وہ شب گزیدہ سحر۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی

میں نے آنکھ مسلم قوم پرست تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کھولی جہاں میرے والد اور والدہ دونوں تدریس سے منسلک تھے۔ میں اپنے پ کو بے حد خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میری پرورش اس ادارہ میں ہوئی جو ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر محمد مجیب، ڈاکٹر عابد حسین، مولانا اسلم جیراج پوری اور کیلاٹ صاحب ایسے ممتاز ماہرین تعلیم اور دانشوروں کی کہکشاں سے درخشاں تھا۔ آزادی کے وقت بھڑکنے والے خونریز فرقہ وارانہ فسادات کے دوران کانگریس کا ہم نوا تعلیمی ادارہ جامعہ محاصرے میں تھا۔اس وقت میں ساتویں جماعت میں تھا اور میری عمر گیارہ برس کی تھی۔ یہ ہولناک فرقہ وارانہ فسادات دلی میں آزادی کے فورا بعد ستمبر میں بھڑکے تھے۔ شہر میں ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ہر سو جنون کا دور دورہ تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ شہر کے مضافاتی قصبہ اوکھلا میں جامعہ کے تین سمت کٹّر ہندوؤں کے گاؤں تھے اور چوتھی جانب جمنا کی نہر تھی۔ جامعہ میں گو تعطیلات تھیں لیکن اساتذہ اور وہ طالب علم جو فسادات کی وجہ سے اپنے گھروں کو نہیں جا سکے تھے، جامعہ میں مقیم تھے۔ انہیں قطعی کوئی علم نہیں تھا کہ شہر کا کیا حال ہے۔ ایک رات قرول باغ سے جامعہ کے اشاعتی ادارہ مکتبہ جامعہ میں کام کرنے والے لوگ سخت دہشت اور سراسیمگی کے عالم میں جامعہ آئے۔ ان کے گھر لٹ گئے تھے، بس تن پر اپنے کپڑوں کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ وہ بین کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ صبح سویرے مکتبہ پر بلوائیوں نے اچانک حملہ کیا اور سارا سامان لوٹ کر کتابوں میں آگ لگا دی۔انہوں نے اپنے پڑوسیوں کے ہاں بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملہ کی خبر جیسے ہی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو ملی وہ فوراً وہاں پہنچ گئے۔ مکتبہ میں بھڑکتی آگ دیکھ کر وہ آگ بگولا ہو گئے۔ غصہ میں آپے سے باہر ہوگئے اور چلا چلا کر کہنے لگے ’ظالمو، کم بختو تم کیا کر رہے ہو؟ تمہیں معلوم ہے کہ علم کا کتنا بڑا خزانہ تم جلا رہے ہو؟ یہ قومی ورثہ ہے۔ بلوائیوں نے جب ان کی بات نہ سنی تو نہرو نے دلی کے کمشنر رندھاوا کو، جو وزیر اعظم کی آمد کی خبر سن کر وہاں پہنچ گئے تھے، حکم دیا کہ بلوائیوں پر گولی چلا دی جائے۔ جب رندھاوا نے پس و پیش کی تو ہندوستان کے وزیر اعظم ایک سپاہی پر جھپٹے اور بلوائیوں پر فایرنگ کے لیے اس کے ہاتھ سے بندوق چھیننے کی کوشش کی لیکن رندھاوا اور دوسرے پولس افسر بیچ میں پڑ کر وزیر اعظم نہرو کو ایک طرف لے گئے۔ اس دوران پولس نے لاٹھی چارج کر کے بلوائیوں کو وہاں سے بھگا دیا۔ یہ کیسی بے کسی اور بے بسی تھی نئے نئے آزاد ہندوستان کے وزیر اعظم کی۔ایک عجیب افراتفری اور نراجیت تھی ہر طرف۔ مکتبہ جامعہ کے لٹے پٹے لوگوں کی بپتا سن کر جامعہ میں گھرے ہوئے لوگوں کے دل دھک سے رہ گئے اور ان پر شدید خوف طاری ہوگیا۔ کسی کے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کیا جائے۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین جن پر کشمیر جاتے ہوئے جالندھر کے ریلوے اسٹیشن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی، سخت وحشت کے عالم میں چند روز ہی پہلے جامعہ لوٹے تھے اور ڈاکٹروں نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ مکمل آرام کریں اور گھر سے باہر بالکل نہ نکلیں۔ جامعہ کے لوگ ابھی سراسیمگی کے عالم میں تھے کہ دیکھا ایک سرکاری کار بڑی تیزی سے جامعہ میں داخل ہوئی ہے۔ اس میں سے جواہر لعل نہرو نکلے۔ انہوں نے سب اساتذہ کو اسی میدان میں جمع کیا جہاں ایک سال قبل جامعہ کی سلور جوبلی کی تقریب میں ذاکر صاحب نے ایک ہی اسٹیج پر کانگریس اور مسلم لیگ کے عمایدین کو جمع کیا تھا۔ ایک طرف نہرو، آصف علی، مولانا ابوالکلام آزاد اور راج گوپال اچاریہ تھے اور دوسری جانب قائد اعظم، لیاقت علی خان اور سردار نشتر تھے۔ ذاکر صاحب نے ان سب کو للکارا تھا کہ ملک میں فسادات کی جو آگ لگی ہوئی ہے، وہ بر صغیر کی تہذیب کو خاکستر کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس بات کی چھان بین کا نہیں کہ یہ آگ کس نے لگائی ہے بلکہ وقت اس آگ کو بجھانے کا ہے۔ جواہر لعل نہرو نے جامعہ والوں سے پوچھا کہ آپ کے پاس کتنی بندوقیں ہیں۔ پہلے تو سب ٹھٹھکے۔ پھر جامعہ کے کالج کے سربراہ کیلاٹ صاحب نے کہا کہ ان کے پاس شکار کھیلنے کی چھرے والی دو بندوقیں ہیں۔ مطبخ کے ایک باورچی نے بھی اعتراف کیا کہ اس کے پاس بھی ایک بندوق ہے۔ پھر نہرو نے پوچھا کہ کون سا گاؤں زیادہ خطرناک ہے؟ کسی نے کہا کہ جوگا بائی۔ نہرو نے کہا کہ اس طرف دو بندوقوں کے ساتھ لوگ بٹھائے جائیں۔ ایک بندوق کے ساتھ کچھ لوگوں کو موڑ والے گاؤوں کی طرف پہرے پر مقرر کیا جائے۔ پانچ افراد کو جمنا کی نہر پر تعینات کیا جائے تاکہ وہ نہر پار سے آنے والی دھاڑ پر نظر رکھیں۔ اس زمانہ میں بلوائیوں کے حملہ کو دھاڑ کہا جاتا تھا۔ علامہ مشرقی کے داماد اختر حمید خان نے، جو ثانوی کے نگران مدرسہ تھے، فوراً ایک فوجی کمان دار کی حیثیت سے کمان سنبھال لی۔ جواہر لعل نہرو جاتے ہؤے اپنا اور سردار پٹیل کے ٹیلیفون نمبر دے گئے کہ اگر کوئی دھاڑ آئے یا اور کوئی خطرہ ہو تو فورا مدد طلب کر لی جائے۔ جامعہ والوں کو ہندوستان کے وزیراعظم نہرو کو ایک تعلیمی ادارہ جامعہ کے دفاع کی حکمت عملی وضع کرتے دیکھ کر سخت تعجب بھی ہوا کہ اتنے بڑے ملک کے وزیر اعظم ان کے تحفظ کے لیے یہ تدابیر کر رہا ہے اور ہمت بھی بندھی کہ آخر کوئی پرسان حال تو ہے۔ محمدعلی جوہر، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر مختار انصاری جیسے مسلم قوم پرستوں کے قائم کردہ اس ادارے کے تحفظ کے لیے، جس کے اساتذہ نے آزادی کے لیے قربانیاں دی تھیں، نہرو کی پریشانی تشویش اور تدبیر سے عیاں تھا کہ وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ یہ ایک قرض ہے جو ان پر واجب الادا ہے۔ جامعہ کا محاصرہ چار مہینے تک جاری رہا۔ اس دوران فرقہ وارانہ تشددکے ڈر اور خوف سے برابر کے گاؤں میں جا کر آٹا پسوانے اور کھانے پینے کی اشیا خریدنے کی کسی کو ہمت نہیں تھی۔ چنانچہ ہر شخص کو ایک تنوری روٹی میں سے کاٹ کر ایک چوتھائی حصہ ملتا تھا اور برسوں رکھی ارہر کی دال کھانے کو ملتی تھی، جس میں کیڑے پڑ گئے تھے اور جو کھاتے وقت پلیٹ میں تیرتے نظر آتے تھے۔ بچے زیادہ تر جھر بیری کے بیر توڑ کر اور باغبانی کی مولیاں اور گاجریں کھاکے گزارہ کرتے تھے۔ اسی دوران ایک رات کو جمنا پار سے حملہ آوروں نے جامعہ کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اتفاق سے جامعہ کی عمارت پر تعینات اساتذہ نے دیکھ لیا۔ فورا جواہر لعل نہرو کو ٹیلیفون کیا گیا۔انہوں نے فورادلی آنے والی ٹرین کو جامعہ کے قریب اوکھلا ریلوے اسٹیشن پر رکوا کرجس پر مدراس رجمنٹ کادستہ سفر کر رہا تھا۔عجیب اتفاق کہ جیسے ہی پنڈت نہرو کو ٹیلیفون کیا گیا جمنا پار سے آنے والی دھاڑ واپس چلی گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حملہ آوروں کی جاسوسی بڑی تگڑی تھی۔ بہرحال ایک عرصہ تک مدراس رجمنٹ کا دستہ جامعہ میں تعینات رہا اوراس کے بعد کسی دھاڑ کا خطرہ نہیں رہا۔
جنوری کے اوائل میں گاندھی جی نواکھالی، کلکتہ اور دوسرے فساد زدہ علاقوں کے دورے کے بعد دلی پہنچے تو سیدھے جامعہ آئے، جہاں آس پاس کے دیہاتوں سے بے گھر مسلمانوں کی بڑی تعداد پناہ گزیں تھی۔ گاندھی جی تین گھنٹے سے زیادہ دیر تک جامعہ میں رہے اور سارے وقت ایک چبوترے پر مسلم پناہ گزینوں کے بیچ بیٹھے رہے اور انہیں تسلی اور دلاسہ دیتے رہے۔ بار بار ایک لمبی آہ بھر کر کہتے ’بہت برا ہوا، بہت برا ہوا‘۔ ان کے چہرے سے کرب عیاں تھا، کہہ رہے تھے کہ میں پاکستان جا کر ان سب بھائیوں کو اپنے ساتھ واپس لاؤں گا جو یہاں سے چلے گئے ہیں۔ جاتے ہوئے کہنے لگے کہ میں فسادات کو رکوانے اور پاکستان کی رکی ہوئی پچپن کروڑ رقم ادا کرانے کے لیے مرن برت رکھوں گا۔ چنانچہ دوسرے روز جب گاندھی جی کے مرن برت کی خبر آئی تو فی الفور جامعہ کے اساتذہ اور طلبا شدید ڈر اور خوف کے باوجود محاصرہ سے نکلے اور آس پاس کے دیہاتوں کی گلیوں میں انہوں نے جلوس نکالا۔ وہ نعرہ لگا رہے تھے ’ہندو مسلم ایک ہو جاؤ، گاندھی جی کی جان بچاؤ‘۔ گاندھی جی کا برت پانچ روز تک جاری رہا اور اس دوران فرقہ وارانہ فسادات کی آگ ٹھنڈی ہو گئی اور ہندوستان کی حکومت نے پاکستان کی رکی ہوئی رقم بھی ادا کردی۔ اس زمانہ میں جامعہ میں بجلی نہیں آئی تھی، لالٹینیں اور ہنڈے جلتے تھے لہذا ریڈیو ندارد تھا۔ البتہ میں نے سرمہ کی ڈلی اور کباڑیوں کے ہاں سے پرانے ہیڈ فون کے کینز خرید کر ایک چھوٹا سا ریڈیو بنا رکھا تھا، جس پر صرف دلی اسٹیشن سنائی دیتا تھا۔ تیس جنوری کو اسی ریڈیو پر میں نے یہ خبر سنی کہ گاندھی جی کو پرارتھنا سبھا میں قتل کر دیا گیا۔ قاتل کٹر ہندو نتھو رام گوڈسے تھا۔ میں نے جب بھاگ کر اساتذہ کو یہ خبر سنائی، تو کسی کو بھی یقین نہیں آتا تھا۔ چند ایک نے سرزنش بھی کی کہ کیا الٹی سیدھی خبر پھیلا رہا ہوں لیکن جب انہوں نے آکر میرے ریڈیو پر یہ خبر سنی تب انہیں اعتبار آیا۔ اس کے بعد ایک کہرام مچ گیا، نہ صرف جامعہ میں بلکہ پورے ملک میں۔ لوگوں نے کہا کہ ایک روشنی تھی جو گُل ہوگئی اور ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ گاندھی جی نے ان کے لئے اپنی جان نچھاور کردی۔