ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب۔۔۔ قسط -۰۱---- از : محمد راشد شیخ

اگر ہم بر صغیر پاک و ہند کے نامور خاندانوں کے حالات کا مطالعہ کریں تو علم ہوگا کہ پاک و ہند کی دینی و علمی تاریخ میں ایک خاندان ایسا بھی ہے جسے عربی زبان و ادب کا خاص ذوق عطا ہوا اور جس خاندان کے افراد نے عرب سے یہاں منتقل ہوجانے کے باوجودڈیڑھ صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف عربی زبان سے اہل زبان جیسا تعلق برقرار رکھا بلکہ عربی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اس خاندان کے افراد اپنے نام کے ساتھ ’’عرب‘‘ کا لاحقہ طویل عرصے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب مرحومہ اسی خاندان کی ایک نامور ہستی تھیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد عربی زبان سے تعلق کا یہ صدیوں پرانا تعلق منقطع ہوگیا ۔ ان کے خاندان میں نسل در نسل سے عربی زبان و ادب کا جو قوی رشتہ چلا آراہ تھا ،ان کے انتقال کے بعد وہ رشتہ ٹوٹ گیا۔وہ اس مبارک زبان سے طویل تعلق رکھنے والے خاندان کی آخری نشانی تھیں۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے انتقال مورخہ 4جنوری 2016 ء (بمقام دبئی)کے بعد سے اب تک نہ تو ان کی حیات و خدمات سے متعلق کوئی جامع مضمون شائع ہوا او رنہ ہی ہمارے میڈیا نے برصغیر پاک و ہند کی نامور عالمہ اور محققہ پر کوئی پروگرام پیش کیا۔ پیش نظر مضمون تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ قارئین کو ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب مرحومہ کے خانوادے اور ان کی حیات وخدمات سے آگاہ کیا جائے۔کیا عجب کہ اس کی اشاعت کے بعد ان پر مزید تحقیقی کام ہو او رہم ان کی دینی، علمی و ادبی خدمات سے مزید واقف ہوسکیں۔ ابتدا میں ہم مختصراً ڈاکٹر عطیہ صاحبہ کے خانوادے کی مختصر تاریخ بیان کریں گے جس کی تفصیلات ان کے برادر جناب یحیٰ خلیل عرب کی کتاب’’گلزار ِیمن‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اس کے بعد ان کے حالات زندگی اور خدمات پر روشنی ڈالیں گے اور آخر میں راقم ان سے نیازمندانہ اور برادرانہ تعلقات کے حوالے سے کچھ عرض کرے گااور ان کے اشعار کا انتخاب بھی پیش کرے گا۔
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب مرحومہ کا سلسلہ نسب صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہؓ سے ملتا ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے راقم سے فرمایا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہؓ کو مدینہء منورہ سے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تھا۔ اس کے بعد حضرت سعدؓ کی اولاد یمن ہی میں رہی۔ انہی کی اولاد میں سے ایک بزرگ اور فن حدیث کے نامور عالم شیخ حسین عرب تھے جو 1866 ء میں نواب سکندر جہاں بیگم کے عہد حکومت میں یمن سے بھوپال تشریف لائے اور نواب سکندر جہاں کی درخواست پر وہاں درس حدیث کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ یمن واپس چلے گئے لیکن ان کے او ر ان کی اولاد کے مقدر میں یہ بات لکھ دی گئی تھی کہ بقیہ زندگی یمن میں نہیں بلکہ بر صغیر میں گزاریں گے۔کچھ عرصے بعد شیخ حسین یمن سے بغرض حج مکہء مکرمہ پہنچے جہاں ان کی ملاقات اس عہد کے نامور عالم اور متعددکتب کے مصنف نواب صدیق حسن خان (وفات: ۲۰؍فروری ۱۸۹۰ء بمقام بھوپال )سے ہوئی۔ نواب صاحب کا ان سے پہلے ہی تعارف تھا اور انھوں نے گزارش کی کہ شیخ حسین یمن سے مستقلاً بھوپال منتقل ہو جائیں اور درس حدیث کا دوبارہ آغاز کریں۔شیخ حسین اس پر راضی ہو گئے اور 1879 ء میں بھوپال آگئے۔ا ن کی آمد کے بعد اس عہد کے مشاہیر علماء نے شیخ حسین سے حدیث پڑھی تھی جس کی تفصیل کتاب’گلزارِ یمن ‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ شیخ حسین کے صاحبزادے شیخ محمد بن حسین عرب تھے جو بھوپال سے لکھنؤ منتقل ہو گئے تھے اور طویل عرصے تک دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں عربی ادب کے استاد رہے اور وہاں درس ِحدیث بھی دیا۔ شیخ محمد عرب کے صاحبزادے علامہ خلیل عرب تھے جن سے دیگر مشاہیر کے علاوہ برصغیر کے نامور عالم اور عربی داںمولانا سید ابوالحسن علی ندوی ،مولانا ظفر احمد انصاری،مولانا ماہر القادری و دیگر مشاہیر نے مختلف اوقات میں عربی زبان پڑھی ۔مولانا ماہر القادری کی کتاب ’یاد رفتگاں ‘ میں متعدد مقامات پر علامہ خلیل عرب کا ذکر دیکھا جا سکتا ہے۔مولانا ابوالحسن علی ندوی عربی زبان میں مہارت کی وجہ علامہ خلیل عرب سے تلمذکو قرار دیتے تھے اور ان سے تلمذ پر فخرکیا کرتے تھے۔
علامہ خلیل عرب ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب کے والد گرامی تھے جن کا انتقال مورخہ 26 اگست 1966 ء کو کراچی میں ہوا۔ علامہ خلیل عرب کے سسر یعنی ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب کے نانا برصغیر پاک و ہند کے نامورعالم اور مفسرقرآن مولانا سید امیر علی ملیح آبادی (وفات:مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۱۹ء) تھے جن کی تفسیر ’مواہب الرحمن ‘ معروف ہے۔اس طرح ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب کو ددھیال او ر ننھیال دونوں کا علمی فیض حاصل ہوا۔
علامہ خلیل عرب کے نامور شاگرد مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ایک عظیم استادکی پہچان اور علامہ خلیل عرب سے تلمذ کے حوالے سے شعبہء عربی کراچی یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں فرمایا تھا:
’’وہ بہت خوش نصیب انسان یا طالب علم ہے جسے ایسا استاد مل جائے جو حقیقی معنوں میں استاد ہو۔استاد کی بڑی تعریف یہ ہے کہ وہ اپنے طالب علم کو اپنے جیسا بنانے کے لیے حریص اور بے چین ہواور اس کو خوشی ہو اگر اس کا شاگر د اس کی صرف اس کی سرخروئی اور نیک نامی کا باعث نہ ہو بلکہ اس کا تعارف اس شاگرد کے ذریعے کرانے لگیں۔میرا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ میں اس مقام پر فائز ہوں بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس استاد میں یہ جذبہ نہیں ہے کہ وہ طالب علم کو اپنے جیسا بنا دے اور علم کو گھول کر پلا دے جیسے ہم سنا کرتے تھے اپنی مکتبی زندگی میں کہ بھئی یہ گھول کر پلا دیا جائے؟گو،علم کو گھول کر پلا نہیں سکتا لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سچا استاد،فطری استاد،پیدائشی استادجسے انگریزی میںBorn Teacherیا عربی میں استاذ موھوب کہیں گے وہ ماں کے پیٹ سے استاد ہی پیدا ہوتاہے۔اس کا اصل جوہر یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ علم گھول کر پلا دیتا ہے ،پھر وہ اپنا علم ہی منتقل نہیںکرتا بلکہ اپنا ذوق بھی منتقل کر دیتا ہے اور اپنے شاگرد کو اپنے ذوق اور اپنی پسند و نا پسندیدگی کے پیمانے بھی مستقل طور پر دے دیتا ہے ۔یہی ایک استاد کی اصل تعریف ہے........عرب صاحب کے پڑھانے میں یہی سب سے بڑ ی خوبی تھی کہ وہ اپنے طالب علموں میں یہ احساس پیدا کر دیتے تھے کہ عربی گویا تمھاری زبان ہے اور جو اچھے الفاظ محاورے ہیںیہ کسی کی ملکیت نہیں،یہ تمھارے لیے بھی اسی طرح ہیں جیسے ان کے لیے جنھوں نے لکھے ہوں گے البتہ صحیح جگہ استعمال کا سلیقہ چاہیے،تم صحیح جگہ استعمال کروتمھارے بن جائیں گے۔
میرا معاملہ یہ ہے کہ میںنے ’المطالعۃ العربیہ‘ سے لے کر قرآن کریم میںان کی منتخب سورتیں پھر بخاری بھی انھی سے پڑھی۔وہ توحید کا کھرا عقیدہ رکھتے تھے اور قرآن کریم کے جلال و جمال سے خوب واقف تھے اور اس طرح انھوں نے ہمیں بھی اس کا ذوق و شوق ایسا عطا کیا تھا کہ قرآن کی تلاوت اور ایمان کی حلاوت کا صحیح لطف ملااور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک سے عشق ہو گیا ۔تو میں بتا رہا تھا کہ ابتدائی کتاب’ المطالعۃ العربیۃ‘ سے جس کا میں بار ہا تحریر و تقریر میں ذکر کر چکا ہوں ،وہ ان کے خود ساختہ نصاب کی مبادیات میں تھی،عربی ادب کی آخری کتابوں نہج البلاغۃ ،دلائل الاعجاز،حماسۃ ابی تمام،لامیۃ العرب اور رسائل ابی بکر خوارزمی تک میں انھی کا شاگرد ہوں۔‘‘
(ماخوذ از خطاب بمقام شعبہء عربی کراچی یونیورسٹی مورخہ ۹؍جولائی ۱۹۷۸ء)
علامہ خلیل عرب کے دو بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔ ان چھ بہنوں مین سے دو کو برصغیر پاک بند کے دینی و علمی حلقوں میں شہرت حاصل ہوئی یعنی محترمہ رقیہ خلیل عرب (وفات 21 دسمبر 1980 ء) اور ان کی چھوٹی بہن ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب جن کے حالات زندگی ہم آگے بیان کریں گے۔ محترمہ رقیہ خلیل عرب کی اعلیٰ قابلیت کی بنا پر علامہ سید سلیمان ندویؒ نے انہیں برصغیر پاک و ہند کی عربی ادب کی ماہر اور قابل ترین خاتون قرار دیا تھا۔ محترمہ رقیہ خلیل عرب نے بھوپال، حیدرآباد دکن اور کراچی میں عربی اور دینی علوم کی تعلیم دی۔
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب علامہ خلیل عرب کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں لیکن اپنی علمیت ‘ عربی دانی اور نثری و شعری خدمات کی بنا پر سب سے زیادہ آپ ہی کو شہرت حاصل ہوئی۔ آپ مورخہ 27 دسمبر 1943 ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد عربی زبان اور قرآن و حدیث کی تعلیم اپنے والد محترم علامہ خلیل عرب سے حاصل کی۔تقسیم کے بعد آپ بھی اپنے خانوادے کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئیں۔ آپ نے اپنی ذاتی محنت سے میٹرک ‘ انٹر اور بی اے کیا اور ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کراچی کے عربی شعبے میں بھی کام کرتی رہیں۔اس کے علاوہ آپ پاکستان ٹیلی وژن کراچی کے دینی پروگراموں میںبھی شرکت کرتی تھیں۔ آپ نے کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی سے ایم اے عربی کی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کی۔ یہاں آپ کے اساتذہ میں علامہ عبدالعزیز میمن اور ڈاکٹر سید محمد یوسف جیسے ماہر زبان عربی شامل تھے۔ ایم اے عربی کے بعد آپ کا تقرر ۱۹۷۰ء میںشعبہء عربی کراچی یونیورسٹی میں بحیثیت لیکچر ہوگیا جہاں طویل عرصے تک آپ نے طلبہ کو عربی زبان کی تعلیم دی۔اسی دوران آپ نے ریاض کالج برائے خواتین سعودی عرب میں 1983 ء تا 1987 ء عربی زبان کی تعلیم دی۔ شعبۂ عربی جامعہ کراچی میں آپ ترقی کرتے کرتے صدرِ شعبہ کے عہدے تک پہنچیں اور۲۰۰۳ء میں بحیثیت صدر شعبہ ریٹائر ہوگئیں۔ اسی دوران پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بھی تحقیقی کام کرتی رہیں اوراس مقصد کی خاطر سعودی عرب کے علاوہ مصر اور اردن کے کتب خانوں سے استفادہ کیا۔ آپ نے اپنا مقالہ ’’خواتین کی معاشرتی زندگی اور عربی شاعری میں اس کی عکاسی‘‘ پر عربی زبان میں لکھا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر صاحبہ کو فصیح عربی میں گفتگو اور تقریر کرنے میں بڑی مہارت حاصل تھی اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے پروگراموں میں آپ کی عربی گفتگواور تقاریر آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔افسوس ان کے انتقال کے بعد پورے پاکستان میں اس طرح فصیح عربی میں گفتگو کرنے والی خاتون تو کیا کوئی مرد بھی نظر نہیں آتا۔ عام طور پر لوگ ایسے مواقع پر قحط الرجال کا رونا روتے ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد ہمیں ایک نیا محاورہ ’’قحط النساء ‘‘ ایجاد کرنا پڑے گا۔
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب ،عربی زبان و اسلامیات کی عالمہ ہونے کے باوصف ایک معروف نثر نگار اور شاعرہ بھی تھیں۔آپ نے پہلی کتاب صرف ۱۵ برس کی عمر میں لکھی تھی۔ آپ نے سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈاکٹر توفیق الحکیم کی عربی کتاب کا رواں اردو ترجمہ کیا جس کے 1962ء سے 1998ء تک سات ایڈیشن لاہور سے شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ کا شعری مجموعہ ’’سایہ ہے کہ تم ہو‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا جس کی اشاعت ثانی 2003ء میںکراچی سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحبہ کے مقالات، مضامین اور عربی سے اردو تراجم پاک و ہند کے متعدد رسائل و جرائد میں شائع ہوئے ۔آپ نے دوران تدریس، حدیث، سیرت طیبہ اور عربی اور اردو ادب پر متعدد مقالہ نگاروں کی رہنمائی کی۔ ڈاکٹر صاحبہ کو دبئی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے وزیرشیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے 2000ء میں عربی اور اردو زبان میں خدمات کی بنا پر سونے کی شیلڈ بھی عطا کی گئی ۔ ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب نے اپنے والد مکرم علامہ خلیل عرب کی کتاب ’’المطالعۃ العربیۃ‘‘ کا نظر ثانی و اضافہ شدہ ایڈیشن بھی مرتب کیا جسے مجلس نشریات اسلام کراچی نے ۲۰۰۱ء میںشائع کیا۔
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب صاحبہ کو راقم الحروف نے سب سے پہلے قیام حیدرآباد کے دوران ٹی وی پروگراموں میں فصیح عربی اور شیریں اردو میں خطاب کرتے سنا تھا۔ان کی عربی گفتگو اور تقاریرسن کر کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ ان کا تعلق پاک و ہند سے ہے بلکہ یہی لگتا تھا کہ وہ عرب ہیں۔ بعد میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی معروف کتاب ’’پرانے چراغ‘‘ میں علامہ خلیل عرب پر مضمون پڑھ کر ان کے خاندان کی دینی و علمی خدمات اور ان کے والد محترم کے مقام سے آگاہی حاصل ہوئی۔ دوران تعلیم ڈاکٹر صاحبہ سے جامعہ کراچی شعبہ ء عربی میں مختصرملاقاتیں بھی ہوئیں اور ان کی زبانی فصیح عربی میں گفتگو بھی سنی۔ شعبہ ء عربی کراچی یونیورسٹی میںان سے مل کراندازہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ کے مزاج میں شفقت اور چھوٹوں سے محبت کا جذبہ کچھ زیادہ ہی پایا جاتاتھا۔یہی وجہ تھی کہ ان کے طلبہ و طالبات بڑی بے تکلفی سے ان سے گفتگو کرتے نظر آئے۔راقم کا ان سے باقاعدہ تعارف 2000ء میں ہوا جب وہ اپنے والد محترم کی کتاب’ المطالعۃ العربیۃ‘ پر کام کر رہی تھیں اور اس اہم کتاب کی کمپوزنگ کے حوالے فکر مند تھیں۔ الحمد للہ کمپوزنگ کی ذمہ داری راقم الحروف نے قبول کی اور اس کام کو بحسن و خوبی مکمل کرایا۔ اس دوران ان کے فلیٹ(واقع شارع فیصل کراچی) میں متعدد ملاقاتیںہوئیں اور ان کے خاندان اور اکابر خاندان سے متعلق بہت سی باتوں کا علم ہوا۔ڈاکٹر صاحبہ دو مرتبہ غریب خانے پر بھی تشریف لائیں اور ان کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ بہاولپور کی ایک طالبہ ان کے نامور نانا مولانا سید امیر علی ملیح آبادی پر مقالہ لکھ رہی تھیں اور انھیں مولانا سے متعلق ضروری معلومات درکار تھیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی شخصیت کا ایک وصف یہ بھی تھاکہ ابتدائی تعارف کے بعد ہی وہ بے تکلفی کا مظاہرہ کرتیں اورہم جیسے چھوٹوں سے اس طرح تعلق رکھتی تھیں جیسا بڑی بہن چھوٹے بھائی کے ساتھ۔وہ متعدد مرتبہ فون پر طویل گفتگو کرتیں اور اپنے خاندان کی نامور شخصیات کے حوالے سے کئی واقعات سناتیں۔ بعض اوقات وہ تحکم آمیز رویہ بھی رکھتیںجس میں شفقت اور اپنائیت کا عنصر غالب ہوتا۔ان کے مزاج کی یہی شفقت اور محبت تھی کہ ان کا غصہ بھی برا نہیں لگتا بلکہ ان کے غصے میں بھی یہی تعلق خاطر اور شفقت محسو س ہوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ملاقاتوںکے دوران اپنے بزرگوں کے جو جو واقعات سنائے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
۔شیخ حسین عرب یمن سے ہندوستان آکر مقیم ہوگئے تھے اور بقیہ زندگی یہیںگزاری۔وہ حدیث اور عربی زبان و ادب کے بہت بڑے عالم تھے لیکن وہ اردو کے وہ حروف ادا نہیںکر سکتے تھے جو عربی میں رائج نہیں مثلاً وہ لڑکی کو لرکی اور ککڑی کو ککری کہتے تھے۔
۔علامہ عبدالعزیز میمن تمام عمر اس بات پر فخر کرتے رہے کہ انھوں نے اوائل عمری میں دہلی میں شیخ حسین سے حدیث کی سند لی تھی۔اسی وجہ سے وہ ہمیشہ شیخ حسین کی اولاد کا بے حد احترام کرتے تھے۔ایک مرتبہ ڈاکٹر عطیہ صاحبہ علامہ میمن سے ملنے ان کے بہادر آباد(کراچی )والے مکان گئیں۔ڈاکٹر صاحبہ کی گودمیں ان کے چھوٹے صاحب زادے بھی تھے۔ابھی علامہ میمن سے گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ گیٹ پر ممتاز حسن صاحب(نیشنل بینک کے منیجنگ ڈائرکٹر اور کئی علمی اداروں کے سرپرست)ملنے آئے۔علامہ میمن گیٹ پر گئے اور ممتاز حسن صاحب سے کہا کہ اس وقت و ہ ملاقات نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کے استاد کی بیٹی ان سے ملنے آئی ہیں۔اس کے بعد علامہ میمن صحن میں گئے ڈاکٹر صاحبہ کے صاحب زادے کے لیے خود شریفے توڑ کر لائے۔
۔ڈاکٹر صاحبہ تقریباً ہر ملاقات میں اپنے والد محترم علامہ خلیل عرب کا ذکر ضرور کرتیں۔متعدد مرتبہ فرمایا کہ جب مولانا ابوالحسن علی ندوی علامہ خلیل عرب سے عربی پڑھنے جاتے تو وہاں اس قدر سادہ ماحول تھا کہ ایک پرانی چٹائی پر بیٹھنا پڑتا اور کئی مرتبہ علامہ کی جانب سے سزا بھی ملتی لیکن عربی سیکھنے کا اس قدر شوق تھا کہ مولانا نے ہمت نہ ہاری او ر وہ عربی زبان کے اس بلند مقام تک پہنچے کہ اہل زبان بھی انھیںاستاد کا درجہ دیتے تھے۔
۔علامہ خلیل عرب کو عربی زبان کی تعلیم دینے کااس قدر شوق تھا کہ وہ ضعیف العمر ی کے باوجود کراچی کی بسوں میں ذاتی صرفے سے سفر کرکے عربی کے شائقین کو عربی پڑھانے جاتے تھے۔کراچی کے ایک علاقے میں ایک بچی جسے عربی سیکھنے کا بہت شوق تھا وہ بھی علامہ سے روزانہ اسی طرح عربی پڑھتی تھی۔کچھ عرصے بعد اس بچی کے والدین نے اس کی شادی کا فیصلہ کیا۔جب علامہ کو یہ اطلاع ملی تو انھوں نے اس فیصلے کی سختی سے مخالفت کی او ر کہا کہ پہلے بچی کی عربی تعلیم مکمل ہوگی پھر اس کی شادی ہوگی چنانچہ والدین نے علامہ کے فیصلے کے آگے ہار مان لی او ر عربی تعلیم کی تکمیل کے بعد ہی ۔۔۔ شادی کے فرض سے سبک دوش ہوئے۔
جاری