عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ۔ ۰۴۔... تحریر: عبد المتین منیری

جامعہ کا قیام ایسے وقت میں ہواجب کہ جماعتی اختلاف کا گھاؤ بھٹکل کے جسم سے ابھی رس رہاتھا، آپ کی نبض شناسی نے اس ادارے کووحدت کاایک نشان بنادیا، ’’خذ ماصفا ودع ماکدر‘‘آپ کامطمح نظررہا، وہ تحریک خلافت کے پروردہ تھے، اختلاف مسلک ومذہب کوبھلا کرمسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پرلانے والی ایسی ملی تحریک برصغیرنے نہ پہلے دیکھی ، نہ اس کے بعد ۔
مولانا کا یہی جذبہ تھا جس کے تحت مولانانے اپنے عزیزترین شاگردوں اورجامعہ کی اولین نسل کومولانا محمداسماعیل اکرمی علیہ الرحمہ عرف دھاکلو بھاؤ خلفو قاضی وخطیب خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کرنے بھیج دیا، آپ کے شاگرداب بھی وہ واقعہ یاد کرتے ہیں جب مولانا اسماعیل کی آنکھیں شدت جذبات سے چھلک پڑی تھیں اورفرمایا تھاکہ فراغت کے بیس سال بعد پہلی مرتبہ اس شہربھٹکل میں آپ کی حقیقی عزت افزائی ہوئی ہے کیونکہ ایک عالم دین کیلئے مسند تدریس پانے سے بڑھ کرکوئی انعام نہیں ہوسکتا، اس وقت مولانا اسماعیل کوعمرمیں پہلی مرتبہ فقہ شافعی کی منتہی عربی کتابیں پڑھنے والے طلبہ میسرہوئے تھے ورنہ اس سے قبل مولانا زیادہ سے زیادہ سرتاج جیسی اردوکتابیں طلبہ کی مخصوص جماعت کوپڑھاتے آئے تھے ۔
مولاناکی طبیعت کوجماعتی گروہ بندیوں سے کوئی میل نہیں تھا، وہ طلبہ کوبھی ایام طالب علمی میں صرف طالب علم دیکھناچاہتے تھے، انہیں ایام طالب علمی میں کسی طالب علم کوجلسہ جلوسوں، سماجی سرگرمیوں میں دیکھنا سخت ناپسند تھا، آپ کے عزیز شاگرد منیری صاحب نے ایام طالب علمی میں یوم جوہرکے موقع پران کی اطلاع کے بغیر ایک جلسہ میں جاکر دھواں دھارتقریرکی، جب مولانا کواس کاپتہ چلا تو کئی روزتک اپنے اس چہیتے سے بات بند رکھی اورفرمایا کہ جب تک چڑیا کا بچہ مکمل طورپراڑنے کے قابل نہیں ہوجاتا، چڑیا اس کی حفاظت کرتی اوراسے اڑنے سے روکتے رہتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ بغیرقدرت کاملہ کے اس کا بچہ اڑنے کی کوشش کرے گا تویا گرکرمرجائے گا یا پھرکوئی چیل اسے جھپٹ کراڑ جائے گی ۔
جامعہ میں بھی آپ کایہ اندازبرقراررہا، ہمارے استاذ جناب کافشی احمد بن عبدالرزاق نے ہم چند طالب علموں سے سیرت النبی پرتقریرمیں انعام پانے کی خوشی میں شیرورناخدا محلہ کی مسجد میں تقریرکا مظاہرہ کروایا تومولانا مارے غصے کے تلملا اٹھے۔
اسی طرح علوہ مسجد کے اس وقت کے امام صاحب کے درس قرآن میں طلبہ نے بعدعشاء شرکت کرنی شروع کردی اورہوم ورک میں فرق آنے لگا تواس موقعہ پر ہوئی مولانا کی تلخی اب تک لوگوں کویادہے ۔
مولانا طلبہ سے ہوم ورک لینے میں بہت سخت تھے، تمرین الصرف میں گردان کی ایک غلطی پرایک رات میں سوسوگردانیں لکھنی پڑتی تھیں، مولانا کی یہی محنت، طلبہ ووالدین کی تابعداری سے جامعہ میں اس وقت تعلیم ا کا جومعیاربنا دوبارہ اس کی نظیر نہ بن سکی۔
مولانا نے اپنے طلبہ پراتنی محنت کی کہ کہاں ۱۹۶۳ء میں یہ احساس کہ وقت کتنا تھوڑا اورکام کتنا بڑا، مقصد براری کی راہ کتنی لمبی ،اتنی کہ ہم جیسے سن سفیدہ لوگوں کے دماغ میں کامیابی کی جھلک بھی پیداکرسکے؟، اس راہ سے منزل تک پندرہ برس سے کم میں رسائی نہ کی اورکہاں محنت کایہ پھل کہ تین چارسال بعد جامعہ کی پہلی جماعت نے ندوۃالعلماء میں داخلہ لیا تومعیارکایہ عالم کہ درجہ ہفتم عربی میں داخلہ ہوگیا اور آپ کی جامعہ سے رخصت کے ایک سال کے اندر جامعہ کی عربی جماعت کا پہلاطالب علم محمداقبال بن حسین ملا ندوہ سے فارغ التحصیل ہوکرجامعہ کی مسند تدریس پرجلوہ فگن ہوگیا، کاش اس وقت مولانا اپنے لگائے ہوئے درخت کوپھل دیتے ہوئے دیکھنے کیلئے جامعہ میں موجود ہوتے توکتنے خوش ہوتے۔ لیکن قدرت کوکچھ اورمنظورتھا، اب ان تلخیوں کویاد کرکے زخموں کوہراکرنے اوراوردل کودکھی کرنے کا کیافائدہ ؟
اپنے پیرومرشد مولانا نگرامی کے لگائے ہوئے پودے ’سچ‘ لکھنؤ اور پھر ’صدق‘ و’صدق جدید‘سے آپ کودلی لگاؤتھا، اس ناطے مولاناعبدالماجد دریابادی ؒ سے ربط وتعلق تھا، مولانا نے بھٹکل کے لکھنے پڑھنے والوں کومولانادریابادیؒ کی تحریروں کا اتنا گرویدہ بنایا کہ جامعہ آباد کے افتتاح کے موقع پرمولانادریابادی نے لکھا کہ میرے جتنے معتقد شہربھٹکل میں ہیں کسی دوسری جگہ اتنی تعداد میں یکجا نہیں ۔
عمرمیں بڑے ہونے کے باوجود اپنے خورد مولانا سید ابوالحسن ندوی رحمۃ اﷲ علیہ کا دل سے احترام کرتے تھے اورجب ۱۹۶۷ء میں حضرت مولانا پہلی مرتبہ بھٹکل تشریف لائے تواپنے خورد کی عزت ومقبولیت دیکھ کرشدت جذبات سے لپٹ کرروپڑے، رواداری کے ایسے مناظراب کہاں سے ڈھونڈلائیں؟ انہیں آنکھیں ترس رہی ہیں ۔