بات سے بات: ،مولانا لطف اللہ مظہر رشادی ۔۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
آپ سے بڑے تھے۔مفتی اشرفعلی صاحب نے جانشین کی حیثیت سے اپنے والد ماجد کے مشن کو آگے بڑھایا، مولانا ولی اللہ مرحوم وانمباڑی کے تاریخی دینی تعلیمی ادارے معدن العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔قاری امداد اللہ کو اب لوگ کم یاد کرتے ہیں، عین جوانی میں آپ کی وفات ہوئی تھی، بڑے ہنس مکھ اور منلسار تھے، اپنے آواز کی خوبصورتی اور مخارج پر قدرت کی وجہ سے قارئین قرآن میں بڑا مقام رکھتے تھے، ملیشیا اور قراءت کے عالمی مقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ مفتی اشرفعلی صاحب کی تین سال قبل رحلت کے بعد مولانا لطف اللہ صاحب ہی اپنے عظیم والد کی آخری یادگار تھے۔