Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor

Published in - Other

07:17PM Sat 7 Feb, 2026

غازی آباد میں تین کم سن بہنوں کی المناک موت نے ڈیجیٹل عہد کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر عموماً سنجیدہ مکالمہ کم اور وقتی تشویش زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک گھریلو سانحہ یا چند لمحوں کی خبر نہیں، بلکہ ایک گہرے سماجی بحران کی علامت ہے، جو اس سوال کو ازسرِنو ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ آن لائن دنیا، خصوصاً گیمز اور سوشل پلیٹ فارمز، ہمارے بچوں اور نوعمر ذہنوں پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق 16، 14 اور 12 سالہ تینوں بہنیں ایک آن لائن کوریائی ٹاسک بیسڈ ’’لو گیم‘‘ میں غیر معمولی حد تک ملوث تھیں۔ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وابستگی محض تفریح تک محدود نہیں رہی بلکہ رفتہ رفتہ ان کی نفسیاتی دنیا پر حاوی ہو گئی۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کم عمر بچے آن لائن تجربات اور حقیقی زندگی کے درمیان واضح حد قائم کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب کسی کھیل یا ڈیجیٹل سرگرمی کو محبت، قربانی، راز داری اور ’’آخری امتحان‘‘ جیسے جذباتی تصورات کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ ایسے میں کھیل ایک فرضی مشغلہ نہیں رہتا بلکہ ذہنی دباؤ کی ایک شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اس سانحے کی تفصیلات اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ ایک عینی شاہد کے مطابق تینوں بہنیں بالکونی کے قریب ایک ساتھ نظر آئیں، گویا کسی اجتماعی فیصلے پر پہنچ چکی ہوں۔ یہ منظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاملہ کسی لمحاتی جذباتی ردِعمل کا نہیں بلکہ ایک طویل ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھن کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ فارنزک ماہرین اور تفتیشی ادارے ڈیجیٹل آلات، چیٹس اور گیم سے جڑے ٹاسکس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آن لائن ہدایات اور ڈیجیٹل تعاملات نے ان کم سن ذہنوں پر کس نوعیت کا اثر ڈالا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا کسی ایسے المیے کا سبب بنی ہو۔ 2017 میں ’’بلیو وہیل چیلنج‘‘ نے ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید تشویش پیدا کی تھی۔ اس وقت بھی ابتدا میں ان واقعات کو افواہوں یا انفرادی معاملات کے طور پر نظر انداز کیا گیا، مگر بعد ازاں درجنوں جانوں کا ضیاع اس سوچ کی سنگینی کو آشکار کر گیا۔ غازی آباد کا سانحہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہم نے ماضی کے تجربات سے پوری طرح سبق نہیں سیکھا اور آج بھی بچوں کی ڈیجیٹل دنیا کو سنجیدگی سے سمجھنے میں ناکام ہیں۔

ماہرینِ نفسیات اس نکتے پر متفق ہیں کہ آج کا نوعمر بچہ اسکرین پر موجود اپنے اوتار یا آن لائن شناخت کے ساتھ جذباتی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ آہستہ آہستہ حقیقی زندگی کے مسائل، رشتے اور ذمہ داریاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور ورچوئل دنیا ہی اصل حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کیفیت میں تنہائی، کم گفتگویی، والدین سے فاصلہ اور جذباتی عدم استحکام معمول بن جاتا ہے۔ جب حقیقی دنیا میں سننے والا کوئی نہ ہو تو آن لائن دنیا ایک پُرکشش مگر جھوٹا سہارا فراہم کرتی ہے، جو بعض اوقات خطرناک انجام تک لے جا سکتا ہے۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ آن لائن گیمز یا ٹیکنالوجی بذاتِ خود غلط ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے بچوں کو اس دنیا کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا ہے؟ کیا والدین جانتے ہیں کہ ان کے بچے اسکرین پر کیا دیکھ رہے ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں اور کن ذہنی مراحل سے گزر رہے ہیں؟ اکثر گھروں میں بچوں کی خاموشی یا حد سے زیادہ موبائل استعمال کو مصروفیت یا خود کفالت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہی خاموشی کسی اندرونی اضطراب یا مدد کی غیر محسوس پکار بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بحران صرف خاندان تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی ادارے بھی اس اجتماعی ناکامی کا حصہ ہیں۔ اسکول اور کالج بچوں کو امتحان، مقابلہ اور نتائج کے لیے تو تیار کرتے ہیں، مگر زندگی کے دباؤ، ناکامی کے خوف اور ذہنی الجھنوں سے نمٹنے کی عملی تربیت نہایت محدود ہے۔ ذہنی صحت آج بھی ہمارے تعلیمی نظام میں ایک ثانوی موضوع سمجھی جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ نوعمر بچوں میں اضطراب، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاست اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آن لائن گیمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی حد، مواد کی نگرانی، نفسیاتی انتباہات اور ہنگامی شکایت کے مؤثر نظام کو محض کاغذی ضابطوں تک محدود رکھنا سنگین غفلت کے مترادف ہے۔ ایسے گیمز یا ایپس جو نفسیاتی ہیرا پھیری، جذباتی دباؤ یا خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان کو بڑھاوا دیں، ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ انسانی زندگی کو کاروباری مفاد سے بالاتر رکھنا ہی کسی بھی ریاست کا اصل امتحان ہوتا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو نسلِ نو کا مستقبل ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے ہاتھوں میں کل کی باگ ڈور ہونی چاہیے تھی، مگر ہم نے انہیں ایسے بوجھ تھما دیے ہیں جو ان کے نازک ذہن برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو بظاہر جدید، باخبر اور باصلاحیت ہے، مگر اندرونی طور پر شدید تنہائی، بے یقینی اور دباؤ کا شکار ہے۔ اگر اس حقیقت کو آج سنجیدگی سے تسلیم نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں ایسے سانحات معمول بنتے چلے جائیں گے۔

غازی آباد کا واقعہ ایک واضح وارننگ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچوں کو کنٹرول نہیں بلکہ توجہ کی ضرورت ہے، نگرانی نہیں بلکہ رفاقت کی ضرورت ہے، اور نصیحت نہیں بلکہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ہماری ترجیحات، ہماری خاموشیوں اور ہماری اجتماعی غفلت کا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی نسلِ نو کی ذہنی صحت، جذباتی سلامتی اور انسانی رشتوں کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔

 

غازی آباد کا سانحہ ہمیں صرف افسردہ نہیں کرتا بلکہ بے چین بھی کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم نے ترقی، سہولت اور مصروفیت کے نام پر اپنے بچوں سے گفتگو کا دروازہ کب بند کر دیا۔ آج کا کم سن ذہن شور سے بھری اس دنیا میں سب سے زیادہ توجہ، تحفظ اور رہنمائی کا محتاج ہے، مگر وہی ذہن سب سے زیادہ تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسکرین کے پیچھے چھپی ہوئی دنیا نے رشتوں کی حرارت چھین لی ہے، اور ہم نے خاموشی کو سکون سمجھنے کی خطرناک غلطی کی ہے۔

یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر بچے اپنے خوف، الجھن اور دباؤ کا اظہار والدین، اساتذہ یا سماج سے نہیں کر پا رہے تو وہ کہاں جائیں گے؟ آن لائن کھیل، ورچوئل تعلقات اور ڈیجیٹل چیلنج اسی خلا کو پُر کرتے ہیں، مگر یہ خلا پُر نہیں ہوتا، بلکہ گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ صرف تین زندگیاں نہیں جو ختم ہوئیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور، ہماری ترجیحات اور ہماری ذمہ داریوں پر ایک سوالیہ نشان ثبت ہوا ہے۔

اگر آج بھی ہم نے بچوں کی ذہنی صحت کو محض ایک ضمنی مسئلہ سمجھا، اگر ہم نے مکالمے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی، اور اگر ہم نے ٹیکنالوجی کے استعمال کو اخلاقی اور انسانی دائرے میں رکھنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی، تو آنے والا وقت مزید تلخ خبریں ہمارے سامنے رکھے گا۔ غازی آباد کا واقعہ ہمیں متنبہ کر رہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے—سننے کا، سمجھنے کا اور سنبھالنے کا۔ ورنہ ہم ایک ایسی نسل کے وارث ہوں گے جو سب کچھ جانتی ہوگی، مگر جینے کی طاقت کھو چکی ہوگی۔

 

؎ یہ کیسا دور ہے کہ سب کچھ تو ہے مگر کچھ بھی نہیں

 وہ بات جو دل کو چھو لے، اب دل میں اترتی ہی نہیں