Abdul Haleem Mansoor

Abdul Haleem Mansoor

Published in - Other

06:54PM Sat 10 Jan, 2026

مکان اپنا وہیں تھا، اب تو ویرانی ہے میرؔ

 کیا خبر تھی کہ یوں انجامِ مکاں ہوگا

 

شہرِ گلستان بنگلورو میں بلڈوزر کی گونج اب محض تعمیراتی کارروائی کی آواز نہیں رہی، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعلان بن چکی ہے کہ کمزور طبقات کیلئے شہری زندگی دن بہ دن زیادہ غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ کوگیلو لے آؤٹ کی انہدامی کارروائی کے زخم ابھی مندمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور مسلم اکثریتی علاقہ تھنی سندرا میں ایک اور بلڈوزر کارروائی نے درجنوں خاندانوں کو یکلخت بے گھر کر دیا۔ یہ کارروائی محض زمین کی بازیابی نہیں تھی، بلکہ ان گھروں کی مسماری تھی جو برسوں کی محنت، قرض، زیورات کی قربانی اور بہتر مستقبل کی امید پر تعمیر کیے گئے تھے۔ اس ملبے کے نیچے صرف دیواریں نہیں گریں، بلکہ شہری اعتماد، ریاستی یقین دہانی اور آئینی تحفظ کا تصور بھی دفن ہوتا دکھائی دیا۔

یہ محض اینٹ، سیمنٹ اور لوہے کے ڈھانچوں کی مسماری نہیں تھی بلکہ ان امیدوں کا قتل تھا جو برسوں کی مشقت، قرض، زیورات کی قربانی اور ایک محفوظ مستقبل کے خوابوں سے تعمیر کی گئی تھیں۔ بچے، جن کے لیے گھر ماں کی آغوش جیسا محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے، آج ملبے کے ڈھیر کے سامنے سہمے کھڑے تھے۔ عورتیں اپنے بکھرے ہوئے سامان میں اپنی پوری زندگی تلاش کر رہی تھیں، اور مرد اس سوال کے ساتھ بے بس کھڑے تھے کہ اگر یہ سب غیر قانونی تھا تو ریاست نے انہیں قانونی ہونے کا یقین کیوں دلایا؟

بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کی گئی اس کارروائی میں جن گھروں کو مسمار کیا گیا، ان میں وہ خاندان بھی شامل تھے جنہوں نے چند ہی ماہ قبل اپنی ساری عمر کی کمائی، زیورات، قرض اور امیدیں لگا کر یہ چھت حاصل کی تھی۔ ان کے پاس رجسٹریشن دستاویزات تھیں، ای۔کھاتہ موجود تھا، بجلی اور پانی کے کنکشن تھے اور پراپرٹی ٹیکس کی رسیدیں بھی۔ ایک عام شہری کے لیے یہ تمام چیزیں ریاستی توثیق اور قانونی تحفظ کی علامت ہوتی ہیں، مگر انہدام کے بعد یہ سب کاغذ کے بے جان ٹکڑے بن کر رہ گئے۔

سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ زمین ارکاوتی لے آؤٹ کا حصہ تھی، جو 2004 میں حاصل کی گئی، اور عدالت کی ہدایت پر قائم کیشو نارائن کمیٹی نے 2023 میں بی ڈی اے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ عدالت کا فیصلہ کیا تھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ اگر یہ زمین واقعی بی ڈی اے کی ملکیت تھی تو پھر اسی حکومت کے ماتحت محکمے کس بنیاد پر یہاں ای۔کھاتہ جاری کرتے رہے؟ رجسٹریشن فیس کیوں وصول کی گئی؟ بجلی اور پانی کے کنکشن کیوں دیے گئے؟ اور برسوں تک پراپرٹی ٹیکس کیوں لیا جاتا رہا؟ کیا عدالت کے فیصلے کے بعد بھی عوام کو دھوکے میں رکھنا جائز تھا؟ کیا ریاستی مشینری کا ایک ہاتھ عوام سے پیسہ وصول کرتا رہا اور دوسرا ہاتھ انہی لوگوں کو ’’غیر مجاز‘‘ کہہ کر سڑک پر لا کھڑا کرتا رہا؟ یہ تضاد محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی بددیانتی کے مترادف ہے۔

تھنی سندرا کے متاثرین کا کرب کوگیلو سے مختلف ضرور ہے، مگر تکلیف کی شدت میں کوئی کمی نہیں۔ کوگیلو میں غربت کی لکیر سے نیچے جینے والے بے گھر ہوئے تھے، یہاں وہ متوسط طبقہ نشانہ بنا جو قانونی دستاویزات کے سہارے خود کو نسبتاً محفوظ سمجھتا تھا۔ روحی بانو جیسی خواتین، جنہوں نے 54 لاکھ روپے میں مکان خریدا، 3.9 لاکھ روپے رجسٹریشن پر خرچ کیے، زیورات گروی رکھے، قرض اٹھایا اور اب سود کی قسطوں کے بوجھ تلے دبی ہیں، ان کے لیے یہ انہدامی کارروائی صرف مکان کا نقصان نہیں بلکہ پورے نظام پر اعتماد کے انہدام کے مترادف ہے۔ پانچ ماہ کی حاملہ فردوس کا الزام کہ انہیں واش روم سے زبردستی نکالا گیا، یا سمیہ سلطانہ کا یہ کہنا کہ بغیر نوٹس کے ان کے گھر کو مسمار کر دیا گیا، ان دعوؤں کو محض جذباتی ردِعمل کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہی وہ انسانی پہلو ہے جس پر کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

یہ معاملہ صرف تھنی سندرا تک محدود نہیں رہا بلکہ کوگیلو لے آؤٹ سے جڑ کر ایک بڑے سیاسی اور سماجی بیانیے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دونوں مقامات پر مشترک حقیقت یہ ہے کہ اکثریت مسلمانوں کی ہے اور کارروائیاں شدید سرد موسم میں کی گئیں، جب متاثرین کے لیے متبادل انتظامات محض کاغذی اعلانات تک محدود رہے۔ کوگیلو کے متاثرین آج بھی آسمان کے نیچے بیٹھے اس وعدے کے منتظر ہیں کہ انہیں متبادل رہائش دی جائے گی۔ ابتدا میں کیے گئے وعدوں کے برعکس، حکومت نے بعد میں شرائط عائد کر دیں، جس کے باعث فوری باز آبادکاری کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ یہ تاخیر متاثرین کے لیے دوسری سزا کے مترادف ہے، کیونکہ بے گھری کا کرب وقت کے ساتھ کم نہیں بلکہ بڑھتا جاتا ہے۔

اس انسانی بحران کے بیچ سیاست کا کھیل بھی پوری بے رحمی سے کھیلا جا رہا ہے۔ فقیر کالونی کے دورے کے دوران اپوزیشن لیڈر آر اشوک کے بیانات اور رویے پر شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ کسی متاثرہ مسلم خاتون کی ٹوٹی پھوٹی کنڑا کو بنیاد بنا کر اس کی شہریت پر سوال اٹھانا، ’’بنگلہ دیشی‘‘ ہونے کا شوشہ چھوڑنا اور خوف کا ماحول پیدا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بے گھر افراد کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں سیاسی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ غربت، بے گھری اور عدم تحفظ کے ماحول میں فرقہ وارانہ بیانیہ گھول دینا نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بنگلورو جیسے کثیر الثقافتی شہر کی سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اگر واقعی غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ اتنا ہی سنگین ہے تو پھر یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ سرحدوں کی نگرانی اور داخلی سلامتی کی ذمہ داری کس کی ہے، اور کیا اس ناکامی کا بوجھ بے گھر عورتوں اور بچوں پر ڈالنا انصاف ہے؟

ان حالات میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو مسلم قیادت کی خاموشی یا غیر مؤثر ردِعمل ہے۔ وہ قیادت جس کے سہارے مسلمانوں نے موجودہ حکومت کو اقتدار تک پہنچایا، آج انہدامی پالیسیوں پر واضح، مضبوط اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔ چند رسمی بیانات اور علامتی دورے اس زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم نمائندگی صرف انتخابی موسم تک محدود ہے؟ کیا اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتی ووٹ کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج سڑک پر بیٹھے بے گھر خاندان ہی نہیں، بلکہ پوری مسلم برادری پوچھ رہی ہے۔

یہ تمام واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب بنگلورو میں گریٹر بنگلورو کارپوریشن کے انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا انہدامی کارروائیاں محض انتظامی ضرورت تھیں یا ان کے پیچھے سیاسی مصلحتیں بھی کارفرما ہیں؟ بظاہر یہ کارروائیاں کانگریس کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں، مگر اس سے کہیں بڑا نقصان انسانی اعتماد کا ہے، جو ایک بار ٹوٹ جائے تو محض انتخابی وعدوں سے بحال نہیں ہوتا۔ علماء کرام، ملی اور سماجی تنظیموں کا حکومت کے خلاف محاذ آرائی پر آنا اسی ٹوٹتے اعتماد کی علامت ہے۔ یہ محض احتجاج نہیں بلکہ ایک اخلاقی سوال ہے کہ کیا ترقی کے نام پر انسانی وقار کو کچلا جا سکتا ہے؟

آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تھنی سندرا اور کوگیلو کی انہدامی کارروائیاں صرف زمین کے تنازعے کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی طرزِ حکمرانی، سیاسی نیت اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے ایک کڑا امتحان ہیں۔

 

 اگر حکومت واقعی انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی مشینری کی کوتاہیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، اسے فوری طور پر متاثرین کی باز آبادکاری کا واضح اور غیر مشروط منصوبہ پیش کرنا ہوگا، عارضی نہیں بلکہ مستقل متبادل رہائش فراہم کرنی ہوگی، مالی نقصان کا معقول ازالہ کرنا ہوگا اور اس پورے معاملے میں ذمہ دار افسران اور اداروں کا شفاف احتساب یقینی بنانا ہوگا۔بصورتِ دیگر، یہ انہدامی کارروائیاں تاریخ میں صرف گھروں کے گرنے کے طور پر نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کے ٹوٹنے کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔

 

؀لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

haleemmansoor@gmail.com