سچی باتیں ۔۔۔ماتم کس کا کریں؟ ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریا بادی

۰۷-۰۸-۱۹۲۵ء
ہندوستان میں کئی سال سے مسئلہ خلافت کا جوچرچا آپ سن رہے ہیں، اور جس کی بابت چند سال اُدھر بہت جوش وخروش تھا، جو اب دھیما ہوگیاہے، کیا یہ مسئلہ جدید ونوپیداتھا؟ کیا اس ’’شورش‘‘ کو آج کل کے چند مولویوں نے گڑھ لیاتھا؟ کیا یہ سارا ’’شروفساد‘‘ خلافت کمیٹیوں کا پیدا کیاہواتھا؟ کیا یہ ’’ غل وشور‘‘ شوکت علی ومحمد علی نے خواہ مخواہ برپاکررکھاتھا؟ کیا یہ ساری تحریک محض ایک ’’سیاسی شورش‘‘ تھی؟ کیا مذہبی حیثیت سے آپ کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہ تھی؟ کیا بحیثیت ایک مسلم کے، آپ کے لئے اس میں شرکت وعدم شرکت یکساں تھی؟
آپ کو یہ معلوم ہے ، آدم علیہ السلام کی پیدائش کی غرض کیاتھی؟ یہ کہ زمین پر خدا کی خلافت قائم ہو۔ زمین پر خلافت الٰہی کے انعام کا وعدہ کن سے کیاگیاہے؟ خدا کے بہترین بندوں سے۔ داود وسلیمان علیہما السلام کون تھے؟ اللہ کے بہترین خلیفہ ، محمد رسول اللہﷺ کے سب سے بڑی فضیلت و بزرگی کیاہے؟ یہ کہ اُنھوں نے کامل ترین خلافت الٰہی کا عملی نمونہ دکھادیا۔ رسول خدا ﷺ کی وفات کے وقت ، اکثر اکابر صحابہ نے جسم مبارک کی تجہیز وتکفین سے بھی زیادہ اہم وضروری کس کام کو سمجھاتھا؟ خلافت کے صحیح انتظام، اور خلیفہ کے انتخاب کو۔ ابو بکرؓ وعمرؓ، عثمانؓ وعلیؓ کون تھے؟ رسول اکرمؐ کے بہترین خلفاء۔ علی مرتضیؓ کو خود مسلمانوں کے مقابلہ میں باربار کیوں فوج کشی کی ضرورت پڑی؟ محض خلافت اسلامی کے قائم وبرقرار رکھنے کے لئے ، کیا شے ہے، جو رسول اللہؐ کی وفات کے تقریبًا تیس سال بعد مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہی؟ اور جو آج تک واپس نہ آسکی؟ محض خلافتِ راشدہ۔ امام حسن علیہ السلام نے کس غرض سے جام شہادت نوش فرمایا؟ محض خلافتِ حقّہ کی حمایت، اور ایک فاسق وفاجر خلیفہ کی مخالفت میں۔ معرکہ کربلا کی بنیاد کیاتھی؟ محض حقِ خلافت۔
جو شے تاریخ اسلام میں اس درجہ اہمیت رکھتی ہے، کیا آپ کے نزدیک اُس کا مرتبہ محض ایک ’’سیاسی شورش‘‘ کا ہے؟ جو مسئلہ تاریخ عالم کے ہر دور میں، خدا اور اُس کے رسولوں کو اس قدر عزیز رہاہے، کیا آپ محض اس لئے اُس سے بے التفاتی برتتے میں حق بجانب ہوسکتے ہیں، کہ کسی خاص جماعت یا بعض اشخاص سے اس کا کام چلانے میں نادانیاں یا کوتاہیاں واقع ہوئیں؟ جس مقصد کے لئے اللہ کے نیک وبرگزیدہ بندے ہرزمانہ میں اپنے سر اور اپنی جانیں نذر کرچکے ہیں، کیا آپ اُس کے لئے مالی قربانی کرنے کو بھی تیار نہیں؟ آپ مُحرّم میں بیشمار دولت لُٹاتے رہتے ہیں، جس سے نہ آپ کے دین کا فائدہ ہے نہ دنیا کا، کیا یہ مناسب نہ ہوگا ، کہ آپ اس دولت کو اس مقصد کے حاصل کرنے میں لگائیں، جو امام حسینؑ کو سب سے زیادہ عزیز تھا، اور جس کے لئے خدا کے اس پیارے نے اپنی جان تک دے دی تھی؟ کیا شہید کربلا کی یادگار قائم کرنے کا یہ بہترین طریقہ نہیں، کہ آپ بھی ظالم حکومت کے تسلیم کرنے سے گریز کریں، اور راہِ حق پر قائم رہ کر سخت سے سخت مصائب برداشت کریں؟ ماتم امام مظلوم پر نہ کیجئے، کہ ان کی موت قابل ماتم نہیں قابلِ رشک تھی ، بلکہ اپنی غفلت وبے بسی پر ماتم کیجئے۔ آنسو اُن کے حال پر نہ بہائیے، کہ وہ جوانان بہشت کے سردار ہم سب سے کہیں بہتر حال میں ہیں، بلکہ اپنی محرومی وشومیِ بخت پر آنسو بہائیے، کہ غلامی کی لعنت میں گرفتار ہوکر ، اپنے پَیر کی بیڑیوں کو کاٹنے کے بجائے چومتے جاتے ہیں۔ نوحہ اور مرثیہ اُن پر نہ پڑھئے، کہ وہ رضائے الٰہی کے بہترین انعامات سے لطف اٹھارہے ہیں، بلکہ اپنی بے ہمتی وپست نظری پر نوحہ خوانی کیجئے، کہ خدا کی بخشی ہوئی آزادی کے مقابلہ میں کتنے کھوٹے داموں بندوں کی غلامی کو خرید چکے ہیں! غم وماتم کے قابل اُس سچے شہید، اُس پکے مسلمان، اُس پاک بندے کا انجام نہیں، بلکہ خود ہماری موجودہ جہالت ونادانی ہے، جس کی بناپر ہم دھوکہ کو حقیقت، پوست مفرّ، اور تاریکی کو روشنی سمجھ رہے ہیں!