محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امرہوی۔ قسط ۰۱

مولانا اعزاز علی امروہوی
ولادت: بدایوں،یکم محرم ۱۳۰۱ھ مطابق /۲ نومبر ۱۸۸۳ء
مشہور تاریخی قصبہ امروہہ( ضلع مراد آباد )کے رہنے والے تھے، مولانا کی عمر ابھی بہت چھوٹی تھی کہ والد صاحب کا بسلسلۂ ملازمت شاہ جہاں پور میں تبادلہ ہوا،یہیں انہوں نے بچپن میں قرآن مجید حفظ کیااور اپنے والد صاحب ہی سے فارسی کی تعلیم حاصل کی،عربی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ’’ گلشن فیض‘‘ تلہر( ضلع شاہجہاں پور )میں، مولانا مقصود علی خان سے حاصل کی ،اور متوسط درجے تک مدرسہ عین العلم شاہجہانپور میں، مولانا مفتی کفایت اللہ اورمولانا قاری بشیر احمد صاحب مراد آبادی سے حاصل کی، آخری درجے کی کتابیں حدیث کی اکثر کتابوں سمیت میرٹھ کے ’’مدرسہ قومی‘‘ میں مولانا عاشق الہی میرٹھی وغیرہ سے پڑھیں، اور دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث کیا اور بعض منتہی کتابیں ماہر اساتذہ سے پڑھیں ۔۱۳۲۱ ھ میں دورہ کے بعد حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے مدرسہ نعمانیہ پورینی ضلع بھاگلپور میں تقریبا ًسات سال تدریسی خدمات انجام دیں ،پھر شاہجہاں پور واپس تشریف لاکر مدرسہ افضل المدارس میں تین سال درس دیا۔۱۳۳۰ ھ میں دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس آپ کا تقرر ہوا۔۱۳۳۹ ھ میں مہتمم دارالعلوم مولانا حافظ محمد احمد صاحب کی معیت میں ریاست حیدرآباد کا سفر کیا ،ریاست کے مفتی تو حافظ محمد امجد صاحب تھے، لیکن دارالافتاء سے متعلق تمام امور مولانا ہی انجام دیتے تھے۔ ایک سال قیام کے بعد دیوبند واپس تشریف لائے، اور۱۳۴۰ ھ میں دارالعلوم کے صدر مفتی کی حیثیت سے آپ کا تقرر ہوا، اور تاریخ دارالعلوم دیوبند کی صراحت کے مطابق دو مرتبہ آپ کو افتاء کا منصب تفویض کیا گیا، پہلی مرتبہ ۱۳۴۷ ھ تک، اور دوسری مرتبہ ۱۳۶۴ ھ سے ۱۳۶۶ھ تک، دارالعلوم میں آپ کی خدمت کی مدت ۴۴سال ہے، فقہ و ادب آپ کا خاص موضوع تھا، شعروسخن کا مذاق بہت اعلیٰ تھا بچپن کی مولود خوانی اور ناول بینی نے آپ کو اردو ادب اور شاعری سے بہت قریب کر دیا تھا ،پھر مولوی خلیل الرحمن (شاگرد جلال لکھنوی) کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ،اور آپ کمسنی ہی سے شاعری کرنے لگے۔ مولانا اردو عربی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے، علمائے دیوبند میں اردو نثر میں ان کو امتیازخاص حاصل تھا ،دارالعلوم کے رسالے’’ القاسم‘‘ اور ’’الرشید ‘‘کی آپنے ایک عرصے تک ادارت کے فرائض انجام دیے۔ مولانا اپنے وقت کے متبحر اور باکمال علماء میں سے تھے، متعدد علوم پر آپ کو دسترس تھی مولانا نے بہت سی درسی کتابوں پر حواشی لکھے ،فقہ میں نورالایضاح ،شرح نقایہ اور کنزالدقائق اور ادب میں دیوان الحماسہ اور دیوان متنبی پر آپ کے حواشی مطبوع اور متداول ہیں،نیز ’’ دنیا کو اسلام سے کس کس طرح روکا گیا ‘‘کہ نام سے ایک کتاب کچھ سال پہلے شائع ہوئی ہے۔
وفات: دیوبند ،/۱۲ رجب ۱۳۷۴ھ،مطابق ۶ /مارچ ۱۹۵۵ء
مدفن: دیوبند
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
موقر اور علمی رسالے’’ الندوہ ‘‘لکھنؤ میں ایک عرصے سے عنوان بالا پر مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ ملک کے ذی علم اور قابل فخر اہل قلم دلکش انداز اور موثر پیرائے میں اس پر طبع آزمائی فرماکر ،اردو ادب میں ایک نئے اور اچھوتے باب کا اضافہ کر رہے ہیں ،سلاست بیان کے ساتھ ساتھ طبائع کی رنگینی نے بھی اس عنوان کو کچھ ایسا دلچسپ بنادیا ہے کہ جدید مضامین تو خود، قدیم مضامین کا اعادہ بھی قند مکرر سے کم نہیں ہوتا ہے ،حتی کہ میں نے اپنے بعض سفروں میں بعض اہل علم کو والہانہ انداز میں اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔
میرے لیے ارشاد ہے کہ میں بھی مذکورہ بالا عنوان پر کچھ لکھوں۔ میں نے اس کی تعمیل بھی کرنی چاہی، اور کئی بار کچھ لکھا بھی، لیکن جب کبھی تمہید کو ختم کرکے اصل موضوع پر عرض حال کا موقع ہوا، تو اس خیال نے قلم کو آگے بڑھنے سے روک دیا کہ اس عنوان پر لکھنا انہیں اصحاب قلم کو زیب دیتا ہے جن پر کتاب نے احسان کیا ہو، اور انہوں نے اہلیت کے ساتھ اس کے احسانات کو قبول کیا ہو، یا مشاہیر کے درجے میں ہوں، تاکہ ان کی آپ بیتی سامعین کو اپنا مشتاق بنائے، یہاں یہ حال ہے کہ تحریر اور مضمون کے شرائط ہی مفقود ہیں ،تو میری گزارش بے وضو کی نماز نہ ہوگی تو کیا ہوگا !مگر ارشاد ہے اور مؤکدارشاد ہے کہ اس پر تجھ کو کچھ نہ کچھ لکھنا ضروری ہے ،پس اگر تعمیل نہ کروں تو کیا کروں !!۔
میرے سب سے بڑے بھائی حافظ تھے، اور والدہ مرحومہ سے سنا ہے کہ بہت اچھا قرآن پڑھا کرتے تھے، ان کی نوعمری کا آغاز ہی تھا کہ دوست احباب کی رائے سے والدین کی بلا اجازت الہ آباد پہنچ گئے، اور پولیس کانسٹیبل بن گئے، طبیعت صالح تھی،چند ہی سال کے بعد سب انسپکٹر پولیس ہوگئے۔ غالباً جس روز سے بغرض تلاش ملازمت نکلے، قرآن شریف کی سورتیں کبھی نماز میں پڑھی ہوں تو پڑھی ہوں، تلاوت کی غرض سے کبھی قرآن شریف ہاتھ میں نہ لیا۔
حفاظ سے سنا ہے کہ قرآن شریف کو یاد کر لینا کچھ مشکل نہیں ہے، اس کو سینے میں محفوظ رکھنا بہت زیادہ مشکل ہے، نتیجہ یہ ہوا ،اور یہی ہوسکتا تھا، کہ سب انسپکٹری تو مل گئی مگر قرآن شریف یاد نہ رکھ سکے۔ والدہ مرحومہ کو اس کا بہت سخت صدمہ تھا۔ ان کے والد( میرے نانا) اگرچہ علماء میں سے نہ تھے ،مگر پرانے لوگوں کی طرح بہت زیادہ دین دار تھے، مجھ سے دو اور بڑے بھائی تھے، ان میں سے ایک نے اردو مڈل پاس کیا، اورریاست گوالیار وغیرہ میں بہ تلاش روزگار تشریف لے گئے ،میرے دوسرے بڑے بھائی نے عربی شروع کی ،اور وہ میزان الصرف سے آگے نہ بڑھنے پائے تھے کہ والد مرحوم کے ایک دوست سید محمد علی صاحب سر رشتہ دار کے اصرار سے عربی چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور انگریزی میں انٹرنس پاس کیا۔
والدہ مرحومہ نے حفظ قرآن کے لیے مجھ کو ایک سن رسیدہ اور معمر حافظ صاحب کے پاس پہنچا دیا ،اور میں حفظ قرآن میں مصروف ہو گیا ،مجھ کو یاد ہے کہ میں ایک روز اسی مکتب میں پڑھ رہا تھا جس میں مجھ کو حفظ قرآن کے لیے بٹھا دیا گیا تھا، کہ اتفاقاً سید محمد علی صاحب مرحوم تشریف لائے، میں حافظ صاحب کے قریب ہی بیٹھا تھا،مجھ کو دیکھ کر فرمایا کہ بچہ کس کا ہے؟ حافظ صاحب نے فرمایا کہ منشی مزاج علی (میرے والد کا نام ہے )کا ۔میںجانتا تھا کہ یہ صاحب میرے والد کے دوست ہیں، اس گفتگو کو سن کراس امید پر ان کو دیکھنے لگا کہ یہ خوش ہونگے، اور میری حوصلہ افزائی فرمائیں گے، مگر’’ خود غلط بودانچہ ماپند اشتیم ‘‘سید صاحب مرحوم کا چہرہ غصہ سے تمتما گیا ،اور بگڑ کر بولے کہ مزاج علی نے یہ کیا حماقت کی کہ اس معصوم بچے کو حفظ قرآن میں لگا دیا! کیا ان کا یہ مقصد ہے کہ اس کو حافظ ہونے کے بعد قبروں پر تلاوت قرآن کی ملازمتیں کرنے اور فاتحہ کے حلوے کھانے پر مجبور کریں!
میں اس وقت بہت ہی چھوٹی عمر کا تھا، بعض الفاظ میں تو توتلا پن بھی تھا، کہ ان کو نقل کرکرکے میرے دوست ہنسا کرتے تھے، اس کم سنی کے باوجود مجھ کو یاد ہے کہ سید صاحب مرحوم کے الفاظ مجھ کو بہت زیادہ گراں گزرے ،اور میں نے ان کے اس کلام کو توہین قرآن کے مرادف سمجھا ۔
سید صاحب مرحوم خود انگریزی تعلیم یافتہ نہ تھے، بلکہ شاید انگریزی کا ایک حرف بھی نہ جانتے تھے، پنج وقتہ نماز پڑھتے تھے، بعض مرتبہ انگریز حاکم کے سامنے پیش شدہ کاغذ کھلے چھوڑ کر نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں چلے آتے تھے، کچہری جاتے تھے، تو عالمانہ وضع کا سیاہ جبہ پہن کر جاتے تھے ،اور غایت دینداری یہ تھی کہ اس علومرتبت کے باوجود، ایام محرم میں مہندی اپنے ننگے سر پر رکھ کر اور ننگے پاؤں چل کر چڑھانے جایا کرتے تھے، آگے آگے باجا بجتا تھا اور پیچھے وہ خودبہیئت کذائی مع اپنے مسلمان عملے کے ہوتے تھے، اس نہایت ہی مقدس رسم میں میں نے بھی کئی سال تک شر کت کی ہے۔
غرض سید صاحب مرحوم کی اس نا محمود سعی نے کامیابی حاصل نہ کی، اور میں حافظ قرآن کے نام سے مشہور ہو گیا۔اس کے بعد ہی میری آنکھوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ سید صاحب مرحوم کی پنشن ہوئی اور اس ضعیفی میں ان کو(خدا جانے) کیوں خیال آیا کہ ان کا چھوٹا بیٹا حافظ قرآن ہو!
سید صاحب مرحوم صاحب ثروت تھے۔ اچھے اچھے استاداس غرض کی انجام دہی کے لیے ملازم رکھے، اور برسوں رکھے، مگر ان کی آرزو پوری ہی نہ ہوئی، میرا تو اب تک یہی خیال ہے کہ شاید خالق عزاسمہ کو سید صاحب مرحوم کی وہ عا جلا نہ توہین پسند نہ ہوئی جو کلام قدیم کی ہوگئی۔
جاری