Abdul Haleem Mansoor Article
یہی تو وقت ہے، جو ہم نہ سمجھ سکے
کہ ایک عمر لگ جاتی ہے، عمر کو بچاتے ہوئے
اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا محض ایک سہولت یا تفریحی ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ انسانی زندگی کا ایسا طاقتور جزو بن چکا ہے جو سوچنے کے انداز، سماجی رویّوں، تعلقات کی نوعیت اور اقدار کے پیمانوں تک کو متاثر کر رہا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس، اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے جہاں اظہارِ رائے کو نئی وسعت دی، وہیں انسانی وجود کو ایک ایسی ڈیجیٹل گردش میں مبتلا کر دیا جہاں رفتار بڑھتی جا رہی ہے مگر فہم، ٹھہراؤ اور گہرائی بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سہولت خاموش خطرے میں بدلنے لگتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اس کا سامنا بچوں اور نوعمر ذہنوں سے ہوتا ہے۔
یہ حقیقت اب محض اخلاقی تشویش یا سماجی خدشے تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ بن چکی ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔عالمی ادارۂ صحت اور مختلف ممالک میں ہونے والے تحقیقی مطالعات، ماہرینِ نفسیات کی آراء اور تعلیمی اداروں کے مشاہدات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ غیر محدود اور غیر نگرانی شدہ ڈیجیٹل ماحول بچوں میں اضطراب، احساسِ کمتری، تنہائی اور خود اعتمادی کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ اسکرین پر دکھائی جانے والی مصنوعی زندگی، فلٹر شدہ چہرے اور ناپ تول کر پیش کی گئی کامیابی، کم عمر ذہنوں کو یہ باور کرانے لگتی ہے کہ اصل زندگی ناکافی ہے اور خود انسان اپنی اصل حالت میں قابلِ قبول نہیں۔
سوشل میڈیا کی سب سے پیچیدہ اور خطرناک خصوصیت اس کا وہ نفسیاتی نظام ہے جو انسانی توجہ کو قید کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ الگورتھمز اس طرح کام کرتے ہیں کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین سے جڑا رہے، اور بچوں کے لیے یہ عمل خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ ابھی ضبط، اعتدال اور خود نگرانی کی صلاحیت مکمل طور پر حاصل نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً نیند میں کمی، مطالعے سے دوری، توجہ کی کمزوری اور فوری تسکین کی عادت ان کے تعلیمی اور فکری سفر کو متاثر کرتی ہے۔ حقیقی گفتگو، مشاہدہ اور تجربہ آہستہ آہستہ ریلس، شارٹس اور لائکس کے شور میں دبنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بچوں کے لیے ڈیجیٹل ماحول محض تفریح نہیں بلکہ ایک مسلسل نفسیاتی دباؤ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اس کے باوجود یہ کہنا بھی دیانت داری کے خلاف ہوگا کہ سوشل میڈیا سراسر منفی شے ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسی پلیٹ فارم نے تعلیم، معلومات، سماجی بیداری اور اظہار کے بے شمار مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ آن لائن لرننگ، دور دراز افراد سے رابطہ، چھوٹے کاروبار اور تخلیقی اظہار کے دروازے اسی ٹیکنالوجی نے کھولے ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اس کے غیر ذمہ دارانہ، غیر متوازن اور تجارتی مفادات پر مبنی استعمال کا ہے، جہاں انسانی فلاح ثانوی اور منافع اولین ترجیح بن جاتا ہے۔
یہی احساس دنیا کے کئی ممالک کو اس سمت لے گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو محض نجی معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی مسئلہ سمجھیں۔ آسٹریلیا جیسے ممالک میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر براہِ راست پابندیاں عائد کی گئیں، یورپ میں عمر کی حد، والدین کی اجازت اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین کو سخت کیا گیا، جبکہ امریکہ میں مختلف ریاستیں اسکرین ٹائم اور عمر کی تصدیق جیسے اقدامات کی طرف بڑھیں۔ ان تمام فیصلوں کا بنیادی مقصد آزادیٔ اظہار کو محدود کرنا نہیں بلکہ بچوں کو ایک ایسے ڈیجیٹل ماحول سے بچانا ہے جو ان کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔یہ پالیسیاں ابھی تجرباتی مراحل میں ہیں، اور ان کے طویل المدتی نتائج پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
تاہم یہ بحث پوری شدت کے ساتھ جاری ہے کہ آیا مکمل پابندی مسئلے کا حل ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر الگ کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی مفید۔ ان کے نزدیک اصل حل رہنمائی، تربیت، ڈیجیٹل شعور اور والدین و تعلیمی اداروں کی فعال نگرانی میں پوشیدہ ہے۔ یہ مؤقف بھی اپنی جگہ مضبوط ہے، کیونکہ محض پابندی اکثر غیر محفوظ متبادل راستوں کو جنم دیتی ہے اور مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔
ان دونوں زاویوں کے درمیان ایک حقیقت پوری وضاحت سے ابھرتی ہے کہ سوشل میڈیا اب محض فرد کا ذاتی انتخاب نہیں رہا بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن چکا ہے۔ ریاست قانون سازی سے دستبردار نہیں ہو سکتی، والدین لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتے، تعلیمی ادارے خاموش نہیں رہ سکتے اور سوشل میڈیا کمپنیاں محض آزادیٔ اظہار کا حوالہ دے کر اپنی اخلاقی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتیں۔ بچوں کے ڈیٹا کا تحفظ، نقصان دہ مواد کی روک تھام، نفسیاتی اثرات کی نگرانی اور الگورتھم کی شفافیت اب اخلاقی تقاضے نہیں بلکہ سماجی ناگزیریت بن چکی ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر آبادی اور متنوع معاشرے میں یہ مسئلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ یہاں سوشل میڈیا جہاں معلومات اور آواز کا ذریعہ ہے، وہیں افواہوں، نفرت انگیز بیانیے اور جذباتی اشتعال کا بھی طاقتور وسیلہ بن رہا ہے، جس کا سب سے آسان شکار کم عمر ذہن بنتے ہیں۔ اگرچہ یہاں ابھی جامع پابندیوں کا کوئی واضح خاکہ موجود نہیں، مگر ڈیجیٹل لٹریسی، والدین کی شمولیت اور بچوں کے لیے محفوظ آن لائن ماحول کی ضرورت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں غفلت مستقبل کے لیے سنگین سماجی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ڈیجیٹل ناہمواری، کمزور تعلیمی نگرانی اور سماجی دباؤ ہندوستانی بچوں کو دوہرے خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔
آخرکار یہ تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ سوشل میڈیا نہ مکمل نعمت ہے اور نہ مطلق لعنت۔ اصل سوال توازن، حدود اور ذمہ داری کا ہے۔ بچوں کے معاملے میں غیر جانبداری کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ باشعور، مدلل اور دور اندیش فیصلہ سازی ہے۔ ایک ایسا نظام جو بچوں کو محفوظ رکھے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے، انہیں حقیقی دنیا سے جوڑے رکھے اور ساتھ ہی ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں سے باخبر بھی کرے، وہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
haleemmansoor@gmail.com
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
(ضروری نوٹ: اس مضمون میں درج کسی بھی بات سے ادارے کا متفق ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ بھٹکلیس)