  کے خودنوشتہ مختصر حالات زندگی ڈاکٹر فیوض الرحمن صاحب کی مرتبہ کتاب ’ علماء کی کہانی خود ان کی زبانی ‘ میں بھی پڑھنے کا موقع ملا۔مولانا کے مختصر حالات ان کے برادر اصغر ڈاکٹر مولانا عبدالحلیم چشتی صاحب نے بھی لکھے ہیں جو ’’مراۃ الانساب ‘‘ کے نئے ایڈیشن(۲۰۰۹ ء از کراچی) کے آخر میں ’’تذکرہ رحیمی ‘‘ کے عنوان سے ضمیمے کے طورپر شائع ہوئے۔اس میں چشتی صاحب نے اپنے خاندان کا مختصر تذکرہ لکھا ہے۔

                                                ایک ملاقات کے دوران ڈاکٹر شاکر علیمی مرحوم نے راقم کو مولانا علی میاں صاحب کا ایک خط بھی دکھایا تھا جو ہمارے مولانا کے انتقال کے بعد مولانا علی میاں صاحب نے لکھا تھا اور جس میں ندوہ کے دور کی یادیں مختصراً لکھی تھیں۔خوب یاد ہے کہ اس خط میں مولانا علی میاں صاحب نے ہمارے مولانا کو آغا میاں لکھا تھا ۔ہمارے مولانا عہد شباب میں شاید اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ’آغا میاں ‘ کہلاتے تھے ۔اب افسوس ہوتا ہے کہ راقم، مولانا علی میاںصاحب کے اس اہم خط کی نقل حاصل نہ کرسکا ورنہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتا۔بعد میں ڈاکٹر شاکر علیمی بھی انتقال کر گئے اور ان کے تمام اہل خانہ امریکہ منتقل ہو گئے۔اس کے بعد اس خط کے حصول کے لیے کئی حضرات بشمول مولانا کے برادر اصغر ڈاکٹر مولانا عبدالحلیم چشتی صاحب سے رابطہ کیا مگر کامیابی نہ ہوئی۔

                                                آخر میں ہم مولاناکے مختصر حالات زندگی اورعلمی خدمات پربھی روشنی ڈالیں گے

                                                مولاناابو العلاء عبدالعلیم ندوی صاحب مورخہ۷؍دسمبر۱۹۲۲ء کو جے پور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد محترم عبدالرحیم خاطراس دورکے نامور خوشنویس،فارسی و اردو کے شاعر اور مطبع رحیمی کے مالک تھے۔مولانا نے ابتدائی تعلیم والد ماجد اور تایا حافظ عبدالکریم صاحب سے حاصل کی پھر مدرسہ تعلیم الاسلام جیپور میں فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کی۔کچھ عرصہ دارالعلوم ڈابھیل (سورت )میں تعلیم حاصل کی پھر برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنو میں داخل ہوئے۔یہاں اس زمانے میں بڑے ممتازاساتذہ موجودتھے جن سے مولانا نے بھرپوراستفادہ کیا۔ان اساتذہ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی،مولانا مسعود عالم ندوی،مولانا اویس ندوی،مولانا محمدشبلی ندوی،مولانا عبدالرحمن کاشغری ندوی وغیرہ شامل تھے۔ان تمام اساتذہ میں جس استاد سے مولانا نے صرف استفادہ ہی نہیں کیا بلکہ شب و روز ان کی خدمت میں رہ کروہ کتب بھی پڑھیں جو نصاب میں شامل نہیں تھیں وہ شیخ الحدیث مولانا حیدر حسن خان ٹونکی ؒتھے۔دارالعلوم ندوۃ العلماء سے مولانا نے ۱۹۳۸ء میں سند فراغت حاصل کی ۔اس کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے اور پنجاب یونیورسٹی سے ۱۹۴۰ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیاساتھ ہی مولانا احمد علی لاہوری ؒسے تفسیر قرآن کا درس بھی لیا۔۱۹۴۱ء میں مولانا حیدرآباددکن تشریف لے گئے جہاں مولانا محمود حسن ٹونکی صاحب کی معاونت کی جو ایک عظیم علمی منصوبے یعنی ’معجم المصنفین ‘ کی تکمیل میں مصروف تھے۔تقسیم کے بعد مولانا کراچی تشریف لے گئے اور چند برسوں بعد کراچی سے حیدرآباد منتقل ہوگئے اور بقیہ زندگی حیدرآباد ہی میں گزاری۔

                                                مولانا عبدالعلیم ندوی صاحب کی تالیفات و تراجم درج ذیل ہیں:

 ۔۱- علامہ ابن جزری کی معروف کتا ب حصن حصین کا ترجمہ اورشرح

 ۔۲- شیخ شرف الدین النووی کی اربعین کی شرح

 ۔۳۔ دعا کی حقیقت

 ۔۴- فضائل درودپر رسالہ

 ۔۵- مولانا حیدرحسن خان کے رسالے ’التعامل‘ کا اردوترجمہ

 ۔۶- سندھ کے مشہور عالم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کی کتب ’فرائض الاسلام‘،’کشف الرین‘ اور ’تنقیح الکلام فی مسئلۃ قراۃ خلف الامام‘ کو کئی کتب کی مدد سے بڑی تحقیق سے مرتب کیا اور ان کا ترجمہ و تشریح کی۔

                                                مولانا سے تلمذ کو ۴۲ برس اور ان کے انتقال کو ۳۲ برس ہوچکے ہیں لیکن ان کی شفقت ،محبت ،جذبہء خیرخواہی ،بذلہ سنجی اور علمیت کے واقعات باربار یادآتے ہیں۔جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو ان کا نصیحت آمیز جملہ بے اختیار یاد آجاتا ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا۔دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش مولانا زندہ ہوتے تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان سے عرض کرتا کہ آپ نے برسوں پہلے مجھے اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کی نصیحت کی تھی۔ اس کے بعد میں نے بہت سے کام اپنے ہاتھوں سے کرنا سیکھے اور اب بھی سیکھ رہا ہوں لیکن میں نہ پہلے بڑا تھا نہ اب ہوں بلکہ بڑے تو حقیقت میں آپ ہیں کہ آپ کے ایک جملے نے میری زندگی کارخ بدل دیا۔ساتھ ہی مولانا کی جب بھی یاد آتی ہے تو یہ نہ بھولنے  والاشعر بھی یاد آجاتا ہے:

وے صورتیں  الٰہی کس دیس   بستیاں ہیں

 اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں