دہلی و اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۹- آخری قسط ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys

Published in - Other

02:03AM Fri 31 Jan, 2020

 مورخہ ۴ / دسمبر کی صبح ہم مظاہر علوم جدید سےپرتکلف ناشتہ کرکے نکلے، ہماری آئندہ منزل خانقاہ رائے پور تھی،خواہش تھی کہ اگر مولانا مفتی حکیم عبد اللہ مغیثی صاحب موجود ہوں اور وقت ساتھ دے تو اجراڑہ بھی ہو آئیں،لیکن ایک تو اجراڑہ کا راستہ دوسرا تھا اور کی مسافت بھی دور پڑتی تھی، اور یہ اطلاع بھی ملی کہ مولانا مغیثیی صاحب دہلی کے لئے روانہ ہوگئے ہیں،علاوہ ازیں ہمارے رفیق سفر مولوی عبد المعز منیری کی بھی دہلی ایرپورٹ سے اسی روز شام کے جہاز سے دبی روانگی تھی ، لہذا اجراڑہ کو سفر سے خارج کردیا گیا۔ رہی بات اجراڑہ کی تو بہت ممکن ہے اس قصبے سے بہت سے لوگ متعارف نہ ہوں،لیکن بزرگان دین اور اکابر کے نقوش پا کے متلاشیوں کے نزدیک اجراڑہ کی بھی بڑی اہمیت رہی ہے، اور یہ اہمیت حافظ محمد حسین اجراڑوی رحمۃ اللہ کی نسبت کی وجہ سے بہت بڑھ گئی ہے جن کی طرف منسوب جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ عرصہ درارز سے علاقہ میں قرآن اور علم کا نور پھیلا رہا ہے، اور اس کے روح رواں مولانا مغیثی دامت برکاتھم کے دور میں اس کی سینکڑوں شاخیں کام کررہی ہیں۔اس مدرسہ کے بانی حافظ محمد حسین صاحب ان شخصیات سے تھے جن سے ہمارے اکابر کو بے پناہ انس تھا، آپ نماز تراویح میں ۱۷ سال تک مسلسل حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے سامع رہے، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ چالیس بار اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ باون بار یہاں تشریف لائے، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ زندگی کے آخری چہار مہینوں میں جب بہت زیادہ بیمار ہوئے، اور تکلیف اتنی بڑھی کہ حضرت مولانا علی میاں ، اور مولانا منظور نعمانی اور حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ تک آپ کی چار پائی کے قریب جا نہیں سکتے تھے،اس وقت مولانا الیاس رحمۃ اللہ نے حافظ صاحب کو بلایا تھا، اور ان سے دم کرنے کے لئے کہا تھا، انگریزی سامراج کےد ور کے قید و ابتلا میں حضرت مدنی کی نگاہوں سے دور خفیہ میٹینگیں اسی جگہ ہوا کرتی تھیں، اس دور میں جب کہ مواصلات کا کافی نظام نہیں تھا، حضرت مدنی دیوبند سے میرٹھ ٹرین پر اور پھر چار پانچ گھنٹے بیل گاڑی پر بیٹھ کر اجراڑہ پہنچا کرتے تھے۔پھول نہیں تو پنکھڑی ہی سہی کی مثال اس سفر میں مولانا مغیثی کی ملاقات سے محرومی کا کچھ مداوا آپ کے وطن گھگھر ولی سے گزرتے ہوئے ، آپ کے ہونہار فرزند مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی صاحب کی زیارت سے ہوا، ڈاکٹر صاحب کی والدہ کی وقف کردہ زمین پر ایک دارالعلوم قائم کیا گیا ہے، ڈاکٹر صاحب اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر ملت اسلامیہ کی علمی ودینی خدمات انجام دے رہے ہیں، ابھی جوان ہیں ،ان کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں، آپ کے والد ماجد مولانا مفتی عبد اللہ مغیثی صاحب خود مرجع خلائق ہیں ، آپ نے بڑوں کی نگاہیں دیکھی ہیں، آپ کی والدہ حضرت مدنی علیہ الرحمۃ سے بیعت تھیں، اورانہی کی خواہش پر اسکول سے نکال کر حضرت مدنی آپ کو دیوبند لے گئے تھے،جہاں آپ کی تعلیم مکمل ہوئی تھی، لڑکپن میں حضرت مدنی سے آپ کی بے تکلفی کے کچھ قصے بھی بیان کئے جاتے ہیں ، مثلا دارالعلوم میں قراءت کے ایک موقر استاد تھے قاری احمد میاں صاحب جو بڑی بلند وبالا آواز میں قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے، ان کی یہ آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی، جو شریر طلبہ ان کی نقلیں اتارا کرتے تھے، ان میں سے ایک مغیثی صاحب بھی تھے، ایک دن قاری صاحب نے انہیں دیکھ لیا، اور حضرت مدنی سے شکایت کی اور ان تمام طلبہ کے اخراج پر بضد ہوگئے، جب یہ سبھی طلبہ حضرت مدنی کے سامنے پیش ہوئے تو مغیثی صاحب نے حضر ت مدنی سے فرمایا کہ ہم نے بزرگوں سے سنا ہے کہ علوم دینیہ اور خاص طور پر علم قراءت سیکھنے کے لئے استاد جیسا پڑھتا ہے ویسا ہی پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے، زیر وبم میں استاد کی اتباع کرنی چاہئے، حتی کہ لباس اور وضع قطع بھی استاد جیسا ہی کرنا چاہئے ، اب ہم ان چیزوں میں استاد کی نقل نہیں کریں گے تو کیسے سیکھیں گے، تو حضرت مدنی ہنس پڑے، اور فرمایا کہ کلمۃ حق یراد بہا باطل۔ اور طلبہ کو تنبہ کرکے چھوڑ دیا ۔ ہماری اگلی منزل خانقاہ رائے پور تھی۔خانقاہ رائے پور کو ہمارے اکابر کے یہاں بڑی اہمیت رہی ہے، یہاں کے بزرگ مولانا مفتی عبد الرحیم رائے پوری، مولانا عبد العزیز رائے پوری، اور مولانا مفتی عبد القیوم پوری رحمۃ اللہ علیہ اس کے گلہائے سرسبد رہے ہیں، جن کی رہنمائی میں کئی نسلوں نے اصلاح وتربیت کے مراحل طے کئے ، اپنے دلوں اور روحوں کو پاکیزہ کیا ، یہ سبھی بزرگ چندے آفتاب اور چندے ماہ تاب تھے، لیکن اس خانقاہ کو سب سے زیادہ شہرت اور مرجعیت عارف باللہ حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں ملی،جن کے خلفائے اجل میں سے حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ اور مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ تھے، جو تصنیف و تحریر کے میدان کے بھی شہ سوار تھے، اس طرح حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ کی تبلیغی نصاب کے سلسلے کی ان کتابوں نے بھی آپ کے نام کو دنیا بھر میں زندہ رکھا،جو آپ کی فرمائش پر حضرت شیخ نے لکھی تھیں۔ حضرت رائے پوری کا تعلق ڈھڈیاں، سرگودھا ، پنجاب سے تھا، جہاں آپ کی پیدائش سنہ ۱۸۷۳ ء میں ہوئی تھی،جب آپ سن شعور میں تھے تو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ کے خلیفہ حضرت مولانا عبد الرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کا ان علاقوں میںاصلاح و تربیت کے لئے آنا جانا ہوتا تھا، جن سے متاثر ہوکر آپ نے دینی تعلیم کے لئے پہلے رامپور ، اور پھر بلند شہر کا سفر کیا، غربت کا یہ عالم تھا کہ سردیوں میں پانی گرم کرنے کے لئے جو گھانس پھونس اور لکڑیا ں جلائی جاتی ہیں ان کی روشنی میں درسیات یاد کیا کرتے تھے، یہاں سے آپ مظاہر علوم پہنچے ، جہاں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے کھانے کا بندوبست ایک داروغہ کے یہاں کردیا ،چند روز بعد مولانا سہارنپوری نے آپ کو دیکھا کہ بہت کمزور اور دبلے ہوگئے ہیں ، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چونکہ داروغہ صاحب بہت رشوت لیا کرتے ہیں تو آپ نے ان کے یہاں کھانا چھوڑدیا ہے، اس وقت حضرت سہارنپوری نے آپ کو ہدایت کی کہ آج سے کھانا ان کے ساتھ ہوا کرے گا، اور یہ سلسلہ آپ کی وفات تک جاری رہا ، مولانا رائے پوری کے زمانے میں حضرت گنگوہی بقید حیات تھے، چاہتے تو آپ حضرت گنگوہی کے ہاتھ پر بیعت کرکے اپنے بیعت و رشد کی نسبت کو بلند کرسکتے تھے، لیکن حضرت رائے پوری نے سوچا کہ چونکہ یہ آپ کی کبر سنی کا زمانہ ہے لہذا آپ سے بیعت کی شکل میں یہ تعلق برکت تک محدود رہے گا، حضرت گنگوہی خواطر خواہ آپ کی اصلاح و تربیت پر توجہ نہیں دے سکیں گے، تو پھر آپ نے حضرت کے خلیفہ مولانا عبد الرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ سے بیعت و ارشاد کا تعلق قائم کیا، اور تادم آخر ان کی چوکھٹ سے وابستہ رہے۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا عبد الرحیم رائے پوری کی رحلت کے بعد آپ کے بھانجے مولانا اشفاق صاحب نے آپ سے کہا کہ یہ وراثت اور ملکیت کا ہمارا خاندانی معاملہ ہے،لہذا خانقاہ کے مالک ہم ہیںآپ نہیںہوسکتے، تم یہاں سے چلے جائو، تو مولانا رائے پوری خاموش رہ گئے اور خانقاہ سے قریب ہی ایک درخت کے نیچے اپنا ٹھکانا بنا دیا، گائوں کا ایک آدمی روازانہ ایک روٹی آپ کو دے جاتا، جس پر آپ گزارا کرتے، اس طرح اٹھارہ سال گزرگئے، طویل عرصہ بعد مولانا اشفاق صاحب نے آپ سے دریافت کیا کہ تم گئے نہیں ؟، تو آپ نے فرمایا کہ ایک کتا بھوکا بھی رہے تو اپنے مالک کی چوکھٹ کو نہیں چھوڑتا، میں تو انسان ہوں ، اپنے پیر ومرشد کی جگہ کو کیسے چھوڑدوں۔ اس وقت مولانا اشفاق اپنی چارپائی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے، اور کہا کہ تم یہاں بیٹھ جائو ، میں اس کا حق دار نہیں ہوں ، تم ہی اس کے حقدار ہو۔ مولانا عبد القادر رائے پوری نے اس کے بعد پوری زندگی یہیں گزاری، تقسیم ہند کے بعد بھی یہیں رہے، جبکہ آپ کے جملہ اعزا و اقربا پاکستان میں تھے، ۱۹۶۰ء میں اپنے بھائی اور اس وقت کے وزیر اوقاف عبد الحمید کے اصرار پر ان سے ملنے پاکستان گئے، جب جارہے تھے تو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے اکابر موجود تھے، اس وقت آپ نے فرمایا کہ جس شیخ و مرشد کی چوکھٹ پر زندگی گزری ہے ، تمنا ہے کہ میری قبر بھی انہیں کے ساتھ ہو، انتقال کی صورت میں ان کی میت رائے پور لائی جائے۔ لیکن انسان کی سبھی خواہشات کہاں پوری ہوتی ہیں، آپ کا پاکستان ہی میں انتقال ہوگیا، آپ کے خلیفہ و جانشین مولانا عبد العزیز رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش تھی کہ آپ کی وصیت کو پورا کیا جائے، اور آپ کے اعزا و اقربا کی یہ خواہش تھی کہ ان کی بستی میں قریب تدفین ہو، آپ کا جنازہ کئی شہروں میں پڑھا گیا، اورتدفین میں کافی دیر ہوگئی، اس سلسلے میں حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ سے رجوع کیا گیا، اور شاید کہنے والوں نے حضرت شیخ تک یہ بات پہنچائی کہ میت رائے پور لانے میں پوسٹ مارٹم اور اسے حنوط کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا، جس سے میت کی توہین ہوگی، لہذا ان نزاکتوں کو دیکھ کر حضرت شیخ نے آپ کی اپنے گائوں ہی میں تدفین کا عندیہ دیا، لیکن کچھ عرصہ بعد حضر ت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ کا پاکستان میں انتقال ہوا تو حضرت شیخ نے ہندوستان میں ان کی تدفین کے لئے کہا ، اس پر مولانا عبد العزیز رائے پوری وغیرہ کو بڑی ناراضی ہوئی ، اور آپ نے حضرت شیخ سے تین گھنٹے تک اس موضوع پر بحث کی، اور یہ تنازعہ تاریخ کا ایک حصہ بن گیا۔ خانقاہ رائے پور میں اس کے متولی الحاج شاہ عتیق احمد صاحب سے ملاقات ہوئی، ان کے فرزند مولانا بد ر عالم ندوی بھی آپ کی رفاقت میں موجود تھے، ہم نے الحاج محی الدین منیری صاحب کی حضرت رائے پوری کے یہاں بے ہٹ ہاوس میں حاضری کا واقعہ پڑھ کر سنا یا، بڑے محظوظ ہوئے، ماضی کا ایک روح پرور منظر سامنے آگیا، ہمارا خیال تھا کہ بے ہٹ ہاوس خانقاہ سے قریب ہوگا، کیونکہ رائے پور آتے ہوئے بے ہٹ قصبے کی تختی نظر سے گذری تھی، لیکن شاہ صاحب سے معلوم ہوا کہ بے ہٹ ہاوس ،سہارنپور ہی میں آپ کے ایک عقیدت مند کی حویلی تھی، جہاں حضرت رائے پوری آکر ٹہرا کرتے تھے، تقسیم ہند کے بعد یہ صاحب ہجرت کرگئے، اور حویلی کسٹوڈین کے قبضے میں آگئی، اور اس پر غیر مذہب والوں کا قبضہ ہوگیا، یہ کوٹھی اب بھی سہارنپور میں موجود ہے۔ یہ ان بزرگوں کے اخلاص کا اثر ہے کہ جہاں برصغیر سے اکابر کی خانقاہی تہذیب و ثقافت ختم ہورہی ہے، اور قریبی دور کی عظیم اور مشہور خانقاہوں کا وجود بھی باقی نہیں رہا ہے، یہ خانقاہ اب بھی اپنی سابقہ روایات کے ساتھ جاری و ساری ہے، یہاں کے پرسکون ماحول نے دل کو موہ لیا، در ودیوار کو دیکھ کر ایسا لگا کہ یہاں ورد واذکار کا سابقہ سماں اب بھی یہاں بندھتا رہتا ہے، معلوم ہوا کہ حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ زندگی بھر یہاں آتے رہے، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی دامت برکاتھم بھی اپنی پیرانہ سالی کے باجود یہاں آتے رہتے ہیں، اور ماہ رمضان المبارک کے روز و شب میں یہاں کا روحانی ماحول اپنی جوبن پر ہوتا ہے۔مولانا بدر عالم صاحب معلوم ہوا کہ وہ یہاں کے بزرگوں کے ملفوظات کی ادبیت پر ایک تحقیقی مقالہ ڈاکٹر مشتاق تیجاروی صاحب کی زیرنگرانی تیار کررہے ہیں، ہمیں اس کی تکمیل کا شدت سے انتظار ہے۔ رائے پور سے ہم بہٹ سنسارپور کے راستے کھجناور پہنچے، یہ ہمارے کرم فرما مفتی ساجد کھجناوری کا وطن ہے، یہاں پر مدرسہ دار القرآن دیدارشاہ میں ان کے ذمہ داران مولانا محمد ابرارندوی اور دوسرے احباب سے ملاقات میں ایک اپنائیت کا احساس ہوا، مفتی ساجد صاحب کے دولت کدے پر حاضری ہوئی، اور آپ کے والد ماجد سے بھی شرف ملاقات حاصل ہوا،دہلی اور اطراف کے جن علاقوں سے ہمارا گزرہوا ، ان کے چپے چپے پر بزرگان دین اور اکابر کے قدم پڑے ہیں ، یہ ان کی علمی وروحانی عظمت کی داستانیں اپنے جلو میں سموئے ہوئے ہے۔ کھجناورتک تو ہماری رسائی مفتی ساجد کے توسط سے ہوئی تھی، لیکن یہ قصبہ بھی دوسرے قصبوں کی طرح تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں قطب الاقطاب شیخ عبد القدوس گنگوہی کے متوسلین میں سے شیخ دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ مدفون ہیں، یہاں پر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگرد عزیز مولانا سید عبد العزیز کھجناوری مرحوم کی خواہش پر عزیز القرآن کے نام سے ایک ادارے کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس کے باقیات اب بھی یہاں پائی جاتی ہیں۔ کھنجاور سے ہم مظفر نگر پہنچے جہاں کے مولانا مفتی ندیم احمد قاسمی صاحب ہمارے اس سفر میں دہلی سے پابہ رکاب تھے، یہاں مولانا جس مدرسے اور مسجد سے وابستہ ہیں انہیں دیکھنے کا موقعہ ملا ، اور ظہرانے میں مولانا کی ضیافت کا لطف اٹھایا، اور ہم سوئے دہلی رانہ ہوگئے، رات کو ہمارے رفیق مولوی عبد المعز منیری اپنی منزل کی طرف دبی روانہ ہوئے، اور دوسرے دن ظہر کے وقت عزیزم مولوی محی الدین مروان منیری لکھنو کی طرف اور یہ ناچیز بذریعہ ہوائی جہاز منگلور کی طرف، الوداعی کے لئے جناب لقمان اظہر صاحب ، مولانا مفتی ندیم احمد قاسمی صاحب اور مولانا مفتی محمد ساجد صاحب ایر پورٹ تک موجود تھے، آخر الذکر دونوں گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل سفر پر تھے، یہاں سے انہیں گنگوہ اور مظفر پور جانا تھا، انڈیگو کا جہاز سوئے منزل رواں دواں تھا، اوردوچار روز کے اس سفر میں ان حضرات کی رفاقت ان کے اخلاق اور رویوں کو یہ ناچیز یاد کررہا تھا، اور سوچ رہ تھا، کہ اگر ایسے لوگوں کی رفاقت اس دنیا میں مل جائے تو یہ دنیا بہشت کا نمونہ نہ بن جائے؟ اللہ ہی ان احباب کی محبتوں اور خدمتوں کا بہتر صلہ دینے والا ہے۔ ختم شد

31/1/2020