سچی باتیں۔۔۔ اولاد کی تربیت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys

Published in - Other

08:56PM Thu 14 May, 2020

 1925-05-08

اولاد کی تربیت

اگرآپ خود صاحب اولاد ہیں، یا آپ کے کسی عزیز یا دوست کی اولاد آپ کی نگرانی میں ہے، توآپ نے کبھی ان کی تربیت کی طریقوں پر غور فرمایاہے؟ آپ نے کبھی اندازہ کیاہے، کہ اس سے کتنی اہم ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوتی ہیں؟ اور یہ کہ آپ ان ذمہ داریوں کو کس حد تک پوراکررہے ہیں؟ ان بچوں کی آئندہ زندگیوں کا بننا یا بگڑنا، سنورنا یا اُجڑنا، ایک بڑی حد تک آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر بچہ دنیا میں فطرت سلیم کے ساتھ قدم رکھتاہے، اس کو سیدھی راہ سے ہٹاکر غلط راستوں پر ڈالنے والے عمومًا اس کے ماں باپ اور پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ نہ ہو، کہ آپ کا دامن تربیت اس حیثیت سے داغدار نکلے۔ ذرا سوچ لیجئے، کہ کہیں خدانخواستہ آپ کی غفلت وبے توجہی، آپ کی فرداعمال میں اس جرم کے عنوان کا اضافہ تو نہیں کررہی ہے

کیا ’’اچھی تربیت‘‘ انتہائی سختی کے مُرادف ہے؟ کیا یہ مقصد یوں پورا ہوسکتاہے ، کہ بچوں کے دلوں پر حد سے زیادہ رعب وخوف طاری کردیاجائے ، اور انھیں گویا بالکل بے دست وپا بنادیاجائے؟ پھر، کیا ضرورت سے زیادہ دُلار اور پیار مفید ہوگا؟ کیا اچھی تربیت کی غرض یوں حاصل ہوسکتی ہے، کہ اپنے تئیں بالکل بچوں کے ہاتھ میں دے دیاجائے، اور ان کی ہر ضد کو بلا روک ٹوک پوراکرنا ضروری سمجھ لیاجائے؟ تجربہ اس نتیجہ تک پہونچانے کے لئے بالکل کافی ہے، کہ یہ دونوں طریقے، افراط وتفریط پر شامل اور راہ حقیقت سے دور ہیں۔ بچوں کی تربیت سے متعلق سب سے پہلا اور اور سب سے پچھلا جو فرض ایک مسلمان مُربّی پر عائد ہوتاہے، وہ یہ ہے ، کہ انھیں وہ بہترین مسلم بننے کی راہ پر لگائے، کہ بڑے ہوکر ان کا شمار امت اسلامیہ کے قابل فخر فرزندوں میں ہو، وہ خدا کے بہترین بندے ثابت ہوں، ان کے عقیدے درست ہوں، ان کے اعمال صالح ہوں، اور دینی ودنیوی ہرقسم کی فلاح وبرکت اُن کے حصہ میں آسکے۔ اب آپ اپنی جگہ پر سوچئے، کہ آپ اپنے زیر نگرانی بچوں کی تربیت، اسی اصول، اور اسی مقصد کے لئے، کررہے ہیں؟

آج ہمارے ’’شرفاء‘‘ کے بچوں کی عام تربیت کا کیا حال ہے؟ جن بزرگوں کو اپنی شرافت خاندانی پر بڑے دعوے ہیں، وہ مہربانی کرکے یہ دیکھیں، کہ اپنے خُردوں کو واپس ڈھرے پر لگارہے ہیں؟ کتنے بچے ایسے ہیں، جن کے دلوں میں خدائے اسلام ورسول اسلام کی محبت پیدا کی جاتی ہے؟ کتنوں کے ذہن میں اصول اسلام کی وقعت جاگزیں کی جاتی ہے، کتنوں کے دماغ قرآن کے معنی ومفہوم سے روشن کئے جاتے ہیں؟ کتنوں کے سامنے انسان کامل کی زندگی بطور مکمل نمونہ کے پیش کی جاتی ہے؟ کتنوں کے دلوں میں صدیقؓ وفاروقؓ وعثمانؓ وعلیؓ، حسنؓ وحسینؓ کے نقش قدم پر چلنے کی اُمنگ پیدا کی جاتی ہے؟ کتنوں کے سینوں میں خدمت خلق وہمدردی کی پرورش کی جاتی ہے؟ کتنوں کو بتایاجاتاہے کہ غیروں کی غلامی اُن کے لئے شرمناک وباعث ننگ ہے؟ کتنوں کے ذہن نشین کرایاجاتاہے ، کہ آزادی ان کا فطری حق وواجبی ورثہ ہے؟ کتنوں کو خودداری وخود اعتمادی کا درس دیاجاتاہے؟

صورت حال عمومًا ہر جگہ اس کے برعکس ہی نظر آئے گی۔ خدا کی غلامی کے بجائے سرکار کی غلامی کی آواز روز اول سے کانوں میں پڑنے لگتی ہے، ساری کوششوں کا مرکز پہلے دن سے ’’نوکری‘‘ کو قرار دے دیاجاتاہے، غیروں کا ٹھہرایا ہو نصاب، بیگانوں کی بتائی ہوئی کتابیں، اجنبیوں کے بتائے ہوئے قانون وقاعدے، بس انھیں پر وقت پیدائش سے ہمارے بچوں کی ذہنی وقلبی نشوونما ہونے لگتی ہے۔ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا، باعث ننگ سمجھاجاتاہے، بازار سے سودا خریدکرلانا شرافت کے منافی قرار اپاچکاہے، ایثار وتحمل کو ہماری عزت گوارا نہیں کرسکتی۔ کاشتکاری اور چھوٹے پیمانہ پر تجارت کرنا، باپ دادا……کے نام کو بٹہ لگانا ہے، ایک طرف خدا کے قانون توڑنے میں یہ جرأت وبے باکی دوسری طرف یہ شور وفریاد ہے کہ مسلمان ہر طرح ذلیل وخوارذلیل و خوار ہیں ، مٹ چکے ہیں اور مٹتے جاتے ہیں