محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امروہوی۔۔۔ قسط ۰۲

حفظ قرآن سے فراغت کے وقت میری عمر کیا تھی، مجھ کو صحیح یاد نہیں ہے، اس قدر ضرور یاد ہے، کہ بعض بعض لوگ میری موجودگی، میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کرتے تھے کہ منشی جی(والد مرحوم) نے ازراہ تفاخر اس کو حافظ مشہور کر دیا ہے، ورنہ ایسے صغیر السن بچے کا حافظ ہونا ممکن ہی نہیں ہے!۔
ان صاحبوں کا یہ کہنا کچھ زیادہ غلط بھی نہ تھا، انہیں میرے حفظ قرآن کی حقیقت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ پہلی دفعہ قرآن شریف تراویح میں سنانے کی تکلیف آج بھی مجھ کو یاد ہے، کہ رمضان المبارک میں سحور سے فارغ ہو کر قرآن شریف لے کر بیٹھ جاتا تھا، ضروریات انسانیہ کے لئے تو ضرور اپنی اس جگہ سے اٹھتا تھا، مگر نماز بھی اسی جگہ پر پڑھتا تھا جس پر قرآن شریف یادکرتا تھا تھا،رات کے آخری حصے سے یاد کرنا شروع کرتا تھا، اور اسی چوکی سے تراویح کے وقت اٹھ کر مسجد چلا جاتا تھا،دو چار پارے پڑھنے نہ ہوتے تھے صرف سوا پارہ سنانا ہوتا تھا، اور وہ بھی اس مشکل سے، اس صورت میں اگر لوگوں کو میرے حافظ ہونے کا انکار تھا تو بیجا نہ تھا۔
رمضان کی چھبیسویں تاریخ اور ستائیسویں شب میں قرآن شریف ختم ہوا،والدین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا،میرے بڑے بھائی بھی خوش تھے،ختم قرآن شریف کی اس رات اس طرح آرام سے سویا، کہ سحر کے لئے مشکل سے اٹھایا جا سکا،اور پھر سو گیا، مجھکو یاد نہیں کہ میں نے اس روز صبح کی نماز پڑھی ہو، والدہ مرحومہ خود بھی نماز کی پابند تھیں، خصوصیت کے ساتھ میری نماز کی نگرانی زیادہ کرتی تھیں، مگر میری تقریباً ایک ماہ کی محنت کا خیال، یا کم عمری کا لحاظ مجھ کو جگانے سے مانع آیا، سو کر اٹھا تو مکتب میں آیا،اور اس امید پر آیا کہ آج مکتب کے بچے اور خود حافظ صاحب بھی میری تعریف کریں گے، مجھ کو یاد نہیں کہ حافظ صاحب نے میری موجودگی میں میری تعریف کبھی بھی کی ہو، مکتب میں حاضر ہوا تو ایک ساتھی نے آہستہ سے فقرہ چست کیا کے ۲۶ دن کے بعد گھر کے جیل خانے سے ان کی رہائی ہوئی۔ حافظ صاحب نے اپنی معمولی سادگی کے ساتھ فرمایا کہ اس حفظ قرآن کا کوئی فائدہ اس کے بغیر نہیں کہ حافظ اسکے معنی سے بھی واقف ہو، اور معانی قرآن کا سمجھنا عربی پڑھنے ہی پر موقوف ہے۔
حافظ صاحب کی کرامت کہیے، یا خدائی قدرت کے کرشمہ،کہ میں نے اسی وقت یہ عزم مصمم کرلیا کہ مجھ کو عربی پڑھنا ہے، اس سے واضح ہو گیا ہو گا کہ میرا عربی پڑھنے کا محرک قرآن شریف ہی ہے۔
یہ ہے میری ابتدا!!
حافظ صاحب ہی نے فارسی کے سلسلے میں مجھ کو آمد نامہ شروع کرایا۔ وہ فارسی کے ماہر نہ تھے۔ مجھ کو یاد ہے کہ مجھ کو گلستاں پڑھاتے وقت مترجم گلستاں سامنے رکھ کر کر ترجمہ کرایا کرتے تھے۔اسی اثنا میں والد مرحوم کی تبدیلی قصبہ تلہرکی ہوئی،میں وہاں پہنچ کر مدرسہ گلشن فیض میں داخل ہوا۔ اس مدرسے میں پچاس سے کچھ اوپر طلباء پڑھتے تھے، ہر طالبعلم فیس ادا کرتا تھا،چنگی سے بھی غالبا ًآٹھ روپے ماہانہ بطور امداد ملا کرتے تھے۔اس مدرسہ میں ایک ہی مدرس جناب مولوی مقصود علی خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ ان کی صرف و نحو بہت اچھی تھی،طرز تعلیم اسی طرز کا تھا جس طرز کا اب سے ساٹھ ستر برس قبل پنجاب یا صوبہ سرحد میں سنا گیا ہے۔ میزان الصرف تو اول سے آخر تک بالفاظہ یاد تھی، منشعب کے ابواب اور صرف صغیر محفوظ تھے، زبدہ بھی باالفاظہا یاد تھا،نحو میں نحو میر اور کافیہ کے آخری چند اوراق کے علاوہ پورا کافیہ یاد تھا، اور اس میں اس قدر شغف تھا، کہ اکثر اوقات سونے کی حالت میں بجائے قرآن شریف کے میزان الصرف یا نحو میر کے الفاظ زبان سے نکلا کرتے تھے۔ میں نے گلستاں بھی از سر نو شروع کی، اس مدرسے میں گلستاں کی جماعت بہت سے فارسی قواعد کے بعد گلستاں پڑھ سکتی تھی،مگر خدا کا شکر ہے کہ مجھ کو قواعد سمجھ لینے کے بعد گلستان میں زیادہ دشواری نہ ہوئی۔ اس اثنا میں والد مرحوم کی پنشن ہوئی، اور میں پھر شاہجہاں پور آگیا۔اس وقت میری تعلیم کے نگراں ایک ایسے بزرگ تھے، جو عربی سے قطعاً نا واقف تھے، ان کی نگرانی کے نقصان ہی نے میرے کئی سال ضائع کر دیے۔اپنی عمر کو ضائع بھی کرتا تھا، مگر خدا کا شکر ہے کہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ میں اپنی عمرضائع کر رہا ہوں۔آخر ایک تدبیر سمجھ میں آئی،اور نگرانی کرنے والے بزرگ سے میں نے کہا کہ میری فارسی کتابیں باقی ہیں، جن صاحب کے پاس آج کل پڑھ رہا ہوں ان کے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہے، اور شاید وہ فارسی نہ بھی پڑھائیں، اس لئے سکندر نامہ پڑھنے کی اجازت مجھ کو دی جائے، کہ مدرسہ عین العلم واقع شاہجہاں پور میں داخل ہوکر پڑھ لوں،حسن اتفاق سے یہ اجازت مل گئی،مدرسہ میں پہنچا تو وہاں کسی استاد کے پاس زیادہ وقت بھی نہیں تھا۔ میری جدوجہد سے میری حالت پر رحم فرما کر حضرت مولانا الحاج المفتی محمد کفایت اللہ صاحب مہتمم مدرسہ امینیہ دہلی نے آدھا گھنٹہ سکندرنامہ پڑھانے کے لئے عطا فرمایا۔ میں نے اسی کو غنیمت سمجھا، چند ہی مہینوں کے بعد اساتذہ کی شفقت نے دو مدرسوں کے چھ گھنٹے ایک جماعت میں داخل کرکے مجھے دے دئے۔اب میری عربی کتابیں بھی اس مدرسے میں ہونے لگیں،اساتذہ کی اس عنایت نے ہماری جماعت کو یہ محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ تحصیل علم میں طلباء کو کیا کیا دشواریاں پیش آتی ہیں! ہم آزاد تھے،پڑھتے وقت جو چاہتے تھے دریافت کرتے تھے، پڑھنے کے بعد مدرسے میں رفعِشکوک تو معمولی بات تھی، جب چاہتے تھے گھروں پر پہنچ جاتے تھے، اور حضرت مولانا سید بشیر احمد صاحب مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کو تو بہت مرتبہ سوتے سے اٹھا کر کتابوں کی عبارت کامطلب دریافت کرنے کی نوبت آئی ہے۔ قادر مطلق ان کی قبر کو انوار رحمت سے بھرے، انکو ہمارے اس طرز سے کبھی کوئی دل تنگی نہ ہوتی تھی۔خارج از اوقات مدرسہ، شرح وقایہ مجھ کو حضرت مفتی صاحب دہلوی مد ظلہ نے دوپہر کا سونا چھوڑ کر پڑھائی ہے۔
اس اثنا میں میرے لیے ایک اور عجیب واقعہ پیش آیا، کہ گھر کے قریب ہی بازار تھا، اس میں آریہ عطار کی دکان تھی، اس کی عمر غالباً ۶۰ برس سے کم نہ ہو گی، میں جب کبھی اس کی دکان پر جاتا تھا، تو تھوڑے سے وقت میں بہت سے اعتراض اسلام پر اور سیرت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ والسلام پر کرتا تھا۔ ان اعتراضوں سے بے چین ہوکر میں اپنے استادوں سے جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا، قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کا مسئلہ میرے لئے لا ینحل مسئلہ ہو گیا تھا، صرفی نحوی شذوذ، قرآن میں موجودتھے ہی،مختصرالمعانی اس وقت تک اگرچہ نہ پڑھی تھی، مگر فارسی قواعد تو معلوم ہی تھے۔ اسی حالت میں دارالعلوم دیوبند پہنچا۔کچھ عرصے کے بعد ضروری کتابوں سے فارغ ہو کر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ سے بیضاوی شروع کی۔ سورہ بقرہ کے اول ہی میں حروف مقطعات کی بحث ہے، مجھ کو حضرت قدس سرہٗ کی تقریر تو یاد نہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اس کو سمجھنے کی مجھ میں اہلیت بھی نہ تھی، مگر اس قدر یقینی ہے کہ وہ پہلا دن تھا جس میں قرآن شریف کی طرف سے یہ ناپاک کھٹک میرے دل سے دور ہوئی۔
یہ ہے میری انتہا!!
اب غالباً میری گزارش سے واضح ہو گیا ہوگا، کہ میرے علم ظاہری کا سبب بھی قرآن شریف ہے، اور عقیدے کی طہارت و نظافت کا سبب بھی قرآن شریف ہی ہے۔
قیام دارالعلوم دیوبند میں، ایسی حالت میں کہ میں نورالانوار پڑھتا تھا، اور ایک اور صاحب جو شریک دورہ تھے، مجھ کو مقامات حریری پڑھانے کے لئے تیار ہوئے۔ ان کی تعلیم نے علوم عربیہ سے محبت پیدا کرادی، اورتو کچھ آیا نہیں مگر ادب کی عظمت دل میں اس قدر ہوگئی کہ حسن ظن رکھنے والے مجھ کوادیب کہتے ہیں، اور میں اپنے دل میں کہا کرتا ہوں:
لو صاحب آفتاب کہاں اور ہم کہاں
احمق بنیں، ہم اس کو نہ سمجھیں اگر غلط
میں نے عرض کیا تھا کہ میری نحو و صرف کی تعلیم ایک ایسے استاد سے ہوئی ہے، جو اس طرز کے معلم تھے جس طرز کے معلم قدیم زمانے میں صوبہ سرحد یا پنجاب میں ہوتے تھے۔ مشکل مشکل صیغوں کی باقاعدہ تعلیلیں، پیچیدہ عبارتوں کی باضابطہ ترکیبیں، پوری پابندی کے ساتھ ہوا کرتی تھیں، اس لئے میں شرح جامی کو ختم کر لینے تک بجز درس نظامی کی نحوی کتابوں کے اور کسی کتاب کا مطالعہ نہ کرسکا۔
جاری